اُردو پوائنٹ پاکستان پشاورپشاور کی خبریںپشاور میٹرو منصوبہ کیس کے تفصیلی فیصلے میں اہم انکشافات سامنے آ گئے دیگر ..

پشاور میٹرو منصوبہ کیس کے تفصیلی فیصلے میں اہم انکشافات سامنے آ گئے

دیگر منصوبوں کے فنڈز بھی پشاور میٹرو میں لگائے گئے،جس فرم کو ٹھیکہ دیا گیا وہ بلیک لسٹ تھی، میڈیا رپورٹس

پشاور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔19جولائی 2018ء) پشاور میٹرو منصوبہ  کیس کے تفصیلی فیصلے میں اہم انکشافات سامنے آ گئے ۔پشاور ہائیکورٹ نے بس ریپڈ ٹرانزٹ ( بی آر ٹی) کیس میں تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے جس کے مطابق پشاور میٹرو کا ٹھیکہ جس فرم کو دیا وہ دوسرے صوبوں میں پہلے سے بلیک لسٹ کیا گیا تھا۔ عدالت  نے کیس میں  مزید تحقیقات اور پیش رفت کے لیے کیس کو نیب کو ارسال کردیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پشاور میٹرو بس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے۔ہائیکورٹ نے اس فیصلے میں میں لکھا ہے کہ منصوبہ 24 جون 2018 کو مکمل جانا تھا لیکن ابھی تک مکمل نہیں ہوسکا اور منصوبے کی لاگت بھی 49.3 بلین سے بڑھ کر 67.9 بلین روپے تک پہنچ گئی ہے۔تفصیلی فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کی سابق حکومت نے دیگر منصوبوں کے فنڈ بھی  پشاور میٹرو میں جھونگ دئیے۔

(خبر جاری ہے)

واضح رہے کہ چیئرمین نیب نے پہلے ہی منصوبے میں غیر معمولی تاخیر کا نوٹس لے کر تحقیقات کا حکم دیا تھا جس پر پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے ایک وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ڈی اے نے کبھی بھی منصوبے کی جون میں تکمیل کا دعویٰ نہیں کیا۔ اس قسم کے تمام دعوے سابق صوبائی حکومت کے وزرا کرتے رہے۔دوسری جانب پشاور میٹرو کے لیے سڑکوں میں کھودے گئے بڑے بڑے گڑھے عوام کے لیے وبال جان بن گئے ہیں۔

کیچڑ اور ٹریفک جام کے معمول بن گیا ہے۔یاد رہے اس سے پہلے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما عابد شیر علی بھی یہ شوشا چھوڑ چکے تھے کہ بنی گالا پشاور میٹرو بس میں کی گئی کرپشن کے پیسوں سے بنا۔تاہم اب پشاور میٹرو منصوبہ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا جا چکا ہے جس میں دوسروں پر تنقید کرنے والی پی ٹی آئی کی اپنی کارگردگی کا پول بھی کھل گیا ہے۔فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ جس فرم کو ٹھیکہ دیا گیا تھا وہ بلیک لسٹ تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

پشاور شہر کی مزید خبریں