بھارت مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت تسلیم کرے تب بات چیت ہوگی: شہریار آفریدی

کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،دوزیر اعظم عمران خان نے سفیر بن کر سیکیورٹی کونسل اور ہیومین رائٹس کمیشن میں مودی حکومت کے اس حرکت پر آواز اٹھائی: چیئرمین کشمیر کمیٹی اب دنیا کا ہندوستان پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے دباو ہے بہت جلد ہندوستان اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگا مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ قراردادوں کے مطابق اورکشمیریوں کے مرضی سے حل ہوگا: پریس کانفرنس

منگل اپریل 23:28

اورکزئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 06 اپریل2021ء) مقبوضہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے جب تک بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم نہیں کرتی اور 370و35Aکے دفعات کو بحال نہیں کرتی تب تک بھارتی حکومت سے نہ بات چیت ہوگی اور نہ کسی بھی قسم کا تجارت ہوگا ان خیالات کا اظہار چیئرمین کشمیر کمیٹی شہر یار آفریدی نے اورکزئی ہیڈ کوارٹرجرگہ ہال میں پریس کانفرنس کے دوران کیا انہوں ے کہا کہ 1947میں قائد اعظم محمد علی جناح نے مقبوضہ کشمیر کو پاکستان کا شہ رگ کہا ہے اور 1948 میں نہرو کو اقوام متحدہ میں اقوام متحدہ کے قراداد میں کشمیریون کو حق خو د ارادیت کا کہا گیا اس قرارداد کے مطابق کشمیریوں کو حق رائے دہی دینی چاہئے اور 5 اگست 2019 میں بھارتی حکومت نے 35 A اور 370 دفعات ختم کرکے مقبوضہ کشمیر کے متنازعہ حیثیت کو ختم کیا اور مقبوضہ کشمیر کو زبردستی کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے لئے جیل بنادیا ان سے زندگی کے بنیادی سہولیات چھین لئے گئے اس ے بعد سیکیورٹی کونسل میں 5 ویٹو ممبران نے مسئلہ کشمیر کو بھلا کر خاموشی اختیار کی اس کے بعدوزیر اعظم عمران خان نے سفیر بن کر سیکیورٹی کونسل اور ہیومین رائٹس کمیشن میں مودی حکومت کے اس حرکت پر آواز اٹھایا اور عمران خان کی ہر پلیٹ فارم پر آواز اٹھانے سے اقوام عالم جاگ گیاجس پر اقوام متحدہ نے مقبوضہ کشمیر میں ابزرور اور عالمی میڈیا کو حالات دیکھنے کیلئے جانے کی اجازت دی جس پر عالمی میڈیا اور ابزرور نے 115 ممالک میں ہندوستان کے جھوٹ کو بے نقاب کیا اب ہندوستان مختلف طریقوں سے بات چیت اور تجارت کرنے کی خواہش رکھتا ہے مگرجب تک 35A اور 370 کے دفعات بحال نہیں ہونگے اور مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم نہیں کیا جاتا تب تک ہندوستان کے ساتھ بات چیت اور تجارت ہرگز نہیں ہوگاوزیراعظم عمران خان کے ترجیحات میں مسئلہ کشمیر پہلے نمبر پر ہے انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک میں مسئلے اور تنازعات حل ہوئے مگر مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہونا اقوام متحدہ کیلئے سوالیہ نشان ہے اب دنیا کا ہندوستان پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے دباو ہے بہت جلد ہندوستان اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگا مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ قراردادوں کے مطابق اورکشمیریوں کے مرضی سے حل ہوگا

اورکزئی ایجنسی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments