ملک میں امن و امان کی صورت حال کو بہتر کرنے کیلئے پولیس اور میڈیا کو مل کر کام کرنا ہوگا،ایک دوسرے پر فوقیت لے جانے کے چکر میں اداروں کا وقار پامال نہیںکرنا چاہئے

ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس عثمان خٹک کا تین روزہ ورکشاپ سے خطاب

پیر نومبر 21:32

ملتان(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 نومبر2016ء) ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس عثمان خٹک نے کہا کہ ملک میں امن و امان کی صورت حال کو بہتر کرنے کے لئے پولیس اور میڈیا کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ایک دوسرے پر فوقیت لے جانے کے چکر میں اداروں کا وقار پامال نہیںکرنا چاہئے۔اگر پولیس اور میڈیا آپس میں الجھتا رہا تو بین الاقوامی سطح پر ملک کا تشخص متاثر ہوگا جو کہ پاکستان کے کسی بھی شہری کو ہرگز گوارا نہیں ہے۔

ان خیالات کا اظہار اے آئی جی عثمان خٹک نے میڈیا اور پولیس کے باہمی تعاون پر مبنی تین روزہ ورکشاپ کے اختتامی سیشن میں کیا۔ایڈیشنل آئی جی نے کہا کہ وہ ساری رات سوچتے رہے کہ میڈیا کو کس چیز سے تشبیہ دیں آخر کار ان کے ذہن میں ہوا کا صیغہ آیا۔انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل میڈیا کی اپنی روایات ہیں ہمیں بھی اپنی روایات کو برقرار رکھنا چاہئے۔

(جاری ہے)

پولیس ہو یا میڈیا چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال نہیں ہوناچاہئے۔بریکنگ کے چکر میں کسی انسان ’’بریک‘‘ نہیں کرناچاہئے۔ڈی آئی جی آپریشنز پنجاب عامر ذوالفقار نے کہا کہ پنجاب پولیس نے امن وامان کی خاطر اپنی جان کے نذرانے پیش کئے ہیں ۔اب تک پنجاب پولیس میں ڈیڑھ ہزار شہادتیں ہوچکی ہیں۔کئی صحافیوں نے بھی فرائض کی ادائیگی کے دوران جام شہادت نوش کیا۔

کسی بھی علاقے یا محکمے سے جاں بحق ہونے والا جوا ن ہمارا اپنا بچہ ہے۔ہمیں یہ مان لینا چاہئے کہ یہ جنگ صرف بندوقوں سے نہیں جیتی جاسکتی۔میڈیا کا قلم وہ طاقت ہے جس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔آج کل کے جدید دور میں زورِ قلم سے جنگ جیتی جاسکتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ قلم معاشرے میں سے خوف مٹانے اور ظالم کے ظلم کو کاٹنے کے لئے استعمال ہو۔

ڈی آئی جی نے کہا کہ ایک سروے کے مطابق یہ قوم 54ارب روپے خیرات کرتی ہے اب صرف نیت کافی نہیں ہے ۔دکانوں میں رکھے ہوئے خیراتی ڈبہ میں پیسے ڈالنے سے پہلے دیکھ لیں کہ یہ کسی ممنوع تنظیم کا تو نہیں ۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان پیس کلکٹوبشریٰ تسکین نے کہا کہ پولیس سے متعلق میڈیا کی شکایات دور کرنے کے لئے ڈی پی آرآفس آئی جی آفس میں موجود ہے۔

ڈی پی آر صاحب سے صوبہ بھر کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ز یا سٹی پولیس آفیسر کے پی آر اوز ہفتے کے سات دن اور دن کے چوبیس گھنٹے رابطہ میں رہیں گے۔اس طرح میڈیا کو انفارمیشن کے حصول میں آسانی رہے گی۔اس موقع پر ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز نایاب حیدر نے اپنا ذاتی نمبر بھی تمام صحافیوں کو لکھوایا اور کہا کہ رات کے دو بجے بھی ان سے کسی بھی واقع کی مکمل انفارمیشن لے سکتے ہیں۔

اس موقع پر اوپن فارم کے تحت پولیس افسران اور میڈیا کے نمائندوں کے درمیان مختلف مسائل پر مباحثہ بھی ہوا۔پولیس افسران نے کہاکہ صحافیوں کو کرپشن یا دوسری بے ضابطگیوں کے بارے میں ضرورپوچھ تاچھ کرنی چاہئے مگر انتظامی معاملات خاص طور پر ٹرانسفر وپوسٹنگ میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔خبرمیں تنقید کی بجائے اصلاح کا پہلو ہونا ضروری ہے۔کسی غلط کام کی نشان دہی کرتے وقت صحافی کو ذاتیات پر نہیں اترنا چاہئے۔

معاملہ کی نوعیت کی سنگینی کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا یا غلط خبر دینا بھی صحافت کا اصول نہیں ۔پولیس افسران نے کہا کہ مختلف جگہوں پر صحافی بھائیوں کے مختلف گروپ ہوتے ہیں ۔الگ الگ بلانے پر بھی وہ ناراض ہوتے ہیں اکٹھے بھی نہیں آتے ہیں۔سیمینار میں صحافیوں نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔پولیس ہو یا صحافی دونوں میں اچھے برے لوگ موجود ہوتے ہیں۔

جس طرح صحافی اچھے اور برے پولیس والے کی پہچان رکھتے ہیں اس طرح پولیس والوں کو بھی پہچان رکھنا چاہئے۔صحافیوں کے ساتھ پولیس والے بُرا برتائو کرتے ہیں اور کوئی بھی انفارمیشن دینے سے گریزاں ہوتے ہیں۔دورِ جدید میں اکثر خبر پہلے صحافی بریک کرتا ہے پھر پولیس کے پاس جاتی ہے۔ایسے میں اگر ڈسٹرکٹ افسر کا موقف نہیں ملتا تو دکھ ہوتا ہے۔ایک صحافی نے کہا کہ پولیس کو میڈیا کے لئے بھی کوئی ہیلپ لائن متعارف کرانی چاہئے۔

اگر غلط خبر دینا درست شعار نہیں تو صحافیوں کو ڈرانا دھمکانا بھی ٹھیک نہیں۔ملتان میں الیکشن کے لئے گروپ ضرور بنتے ہیں مگر عام حالات میں تمام صحافی یک جان دو قالب ہیں۔سیمینار میں آر پی اوملتان سلطان اعظم تیموری ،سی پی اوملتان ،ایس ایس پی ملتان چوہدری سلیم،ڈویژن کے تمام ڈسٹرکٹ پولیس افسران اور پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندگان بھی موجودتھے۔تقریب میںپولیس اور فوج کے شہید ہوجانے والے جوانوں کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی ۔سیمینار کے آخر میں تمام پولیس افسران میں سرٹیفکیٹ بھی تقسیم کئے گئے۔

متعلقہ عنوان :

ملتان شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments