خیبرمیڈیکل کالج میں ملیریاکے عالمی دن منایاگیا

اس دن کی اہمیت کو اُجاگر کر نے کے حوالے سے مختلف تقاریب کا انعقاد ،جس میں پوسٹر کا مقابلہ، کسوٹی، ملیریاسے آگاہی کیلئے واک شامل ہیں

جمعہ اپریل 15:44

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 26 اپریل2019ء) خیبرمیڈیکل کالج میں ملیریاکے عالمی دن منایاگیا ۔اس دن کامقصد ملیریا سے ہونے والے نقصانات کو منظر عام پر لا نا ہے، یہ بیماری مچھر کے کاٹنے سے ہوتی ہے ، اس بیماری سے بخار، تھکاوٹ، اُلٹی، یرقان اور سردرد سے لیکر خطرناک حالات جیسے جھٹکے اور موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔خیبر میڈیکل کالج کے سوشل ویلفیئر سوسائٹی برائے تعلیم صحت کی شاخ نے اس دن کی اہمیت کو اُجاگر کر نے کے حوالے سے مختلف تقاریب کا انعقاد کیا جس میں پوسٹر کا مقابلہ، کسوٹی، آگاہی کے لئے واک کااہتمام کیاگیا، واک میں خیبر میڈیکل کالج کے طالب علموں ، فیکلٹی ممبران اور منیجمینٹ نے شرکت کی۔

اس موقع پر ڈین خیبر میدیکل کالج پروفیسر ڈاکٹرنورالایمان اوردیگرڈاکٹرحضرات بھی موجود تھے۔

(جاری ہے)

خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے شعبہ میڈیسن کے چیئرمین اور مایہ ناز فیزیشن پروفیسر ڈاکٹر محمد ہمایون نے بتایا کہ ملیر یا کو روک تھام کے حوالے سے کہاکہ ہیلتھ ورکرز کو ٹریننگ اور سپرویژن دی جائے تاکہ وہ ملیریا کی روک تھام میں کردار ادا کر سکیں، ساتھ ہی ان کو آلات و ادویات بھی فراہم کی جائیں تاکہ وہ اپنے کام کو بہتر طور پر کر سکیں۔

ڈاکٹر ہمایون نے کہاکہ جو ملیریا عام ادویات سے قابو نہیں ہوتا اس کا علاج مشکل ہو تا ہے کیو نکہ ان پر عام ادویات کا اثر کم ہوتا ہے اور دوسری ادویات کا استعمال بھی مشکل ہوتا ہے اور ان کی قیمت بھی زیادہ ہوتی ہے،کیڑے مار ادویات کے خلاف مدافعت سے دوسرے اشیاء جوکہ ان کیڑے مارادویات کی مدد سے تیار کی جاتی ہیں جیسے کہ مچھر دانیاں اور کیڑے مار سپرے وغیرہ ان کی افادیت میں کمی آتی ہے۔

غریب ممالک میں صحت کا نظام کمزور ہونے کے باعث ان بیماریوں کے روک تھام کیلئے ضروری اقدامات نہیں کیے جا سکتے،اس بیماری کا شکار ہونے والے بیشتر لوگ غریب اوران پڑھ ہوتے ہیں جن کو اس بیماری سے بچاؤ اور علاج کے بارے میں بھی پتہ نہیں ہوتا، اگر علم ہوتا بھی ہے تو معاشی پستماندگی کے باعث نہ ادویات اور نہ ہی دیگر اشیاء تک رسائی حاصل کرتی ہے۔

انہوںنے کہاکہ ملیریا کو روکنے کے لئے ملیریا ویکسین استعمال کی جاتی ہے، ملیریا کو روکنے کے لئے 2015سے موجود ٹیکے کا نا م RTS,Sہے، اس میں چار ٹیکے ہوتے ہیں لیکن اس کا اثر کم ہوتا ہے، اس وجہ سے ڈبلیوایچ اواس ویکسین کو 6سے 12ہفتے کے بچوں کے لئے استعمال کرنے سے منع کرتا ہے،ہر سال ایم ٹی آئی خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں ملیریا کے لاتعداد مریض آتے ہیں، زیادہ تر مریض آس پاس کے علاقوں کے ہسپتالوں سے آتے ہیں جہاں پر وہ ابتدائی طبی امداد حاصل کر چکے ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ دنیا کی نصف آبادی ملیریا سے متاثرہ علاقوں اور 91ممالک میں ہے۔ 2016میں اس بیماری سے تقریباً 216ملین کلینکل کیس اور 445000 اموات واقع ہوئیں۔ 90فیصد اموات ڈبلیوایچ اوکے زیر نگرانی افریقی علاقوں میں واقع ہوئیں۔پاکستان کی آبادی تقریباً220ملین پر مشتمل ہے جن میں سے 177ملین کو ملیریا ہونے کا خدشہ لاحق ہے۔ 3.5ملین لوگ سالانہ یقینی طور پر ملیریا سے متاثر ہوتے ہیں۔

پاکستان میں ملیریا کا کوئی معین وقت نہیں لیکن عموماً مون سون کے بعد یہ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے یعنی اگست سے نومبر کے دوران،ملیریا پھیلانے والے مچھروں کی دو قسمیں اہم ہیں جن پر آج کل استعمال ہونے والی ادویات کارآمد ہیں، اس کے علاوہ دوسرے ا قسام سے ہونے والا ملیریا زیادہ خطرناک ہوتا ہے جو کہ بلوچستان اور سند ھ کے علاقوں میںپایا جاتا ہے ۔

پشاور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments