اُردو پوائنٹ پاکستان پشاورپشاور کی خبریںحکومت نے سی پیک کے تحفظ کیلئے اسپیشل یونٹ تشکیل دے دیا چین کی شعبہ ..

حکومت نے سی پیک کے تحفظ کیلئے اسپیشل یونٹ تشکیل دے دیا

چین کی شعبہ معدنیات کو سی پیک کا حصہ بنانے کیلئے آمادگی، آپریشن ضرب عضب، ردالفساد، سرحد پر باڑ لگانے سے دہشتگردی کیخلاف کامیابی حاصل ہوئی۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ محمود خان کا خطاب

پشاور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔19 اکتوبر 2018ء) خیبرپختونخواہ حکومت نے سی پیک کے تحفظ کیلئے اسپیشل یونٹ تشکیل دے دیا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ محمود خان نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب، ردالفساد، سرحد پر باڑ لگانے سے دہشتگردی کیخلاف کامیابی حاصل ہوئی،پی ٹی آئی نے صوبے میں شفاف اور بہترحکمرانی کا ماڈل متعارف کرایا ہے۔ وزیراعلیٰ محمود خان نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے صوبے میں شفاف اور بہترحکمرانی کا ماڈل متعارف کرایا ہے۔

حکومتی اصلاحات اور امن کے لیے کاوشوں کے نتائج نظرآ رہے ہیں۔ نئے قبائلی اضلاع کی ترقی کے لیے منصوبہ بندی جاری ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سی پیک کی سیکیورٹی اورتحفظ کے لیے اسپیشل یونٹ تشکیل دیا جا چکا ہے۔

(خبر جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب، ردالفساد، سرحد پر باڑ لگانے سے دہشتگردی کیخلاف کامیابی حاصل ہوئی۔ دوسری جانب شہرام ترکئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگلی بار بجٹ سے قبل مشاورت کی جائے گی۔

پی ٹی آئی نے بہتر کارکردگی دکھائی۔ بہترین کارکردگی کی وجہ سے دو تہائی اکثریت حاصل کی۔ وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت ہے، صوبے کا پورا حق ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ 100 ارب روپے کا بجلی منافع وفاق سے لے کر رہیں گے۔ شہرام ترکئی نے کہا کہ محصولات کو بڑھانا ہے تب ہی ترقیاتی فنڈز میں بھی اضافہ ہوگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کی بھرپورکوششوں سے چین نے خیبرپختونخوا کے شعبہ معدنیات
کو سی پیک کا حصہ بنانے کے لئے آمادگی ظاہر کردی ہے جس کی وجہ سے معدنی
شعبہ میں تعاون کی نئی راہیں تلاش کی جانے کے ساتھ ساتھ جدید ترین مشینری
کی فراہمی کو بھی یقینی بنایاجائے گا۔

ذرائع کے مطابق کہ سی پیک کے اگلے
مرحلہ میں معدنیات کے شعبہ کوبھی شامل کیا جا رہا ہے اور اس مقصد کے لیے جلدہی
خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ رابطہ کرکے حکمت عملی وضع کی جائے گی اسی طرح
شعبہ معدنیات میں مقامی کاروباری طبقہ کے ساتھ چینی سرمایہ کاروں کاجوائنٹ
وینچر بھی شروع کیاجائے گا جو یہاں سے خام مال مقامی لوگوں سے خرید کرچین
لے جائیں گے کرومائٹ ،ماربل ،نیپرائٹ اوردیگر قیمتی معدنیات کے شعبوں میں
جوائنٹ وینچر کو فروغ دیاجائے گا۔خیبرپختونخوامیں معدنی شعبہ کو ترقی دینے
کے لی جدید ترین مشینری دینے کی بھی یقین دہانی کرائی تاکہ قیمتی معدنیات
کے ضیاع کی شرح کم سے کم ہوسکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

پشاور شہر کی مزید خبریں