خصوصی افراد کی تعلیم وتربیت کو یقینی بنا کر ان کومعاشرے کامفید شہری بنایا جاسکتا ہے‘چوہدری ارمان ادریس

جمعہ 3 دسمبر 2021 13:10

ننکانہ صاحب(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 03 دسمبر2021ء) پاکستان میں ایک کروڑ 80لاکھ افراد معذور انکی بحالی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔چوہدری ارمان ادریس احمد چٹھہ۔خصوصی افراد کی تعلیم وتربیت کو یقینی بنا کر ان کومعاشرے کامفید شہری بنایا جاسکتا ہے‘ میڈ یا سے گفتگوکرتے ہوئے ممتاز سکالر چوہدری ارمان ادریس احمد چٹھہ ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں 2دسمبرکو معذوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔

کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ وہاں رہنے والے تمام افراد اپنی استعداد کے مطابق کردار ادا کریں۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں 30کروڑافراد ایسے ہیں جو کسی نہ کسی قسم کی ذہنی و جسمانی معذوری کا شکار ہیں جبکہ پاکستان میں ان کی تعداد ایک کروڑ 80لاکھ سے زائد ہے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نیمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کوئی مناسب سرکاری ادارہ ایسا موجود نہیں ہے جو معذور افراد کے حقوق کے لیے بہتر انداز میں کام کر رہا ہو۔

انہیں تعلیم وہنر سکھا کر ان کی مشکل زندگی کو ا?سان بنانے میں مدد گار ثابت ہو۔ پاکستان میں اتنی بڑی تعداد جو معذور ہے، اس حوالے سے حکومت کی عد م دلچسپی ناقابل فہم ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ سپیشل افراد کو موثر اور معاشرے کا مفید شہری بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔ سرکاری ملازمتوں میں برائے نام کوٹہ تو مختص کردیا گیا ہے مگر اس پر عمل در ا?مد نہیں کیا جاتا۔

اپنے جائز حقوق کی خاطر ہر روز معذور افراد سڑکوں پر احتجاج کرتے نظر ا?تے ہیں۔چوہدری ارمان ادریس احمد چٹھہ نے اس حوالے سے مزید کہا کہ خصوصی افراد بہت زیادہ مسائل کا شکار ہیں۔ان افراد کو جسمانی یا ذہنی معذوری کی بنا پر نظر انداز کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ ترقی یافتہ ممالک میں معذور پن کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور مدد گار ا?لات موجود ہیں ۔ ریاست ان معذور افراد کی بحالی کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ ان افراد کے سرکاری ملازتوںمیں کوٹہ میں اضافہ کیا جائے اور انھیں ا?سان اقساط پر قرضہ دیا جانا چاہیے تاکہ وہ کاروبار کرسکیں۔

ننکانہ صاحب شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments