امریکا نے مشرق وسطی میںبی 52بمبار طیارے تعینات کر دئیے

ایرانی تنصیبات کے خلاف کارروائی سے ٹرمپ کی مدت صدارت کے آخری وقت تنازع کھڑا ہو سکتا ہے،جنرل مارک میلی

اتوار نومبر 16:25

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 نومبر2020ء) امریکی فوج کی مرکزی کمان نے کہاہے کہ اس نے گذشتہ روز ہفتے کو مشرق وسطی میں بی 52بم بار طیارے تعینات کر دئیے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق کمان کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ اس اقدام کا مقصد دشمن پر روک لگانا اور علاقے میں امریکا کے شراکت داروں اور حلیفوں کو مطمئن کرنا ہے۔ مزید یہ کہ اس مشن سے طیاروں کے عملے کو خطے کی فضائی حدود اور کنٹرولنگ فنکشنز کے بارے میں جان کاری حاصل ہو گی۔

یہ اقدام ان میڈیا رپورٹوں کے گردش میں آنے کے چند روز بعد سامنے آیا جن میں کہا گیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی سے متعلق اپنے سینئر معاونین کے ساتھ اجلاس میں ایران پر حملے کے آپشنز طلب کیے تھے۔ امریکی چینل نے اسے موجودہ انتظامیہ کی جانب سے تہران کے لیے دھمکی کا پیغام قرار دیا تھا۔

(جاری ہے)

امریکی ذمے داران نے گذشتہ ہفتے انکشاف کیا تھا کہ ٹرمپ نے وائٹ ہاس میں اپنے سینئر مشیروں کے ایک خفیہ اجلاس میں سوال کیا تھا کہ آیا ان کے پاس آئندہ ہفتوں کے دوران ایران میں مرکزی جوہری تنصیب کو نشانہ بنانے کے راستے موجود ہیں۔

تاہم ٹرمپ کے مشیروں نے فوجی حملے کے خیال پر عمل درامد کی حوصلہ شکنی کی۔ البتہ امریکی صدر کے بعض سینئر مشیروں نے فوجی حملے کے موقف پر آگے بڑھنے پر زور دیا۔ ان میں نائب صدر مائیک پینس، وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور قائم مقام وزیر دفاع کرسٹوفر سی میلر شامل ہیں۔ادھر امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل مارک اے میلی نے خبردار کیا کہ ایرانی تنصیبات کے خلاف فوجی کارروائی سے ٹرمپ کی مدت صدارت کے آخری ہفتوں کے دوران بآسانی ایک تنازع کھڑا ہو سکتا ہے۔

مری شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments