بڑھتی ہوئی آبادی تمام مسائل کی جڑ،پاکستان میں آبادی اور وسائل کو متوازن رکھنا بہت ضروری ہے،ڈاکٹر محمد شعیب خان رشکی

بدھ 14 جولائی 2021 00:27

نوشہرہ کینٹ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 13 جولائی2021ء) ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹر ہسپتال نوشہرہ کے ایم ایس ڈاکٹر محمد شعیب خان رشکی نے کہا ہے کہ پاکستان میں آبادی اور وسائل کو متوازن رکھنا بہت ضروری ہی.بڑھتی ہوئی آبادی اس وقت تمام مسائل کی جڑ ہی.تعلیم،صحت اور تحفظ ہر بچے کا حق ہے۔آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔آبادی اور وسائل کا موازنہ کیا جائے تو وسائل کم اور آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

بڑھتی ہوئی آبادی اور کم ہوتے وسائل کی وجہ سے سامنے آنے والی مشکلات اور چیلنجز سے نمٹنے کیلئے لوگوں میں شعور اور آگاہی پیدا کرناہے۔ سرکاری کاوشوں کیساتھ ساتھ سماجی تنظیموں اور مذہبی و سیاسی جماعتوں کو بھی لوگوںمیں شعور و آگاہی پھیلانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوںنے نوشہرہ میں معروف غیرسرکاری تنظیم ماری سٹاپ سوسائٹی کے آبادی کے عالمی دن کے حوالے سے ہونے والے خصوصی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

نوشہرہ میں غیرسرکاری تنظیم ماری سٹاپ سوسائٹی کی چیرپرسن مس انیقہ بابر ،سینئر ڈاکٹر ابوزر،الیکٹرونگ اینڈ پرنٹ میڈیا نوشہرہ کے صدر سید ندیم شاہ ٹیپو مشوانی اور لیڈی ڈاکٹر مسز لالہ رخ نے بھی خطاب کیا۔ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹر ہسپتال نوشہرہ کے ایم ایس ڈاکٹر محمد شعیب خان رشکی نے کہا ہے کہ آبادی اور وسائل میں توازن کی اہمیت کو اُجاگر کرنا اور اس کے ساتھ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی آبادی اور کم ہوتے وسائل کی وجہ سے سامنے آنے والی مشکلات اور چیلنجز سے نمٹنے کیلئے لوگوں میں شعور اور آگاہی پیدا کرناہے۔

اس دن کو منانے کا مقصد صرف یہ نہیں ہے کہ آبادی پر قابو پانے کیلئے نت نئے لائحہ عمل اختیار کیے جائیں بلکہ عوام میں یہ شعور پیدا کرناہے کہ دستیاب وسائل کم یا نہ ہونے کے برابر ہیں اور اتنے کم وسائل میں دنیا کی آبادی اگر اسی تیز رفتاری سے بڑھتی چلی گئی تو آنے والی نسلوں کی زندگی اجیرن ہو سکتی ہے۔ اگر بنیادی سہولتیں جیسے پینے کا صاف پانی، تعلیم، ادویات، صحت، مناسب خوراک، رہائش، ٹرانسپورٹیشن اور نکاسی آب کی موجودہ سہولیات20کروڑ آبادی کیلئے ناکافی ہیں تو آبادی دگنی ہونے پر کیا ہوگا۔

اس صورتحال کا پوری دنیا کو ہی سامنا ہے، جہاں وسائل کا بے دریغ استعمال ہورہا ہے۔نوشہرہ میں غیرسرکاری تنظیم ماری سٹاپ سوسائٹی کی چیرپرسن مس انیقہ بابر نے خطاب کرے ہوئے کہا کہ ہمیں ملک کی سماجی روایات و اقدار اور مذہبی رہنمائی کیساتھ آبادی کنٹرول کرنے کے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے، جس کے لیے جدیدمیڈیکل سائنس اور میڈیا کی مدد لینا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مزید برآں سرکاری کاوشوں کیساتھ ساتھ سماجی تنظیموں اور مذہبی و سیاسی جماعتوں کو بھی لوگوںمیں شعور و آگاہی پھیلانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔بڑی آبادی کے لئے بنیادی سہولتوں، خاص طورپر صحت عامہ کی سہولیات اور اس تک رسائی کیلئے موجودہ اور مستقبل میں آنے والی حکومتوں کو لازمی سوچنا ہوگا۔ اس ضمن میں سب سے مثبت پہلو یہ ہیکہ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، ان نوجوانوں کو صحت مندسرگرمیوں اور تعلیم کے حصول کی طرف راغب کیا جائیتو ملک کی ترقی میں ان کا کردار بہت اہم اور فائدہ مند ہوسکتاہے۔

ڈاکٹر ابو زر اور لیڈی ڈاکٹر لالہ رخ نے خطاب کرے ہوئے کہا کہ آبادی کنٹرول کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور آبادی دن بدن بڑھ رہی ہے تو اسی افرادی قوت سے کام لینا ہوگا تاکہ وہ معاشرے کے کارآمد اور مفید شہری بنیں۔ اس کے علاوہ ملکی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور بہتر استعمال سے معیارِ زندگی بلند ہونے کی امیدیں پیدا ہوں گی اور پاکستان کے ہر طبقے کو بنیادی سہولتوں جیسے پینے کا صاف پانی، تعلیم، ادویات، صحت، مناسب خوراک، رہائش، ذرائع آمدورفت اور نکاسی آب وغیرہ کی دستیابی ممکن ہوگی۔ لیکن اس کے لیے ابھی سے انقلابی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، ایسا نہ ہو کہ پانی سر سے اونچا ہوجائے اور ہم کچھ نہ کرسکیں

نوشہرہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments