اٹھارویں ترمیم کے تناظر میں صوبہ ہائیر ایجوکیشن میں جدیدیت اور اسے بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق جدید خطو ط پر ڈھالنے کیلئے ذہن بنا چکی ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

ہفتہ نومبر 18:30

اٹھارویں ترمیم کے تناظر میں صوبہ ہائیر ایجوکیشن میں جدیدیت اور اسے ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 نومبر2018ء) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے تناظر میں صوبہ ہائیر ایجوکیشن میں جدیدیت اور اسے بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق جدید خطو ط پر ڈھالنے کیلئے ذہن بنا چکی ہے ۔ ہم ہائر لیول پر کوالٹی پر یقین رکھتے ہیں ۔ اعلیٰ تعلیم معاشرے کی فلاح ، معاشرتی اقدار اور ہماری ترقی کی سمت کا تعین کرنے میں مدد گار ہونی چاہیئے۔

یہ ہدایات اُنہوںنے گزشتہ روز ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے چیئر پرسن ڈاکٹر طارق بنوری سے صوبوں اور وفاق کے درمیان اٹھارویں ترمیم کی توسیع کے بعد ہائیر ایجوکیشن میں اختیارات کے حوالے سے اجلاس کے دوران دیں۔ اجلاس میں متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ کو اٹھارویں ترمیم کے بعد ہائیر ایجوکیشن کے حوالے سے صوبے کے اختیارات کے بارے میں تفصیلی بریفینگ دی گئی ۔

(جاری ہے)

اس موقع پر بتایا گیا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد پنجاب اور سندھ کے صوبوں نے اپنے ہائیر ایجوکیشن کمیشن بنائے ہیں اور وہ اٹھارویں ترمیم کے توسط سے منتقل شدہ اختیارات استعمال کر رہے ہیں جبکہ صوبہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومتیں اپنے ہائیر ایجوکیشن کمیشن بنانے کے آخری مراحل میں ہیں۔ اجلاس کوبتایا گیا کہ سیلبس میں وفاقی حکومت کو مکمل اختیار ہیں اور قانونا ًوہ سیلبس تمام صوبائی و وفاقی تعلیمی اداروں کو مہیا کر سکتی ہے جبکہ دوسرے اُمور جس میں مانیٹرنگ اور ایوالیشن ، صوبائی تعلیمی اداروں کی مینجمنٹ وغیرہ صوبائی ہائیر ایجو کیشن کے اختیارات میں شامل ہیں۔

اجلاس کے دوران مزید بتایا گیاکہ وفاقی ہائیر ایجوکیشن کے قانون اور رولز میں بھی یہ بات واضح ہے کہ مذکورہ بالا اُمور صوبائی ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے اختیارات میں ہیں۔ سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن خیبرپختونخوا نے تفصیلات کے آخر میں بتایا کہ صوبائی حکومت کا یہی نقطہ ہے کہ جو اختیارات ہائیر ایجوکیشن کی مد میں صوبے کے ہیں وہ صوبے کے حوالے کئے جائیں ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد ہائیر ایجوکیشن میں صوبائی اختیارات کی تقسیم پر محکمہ ایجوکیشن خیبرپختونخوا سے تفصیلی بات چیت کے بعد آگے بڑھیں گے ۔

پشاور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments