جہانگیرترین ہمارے دوست ہیں اور اب بھی پارٹی میں ہیں، چوہدری سرور

جہانگیرترین نے آج تک پارٹی کیخلاف کچھ نہیں کیا، پارٹی میں گروپنگ اورنچلی سطح پرایشوز ہیں،عمران خان کے فیصلے کو ہم چیلنج نہیں کرتے، استعفوں کا مجھے تو خود میڈیا سے پتہ چلتا ہے۔ گورنر پنجاب کی میڈیا سے گفتگو

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ 26 جنوری 2022 18:32

جہانگیرترین ہمارے دوست ہیں اور اب بھی پارٹی میں ہیں، چوہدری سرور
ملتان (اردوپوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 26 جنوری 2022ء) گورنر پنجاب چودھری سرور نے کہا ہے کہ جہانگیرترین ہمارے دوست ہیں اور اب بھی پارٹی میں ہیں، جہانگیرترین نے آج تک پارٹی کیخلاف کچھ نہیں کیا، پارٹی میں گروپنگ اورنچلی سطح پر ایشوز ہیں، عمران خان کے فیصلے کو ہم چیلنج نہیں کرتے، استعفوں کا مجھے تو خود میڈیا سے پتہ چلتا ہے۔ ہم نیوز کے مطابق گورنر پنجاب چودھری سرور نے ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے جتنے بھی وائس چانسلرز لگائے سب میرٹ پر ہیں، لوگوں کو پینے کا پانی مہیا کرنا میرا مشن ہے، ہم روزانہ فلٹریشن پلانٹس کا افتتاح کر رہے ہیں، 31 مارچ تک ڈیڑھ کروڑ لوگوں کو پینے کا صاف پانی مہیا کر چکے ہوں گے، ایک ہزار سولر ہینڈ پمپز لگائے جائیں گے۔

گورنر پنجاب چودھری سرور نے کہا کہ اپوزیشن کا رول میڈیا ادا کر رہا ہے، مئیر کا انتخاب پارٹی کرے گی، ڈسڑکٹ مئیرز کو شارٹ لسٹ کمیٹی کرے گی، میئرز سے متعلق حتمی فیصلہ وزیراعظم عمران خان کریں گے۔

(جاری ہے)

چودھری سرور نے کہا کہ گورنر ہاؤس میں میری رہائش نہیں ہے، گورنر ہاؤس کے دروازے عام لوگوں کے لیے کھلے ہیں، پارٹی میں گروپنگ تھی،نچلی سطح پر ایشوز ہیں، عمران خان کے فیصلے کو ہم چیلنج نہیں کرتے۔

گورنر پنجاب چودھری سرور نے کہا کہ جہانگیرترین ہمارے دوست ہیں وہ اب بھی پارٹی میں ہیں، جہانگیرترین نے آج تک پارٹی کیخلاف کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ استعفوں کا مجھے تو خود میڈیا سے پتہ چلتا ہے۔ مزید برآں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری کا ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہنا ہے کہ ہم منظم مافیا کا سامنا کر رہے ہیں، عالمی بینک پاکستان کی 5.37 فیصد ترقی کی تصدیق کر رہا ہے، کورونا  وائرس کی وبا سے نمٹنے کی حکومتی پالیسیوں کی عالمی سطح پر تعریف ہو رہی ہے تو ایسے وقت میں ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل کی بے سروپا رپورٹ آتی ہے جس کا سر ہے نہ پیر اور ایک پریس ریلیز پر ہیڈ لائنیں لگ جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹرانسپیرینسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کہتی ہے کہ پاکستان میں رول آف لاء میں تنزلی ہوئی لیکن کسی کو نہیں پتا وہ یہ کیوں کہہ رہے ہیں؟ رپورٹ میں مالیاتی کرپشن کا تذکرہ بھی نہیں لیکن پریس ریلیز میں ایسے قصے جوڑے گئے کہ  کرپٹ اپوزیشن کی بھی جرات ہوئی کہ حکومت پر تنقید کرے۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ اور فضل الرحمان عمران خان کی حکومت کو کرپٹ کہیں، اسے آسمان پر تھوکنا کہتے ہیں۔

ملتان شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments