نوری کو پی ڈی ایم کے اجلاس میں حکومت کے خلاف تحریک کے لائحہ عمل کو حتمی شکل دی جائے گی‘ احسن اقبال

حکومت اپنی نااہلی کی وجہ سے معیشت کو بند گلی کی طرف دھکیل چکی ہے ،اب ملک میں صدارتی نظام کی بحث شروع کر دی گئی

اتوار 23 جنوری 2022 18:45

نارووال(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 جنوری2022ء) مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ عمران خان کی حکومت کامزید رہنا پاکستان کی سا لمیت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے،حکومت اپنی نااہلی کی وجہ سے معیشت کو بند گلی کی طرف دھکیل چکی ہے ،اب ملک میں صدارتی نظام کی بحث شروع کر دی گئی ہے لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے ، عمران خان کے پاس نفرت اور بدلہ لینے کے علاوہ کوئی کام نہیں ۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ترجمان پاکستان کی عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کررہے ہیں کے ان کی حکومت کی پالیسیوں کے نتیجہ میں پاکستان اقتصادی بحالی کے سفر میں گامزن ہو چکا ہے ،کاش کے ان کے یہ دعوے حقیقت پر مبنی ہوتے ،سب پاکستانی ترقی کے خواہشمند ہیں اگر پاکستان ترقی کرے گا تو وہ سب پاکستانیوں کی ترقی ہو گی لیکن تحریک انصاف کے ترجمان اور عمران نیازی پاکستانی عوام کو دھوکا دینے کی کوشش کررہے ہیں ،وہ جھوٹے اعداد و شمار کے پیچھے اپنی نااہلی ،ناکامی اور نالائقی کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کے گزشتہ 6ماہ میں تجارتی خسارہ 9ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے اور ماہرین اقتصادیات کے مطابق اگلے 6ماہ میں اسی طرح تجارتی خسارہ برقرار رہا تو پاکستان کو 16 سے 17ارب تجارتی خسارے کا سامنا کر نا پڑے گا،اگرمسلم لیگ (ن)کے دور حکومت میں پاکستان میں تجارتی خسارہ بڑھا تھا تو اس کے پیچھے 11ہزار میگاواٹ توانائی کے منصوبے اور ریکارڈ تعداد میں سی پیک کے منصوبوں کے لیے مشینری کی امپورٹ تھی لیکن پی ٹی آئی کی حکومت میں کوئی قابل ذکر منصوبہ شروع نہیں ہوا جو پاکستان کی پیداواری صلاحیت کو بڑھا سکے ۔

(جاری ہے)

احسن اقبال نے مزید کہا کہ پاکستانی معیشت بری طرح خسارے میں جکڑی جا چکی ہے ،اسٹیٹ بنک آف پاکستان کا قانون جسے پی ٹی آئی حکومت نے بلڈوز کیا ہے وہ ایک سازش کا حصہ ہے جس کا مقصد پاکستان کی معیشت کے ہاتھ پائوں باندھ کر ڈیفالٹ کی طرف دھکیلنا معلوم ہو رہا ہے ،یہ حکومت اپنی نااہلی اورناقص کارکردگی کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو بند گلی کی طرف ڈال چکی ہے جبکہ عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ،ایک عام آدمی نے جب گھر کا سودا لینا ہو بجلی کا بل جمع کروانا ہو بوڑھے ماں باپ کے لیے ادویات لینی ہوں یاں سکول کی فیس دینی ہو تو وہ ان کو دل بھر کے برا بھلا کہتا ہے جبکہ عمران نیازی اور اس کے وزراء سمجھتے ہیں کے ملک درست سمت میں جا رہا ہے کیونکہ وہ پاکستان میں نہیں چاند پر رہتے ہیں ،ان کو عوام کی مشکلات سے کوئی سروکار نہیں ہے ،کہیں کسان کھاد کے لیے اور گھریلو خواتین گیس کے لیے ترستے نظر آتے ہیں ،کھاد کو سرکاری سرپرستی میں سمگل کروادیا جاتا ہے اور جو وزیر گیس دستیاب نہیں کروا سکا وہ عوام کو معیشت پر لیکچر دیتا نظر آتا ہے ،پچھلے ساڑھے تین سال میں ایک بھی قابل ذکر منصوبہ یہ حکومت شروع کرتی نظر نہیں آئی ،اگر احساس پروگرام ہے تو اس کا لیبل بدل دیا گیا اگر کامیاب جوان پروگرام ہے تو یہ وزیراعظم کا روزگار پروگرام ہے جو ہمارے دور میں شروع کیا گیا تھا اس کا بھی لیبل بدل دیا گیا ہے اگر صحت کارڈ ہے تو یہ پرائم منسٹر ہیلتھ انشورنس سکیم ہے جو نواز شریف کے دور میں شروع کی گئی اس کا بھی لیبل بدل دیا گیا ہے ، سوائے چربہ سازی کے اور پچھلی حکومت کے منصوبوں پر اپنے لیبل لگا نے کے علاوہ یہ حکومت کوئی نیامنصوبہ شروع نہیں کرسکی کیونکہ ان ان کے پاس کوئی ترقی کا منصوبہ نہیں ہے اب تو پی ٹی آئی کے اندر کے لوگوں نے کہنا شروع کردیا ہے کے پاکستان کو منافع خوروں ،ذخیرہ خوروں اور خوشامدیوں نے ہائی جیک کر لیا ہے جبکہ عمران خان اور اس کی کابینہ پاکستان میںمافیاز کی سرپرستی تحفظ دینے والی چھتری بن گئی ہے جو جب چاہیں چینی ،آٹا ،ادویات ،پٹرول اور کھاد جب چاہیں غائب کردیتے ہیں جبکہ حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی جو اس مافیاکے خلاف کسی قسم کوئی کاروائی کر سکے۔

22سال تک عمران خان وزیراعظم بننے کے لیے سڑکوں پر مارچ کرتے رہے اور آخر کار سازش کر کے سلیکٹد وزیراعظم بن گئے اور اپنے اس دور حکومت میں پاکستانی معیشت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے اور اب ملک میں صدارتی نظام کی بحث شروع کر دی گئی ہے یہ پاکستان میں مزید تجربات کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے ۔حکومت جوکررہی ہے اب یہ اپنی کینسر کی آخری اسٹیج میں داخل ہو چکی ہے ،یہ بات زیادہ اہم نہیں کے یہ عدم اعتماد سے جائے گی یا کسی اور طریقے سے جائے گی اس کو جانا ہو گا کیونکہ پاکستان کو قائم رہنا ہے اور ترقی کرنی ہے اور دوبارہ خوشحالی کی طرف گامزن ہونا ہے اس لیے 25جنوری کو پی ڈی ایم کے اجلاس میں اس حکومت کے خلاف لائحہ عمل کو حتمی شکل دی جائے گی۔

نارووال شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments