موک ایکسر سائز اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں معاونت کرتی ہیں،ڈپٹی کمشنر پاکپتن

جمعہ جولائی 19:58

پاکپتن۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 12 جولائی2019ء) ڈپٹی کمشنر پاکپتن احمد کمال مان نے کہا ہے موک ایکسر سائز اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں معاونت کرتی ہیںتاکہ کسی بھی ناگہانی حالات کے پیش نظر عوام کو قلیل وقت میں ریلیف بہم پہہنچایا جا سکے ، انہوں نے کہا کہ مون سون بارشوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ ادارے پوری طرح چوکس رہیں اور ریسکیو1122کے پاس موجود آلات اور ٹرینڈ سٹاف کسی بھی ہنگامی حالات سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ریسکیو1122پاکپتن کے زیر اہتمام (پاکپتن کینال اپر) پر فلڈ موک ایکسر سائز میں کیا، اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ڈاکٹر احمد افنان ،ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع ریاض احمد ، ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسرریسکیو 1122ڈاکٹر احتشام مظہرڈی او سول ڈیفنس شہزاد احمد سمیت ہ دیگر متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی ،ڈپٹی کمشنر احمد کمال مان نے فلڈ سے متعلقہ تمام سامان کامعائنہ کیااورریسکیو 1122 کی آپریشنل صلاحیت پر ریسکیو اہلکاروں اور ریسکیو محافظوں کو شاباش دی ، انہوں نے کہا کہ ریسکیو1122 نے اپنے وسائل کابہتر استعمال کرتے ہوئے اچھی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے موک ایکسر سائز میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر(ریوینو )ڈاکٹر افنان احمد،ریسکیو آفیسرزاور میڈیا کے نمائندگان بھی شریک ہوئے۔

(جاری ہے)

ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسرریسکیو 1122ڈاکٹر احتشام مظہر نے ڈی سی پاکپتن کو موک ایکسرسائز کے دوران مختلف محکموں کی طرف سے لگائے گئے نمائشی کیمپوں کا معائینہ کراتے ہوئے انکی کارکردگی سے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ وہ کسی بھی قسم کی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں ۔ موک ایکسر سائز میں ریسکیو 1122کے علاوہ محکمہ پولیس،اسپیشل برانچ، لائیو سٹاک، محکمہ ہیلتھ ، زراعت ، ہائی وے ،میونسپل کمیٹی پاکپتن،محکمہ انہاراورسول ڈیفس نے حصہ لیا۔

اس موقع پر ریسکیو 1122 پاکپتن نے ڈوبتے لوگوں کو بچانے، لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے اور پانی میں ڈوبے افراد کو نکالنے اور اسپیشل ریسکیو وہیکل کے تمام فنکشنز کا عملی مظاہر ہ بھی کیا۔ موک ایکسر سائز میں ریسکیو 1122کے کمیونٹی سیفٹی پروگرام کے تحت تربیت پانے والے ریسکیو محافظوںکے علاوہ ریسکیورز، دیگر اداروں کے ملازمین اور عوام کی کثیر تعداد موجود تھی۔

متعلقہ عنوان :

پاکپتن شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments