کسی بھی ملک کے جنگلات قدرتی ماحولیاتی نظام کی بقاء دھرتی کے حسن میں اضافہ، زرعی و صنعتی معیشت کے استحکام ،آنیوالی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے ضامن ہوتے ہیں، سردار میر اکبر خان

جنگلات کے اصل مالک عوام ،محکمہ اور عوام کے درمیان ایک تعلق ہونا چاہیے تاکہ حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے، بلین ٹری سونامی منصوبہ ہماری خوشحالی و ترقی کا ضامن ہے ،کامیاب کرنے کے لیے ہر شخص کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ، وزیر جنگلات آزاد کشمیر

منگل نومبر 17:57

مظفر آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 نومبر2020ء) وزیر جنگلات آزاد کشمیر سردار میراکبر خان نے کہا ہے کہکسی بھی ملک کے جنگلات قدرتی ماحولیاتی نظام کی بقاء دھرتی کے حسن میں اضافہ، زرعی و صنعتی معیشت کے استحکام اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے ضامن ہوتے ہیںجنگلات کے اصل مالک عوام ہیںمحکمہ جنگلات اور عوام کے درمیان ایک تعلق ہونا چاہیے تاکہ جنگلا ت کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے جنگلات ہمار ا زیور ہیں اور یہ ہمار ا حسن اور لباس ہیں درخت جسم و روح کے رشتہ کو قائم رکھنے کے لیے انسانی و حیوانی مخلوق کو آکسیجن مہیا کر نے کے لیے ناگزیر ہیں۔

جنگلات ہماری آنے والی نسلوں کا اثاثہ ہیں اس لیے ہم سب نے مل کر ان کی حفاظت کرنی ہے درخت لگانا اور ان کی حفاظت کرنا قومی فریضہ ہے ریاست کے قدرتی حسن کو بحال رکھنے کیلئے لوکل کمیونٹی،این جی اوز اور سرکاری اداروں کے تعاون سے زیادہ سے زیادہ شجر کاری کی جائے تاکہ یہ خطہ خوبصور ت نظر آئے شجر کاری کے علاوہ درختوں کی کٹائی کو روکنے کے لیے ایسا مانیٹرنگ سسٹم بنایا جائے گا تاکہ درختوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا ئے گا بلین ٹری سونامی منصوبہ ہماری خوشحالی و ترقی کا ضامن ہے اس منصوبہ کو کامیاب کرنے کے لیے ہر شخص کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا جب تک کرہ ارض پر ماحولیاتی توازن برقرار رہتا ہے انسان، جانوروں اور دیگرمخلوق کے لیے ماحول سازگار رہے گاآزادخطہ کو تعمیر وترقی سے آراستہ کرنا اور اسے سرسبز و شاداب رکھنا بھی ہمارا اولین فرض ہے بلین ٹری منصوبہ میں آزادکشمیر کو شامل کرنے پر وزیراعظم پاکستان اور حکومت پاکستان کے شکرگزار ہیںہم نے بھی اپنے بجٹ سے شجر کاری مہم کے لیے خطیر رقم مختص کی ہے۔

(جاری ہے)

محکمہ جنگلات کے لیے اس منصوبہ کی کامیابی بہت بڑا چیلنج ہے ریاست بھر میں رواں سال شجر کاری کو کامیاب بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گے ہیںپروٹیکشن کمیٹیاں بنائی جائیں تاکہ درختوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ شجرکاری و شجر پروری اور جنگلات کی حفاظت کرنا صرف حکومت اور محکمہ جنگلات کی ذمہ داری ہی نہیں بنتی بلکہ یہ پوری قوم کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

جب تک ہم سب مل کر اس ذمہ داری کو نہیں نبھائیں گے کامیابی کا حصول ناممکن ہے ان خیا لات کا اظہار انہوں نے ایک نجی ٹیلی ویثرن کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔وزیر جنگلات نے کہا کہ بلا شبہ ریاست کے جنگلات ہماری قومی معیشیت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر جغرافیائی و موسمی لحاظ سے شجرکاری و شجر رپروری کے لیے ایک مثالی خطہ ہے جہاں تقریبا سار ا سال وقفہ وقفہ سے بارشیں ہوتی ہیں جو درختوں کی نشو نما کے لیے فائدہ مند ہوتی ہیں۔

وزیر جنگلا ت نے کہا کہ اگر ہم ایسے سازگار موسمی حالات ہونے کے باوجود اپنے ملک کو سرسبز و شاداب نہ بنا سکیں تو یہ ہماری بدنصیبی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ درخت بنی نو انسا ن کے لی انتہائی ضروری ہیں اسے ہم نے قومی اور مذہبی فریضہ سمجھ کر ادا کرنا ہے وزیر جنگلات نے کہا کہ شجر کاری کے بعد درختوں کی مانیٹرنگ بھی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری 88فیصد آبادی دیہاتوں میں رہائش پذیر ہے اور سارا دباؤ جنگلات پر ہوتا ہے اس لیے لوکل آبادی کی ایندھن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایسے درخت لگائے جائیں گے جو جلدی تیار ہوں تاکہ لوگ انہیں ایندھن کے لیے استعمال کریں اور جنگلا ت کے کٹاؤ کو بھی روکا جا سکے۔

سردار میر اکبرخان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت اپنے محدود وسائل کے مطابق جنگلات کے انتظام و انصرام کے لیے کوشاں ہے اور جنگلات کی ترقی و ترویج کو اولیت دے رہی ہے اور ہر سال محکمہ جنگلات کو دستیاب وسائل سے وافر فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔وزیر جنگلات نے کہا کہ اس وقت دنیا کو گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اس لیے زیادہ سے زیادہ شجر کاری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور دیگر چیلنجز سے نمٹنے کے لیے آزادکشمیر میں چار سالہ شجرکاری پروگرام ٹن بلین ٹری سونامی پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ اس قومی شجر کاری پروگرام کے تحت آزادکشمیر میں شجرکاری ہو رہی ہے اس سے یہ خطہ سرسبز وشاداب ہو گا۔

مظفر آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments