قومی مالیاتی کمیشن میں امپورٹڈ ممبر کی تقرری پختونوں کی تضحیک کے مترادف ہے ،ا میر حیدر خان ہوتی

پنجاب کا باشندہ مالیاتی کمیشن میں ہمارے صوبے کی وکالت کیسے کر سکتا ہی پختونوں کی حق تلفی کا سلسلہ جاری ہے جس سے احساس محرومی نے جنم لیا،عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی

بدھ نومبر 19:15

قومی مالیاتی کمیشن میں امپورٹڈ ممبر کی تقرری پختونوں کی تضحیک کے مترادف ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 نومبر2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے قومی مالیاتی کمیشن میں امورٹڈ ممبر کی تقرری پر حیرت اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب سے ممبر لاکر پختونوں کی تضحیک کی گئی ہے، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں قابل ماہر معاشیات کی کوئی کمی نہیں،پنجاب کا باشندہ مالیاتی کمیشن میں ہمارے صوبے کی وکالت کیسے کر سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ تبدیلی سرکار ہم پر پنجاب سے فیصلے مسلط کر رہی ہے اور ایک عرصہ سے پختونوں کی حق تلفی کا سلسلہ جاری ہے جس سے احساس محرومی نے جنم لیا ، انہوں نے کہا کہ اس سے قبل خیبر پختونخوا کی جامعات کیلئے وائس چانسلرز کا انتخاب بھی پنجاب سے کیا گیا جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکمران پنجاب کے اپنے چہیتوں کو نوازنے کیلئے خیبر پختونخوا کے وسائل استعمال کر رہے ہیں، امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم میں صوبے کے وسائل پر صوبے کے عوام کا حق ہے جسے گزشتہ پانچ سال سے چھیننے کی کوششیں کی جا رہی ہیں،انہوں نے کہا کہ تبدیلی سرکار کے مسلط کردہ غیر آئینی فیصلوں کو عدالتیں روزانہ کی بنیاد پر واپس کر رہی ہیں جس کی واضح مثال خیبر پختونخوا سمبلی میں سابق دور میں ہونے والی تقرریوں اور ترقیوں کو پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے کالعدم کیاجانا ہے،انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر کے عوام کو دھوکہ دیا گیا اورسو روزہ پلان کی تکرار کے بعد عوام کو مہنگائی اور ٹیکسوں کے تحفے دیئے گئے ، امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ عمران کے گڈ گورننس کے دعوؤں کی قلعی عدالتیں کھولتی جا رہی ہیں اور 70دن کے مختصر عرصہ میں تمام حقیقت عوام پر آشکارا ہو چکی ہے۔

پشاور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments