خیبرپختونخوا حکومت کا ہسپتالوں کی ایمبولینسز1122 کے حوالے کرنے کا فیصلہ

ایمبولینسز حوالگی کی حتمی منظوری کے لئے معاملہ کابینہ کے اگلے اجلاس میں پیش کیا جائے گا ۔عوام کو معیاری صحت کی سہولیات کی فراہمی کو حکومت کی اولین ترجیح ہے،شعبہ صحت کو مزید مستحکم بنائیں گے ،وزیراعلیٰ محمود خان

بدھ اکتوبر 21:11

خیبرپختونخوا حکومت کا ہسپتالوں کی ایمبولینسز1122 کے حوالے کرنے کا فیصلہ
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 28 اکتوبر2020ء) خیبر پختونخوا حکومت نے صوبہ بھر میں ایمبولینس سروس کو مزید بہتر بنانے اور ہمہ وقت ایمبولینس سروس کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لئے ہسپتالوں کے ایمبولینسز ریسکیو 1122 کے حوالے کرنے کااصولی فیصلہ کیا ہے ۔ معاملہ حتمی منظوری کے لئے کابینہ کے اگلے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت محکمہ صحت میں اصلاحات سے متعلق منعقدہ ایک اجلاس میں کیا گیا۔

اجلاس میں صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا، سیکرٹری ریلیف، اسپیشل سیکرٹری صحت، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز اور ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو محکمہ صحت اور ریلیف ایمبولینسز کی ریسکیو 1122 کو حوالہ کرنے کے سلسلے میں تمام معاملات کو جلد حتمی شکل دینے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

(جاری ہے)

اجلاس میں محکمہ صحت میں ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کی بھرتیوں کا عمل تیز کرنے اور ایڈہاک بھرتیوں کے لئے مخصوص لائحہ عمل ترتیب دینے کابھی فیصلہ ہوا ہے جبکہ اس سلسلے میں لائحہ عمل کو حتمی شکل دینے کے لیے آئندہ ہفتے تمام متعلقہ محکموں کا اجلاس بلایا جائے گا۔ اسی طرح صوبے میں صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی کے لیے سیکنڈری ہسپتالوں میں ڈائنگناسٹک اور نان کلینکل سروسز کو آؤٹ سورس کرنے کا بھی اصولی فیصلہ ہوا۔

محکمہ صحت میں تمام امور کو موثر انداز میں چلانے کے لیے اعلیٰ انتظامی عہدوں کے علاوہ باقی انتظامی عہدوں پر پوسٹنگ ٹرانسفرز نچلی سطح پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ اجلاس میں منیجمنٹ اور جنرل کیڈر کے ڈاکٹروں کی تعیناتیوں سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔ڈاکٹروں اور دیگر عملے کے تبادلوں کے عمل کو اسٹریم لائن کرنے کے لئے ای۔

ٹرانسفر پالیسی پر عملدرآمد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ محکمہ صحت کے آئی ایم یو کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں اور دیگر طبی مراکز کی مانیٹرنگ کا اختیار دینے کا بھی اصولی فیصلہ ہوا ہے۔آئی ایم یو ان ہسپتالوں کے دیگر معاملات کے علاوہ ریفرل کیسز کو بھی مانیٹر کرے گا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمودخان نے کہا ہے کہ صحت کے شعبے کا براہ راست تعلق عوام سے ہے اس کو ہر حال میں مستحکم بنائیں گے۔

انہوں نے عوام کو معیاری صحت کی سہولیات کی فراہمی کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صحت کے شعبے میں خاطر خواہ وسائل خرچ ہو رہے ہیں جس کے نتائج عوام کے سامنے ہونے چاہئیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صحت انصاف کارڈ سکیم کی 100 فیصد آبادی تک توسیع سے عوام کو علاج معالجے کی مفت اور معیاری سہولیات فراہم ہونگی۔ انہوں نے تمام سرکاری ہسپتالوں کے شعبہ ایمرجنسی میں ضروری ادویات کی ہمہ وقت دستیابی کو ہر صورت یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔

وزیر اعلیٰ نے شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ہسپتالوں کو ایمرجنسی ادویات کی سپلائی کے عمل کو بھی آوٹ سورس کرنے کی ہدایت کی۔محکمے میں دو سالوں سے زائد عرصہ ایک ہی عہدے پر کام کرنے والے تمام کلریکل اسٹاف اور سیکشن آفیسرز کا فوری تبادلہ کرنے کے بھی احکامات جاری کیے۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اگلے ہفتے صحت انصاف کارڈ کی 100 فیصد آبادی تک توسیع شروع کرنے کی تیاریاں مکمل ہیں۔

صوبے میں حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج میں کافی بہتری آئی ہے جبکہ بنیادی مراکز صحت اور دیہی مراکز صحت میں ادویات کی دستیابی کی شرح میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ نئے ضم شدہ اضلاع کے مختلف ہسپتالوں کی آوٹ سورسنگ پر کام جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کویہ بھی ہدایت کی ہے کہ نئے بننے والے ہسپتالوں کے پی سی ون میں طبی آلات کی خریداری ضرور شامل کیا جائے تاکہ عمارتوں کی تعمیر مکمل ہوتے ہی طبی آلات کی خریداری مکمل ہو سکے۔

پشاور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments