ہاکی لیگ پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ کے شکر گزار ہیں ‘ سید ظاہر شاہ

اعلان کردہ انعامات ابھی تک کھلاڑیوں کو نہیں ملے ‘ بین الاقوامی کھلاڑی رابطے کررہے ہیں ‘ پریس کانفرنس ہاکی لیگ ‘ بنوں اور اسلامیہ کالج کے ٹرف ٹھیک نہیں ‘چینجنگ روم کی شکایت کھلاڑیوں نے کی ‘اسلامیہ کالج کے ٹرف پر پانی بالٹی میں ڈالتے ہے ‘ سید ظاہر شاہ کی پریس کانفرنس

اتوار 24 اکتوبر 2021 16:40

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 اکتوبر2021ء) خیبر پختونخواہ ہاکی ایسوسی ایشن کے صدر ظاہر شاہ نے کہا ہے کہ ہاکی لیگ کے دوران بنوں آسٹرو ٹرف اور اسلامیہ کالج میں انتظامات صحیح نہیں تھے اور ٹھیکیداروں کو پیسے دئیے گئے جبکہ ہاکی کے کھلاڑیوں کو اعلان کردہ انعامات نہیں دئیے گئی. یہ باتیں انہوں نے پشاور کے لالہ ایوب ہاکی آسٹرو ٹرف میں صحافیوں سے پریس کانفرنس کے دوران کیں.انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخواہ ہاکی ایسوسی ایشن اور پاکستان ہاکی فیڈریشن وزیراعلی خیبر پختونخواہ محمود خان کے انتہائی شکر گزار ہیں جنہوں نے صوبے میں ہاکی کے فروغ کیلئے ایک تعمیری کام کرتے ہوئے صوبے کے مختلف ہیڈ کوارٹرز میں آسٹروٹرف بچھائے چیف منسٹرمحمود خان نے ہاکی کو اپ لفٹ کرنے کیلئے سپر ہاکی لیگ کا اہتمام کیا اور سپر لیگ خیبر پختونخواہ ہاکی ایسوسی ایشن نے پاکستان ہاکی فیڈریشن اور سپورٹس ڈائریکٹریٹ خیبر پختونخواہ کے تعاون سے منعقد کروایا .

لیگ کیلئے کے پی ہاکی ایسوسی ایشن نے ہر ریجن میں ٹرائلز کرکے ہاکی کے تمام کھلاڑیوں کو مختلف ٹیموں میں اکاموڈیٹ کیا گیاضم اضلاع ) فاٹا (کے صرف تین کھلاڑی تھے لیکن پھر بھی ٹرائبل ٹیم بنائی گئی اس کیلئے اولمپین رحیم خان کی سربراہی میںبنائی گئی کمیٹی میں بین الاقوامی ہاکی کھلاڑی ضیاء الرحمان بنوری ‘ یاسر اسلام سمیت آئینی طور پر کمیٹی کے ممبران سید ظاہر شاہ جو کہ صدر خیبر پختونخواہ ہاکی ایسوسی ایشن جبکہ جنرل سیکرٹری ہدایت اللہ نے بھی ممبران کی حیثیت سے فرائض انجام دئیی.جنہوں نے سلیکشن کے بعد ٹیمیں تشکیل دی.انہوں نے کہاکہ یہاں پر اس امر کا ذکر ضروری ہے کہ کچھ تلخ حقائق ایسے ہیں جن کا ذکر میڈیا ٹاک کے ذریعے بعد میں کیا جائیگا کسی کو سفید ہاتھی نہیں بننا چاہیی.کیونکہ کچھ معاملات کی تحقیقات جاری ہیں.یہ وہ تلخ حقیقت ہیں جن کا ذکر بہت ضرور ی ہی.قابل افسوس بات یہ ہے کہ آرگنائزنگ سیکرٹری اور آرگنائزنگ کمیٹی کی آپس میں کوئی کوارڈینیشن وہ نہیں تھی جو ہونے چاہئیے تھی جس کی وجہ سے مختلف معاملات میں مشکلات پیش آئیں .

سید ظاہر شاہ کے مطابق خیبر پختونخواہ ہاکی ایسوسی ایشن نے پی ایچ ایف سے رابطہ کرکے بتیس کھلاڑی جن میں سولہ سینئر اور سو لہ جونیئر کھلاڑی تھے مانگ لئے جس کی مد میں پینتیس لاکھ روپے سپورٹس ڈائریکٹریٹ نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کو ادا کردئیے گئے بعد میں ان کھلاڑیوں کو سپورٹس ڈائریکٹریٹ نے خو د نیلام کیا.ان آٹھ ٹیمو ں کو مختلف مالکان )ٹھیکیداران(کے حوالے کردیا گیا ان کے مطابق پاکستان ہاکی فیڈریشن نے نے بڑی مشکل سے چار سے پندرہ اکتوبر تک کی تاریخ لیگ کیلئے ہمیں دی لیگ کے دوران شیڈول بتیس میچز کھیلے گئے جو کہ کافی ٹائٹ شیڈول تھا ً لیگ کا انعقا د صوبے کے مختلف سنٹرز پر کرایا گیا جس میں نئی بچھائی جانیوالی ٹرف بھی شامل تھیںجن کے باعث کچھ مشکلات سامنے آئی.سید ظاہر شاہ کے مطابق تاریخ میں پہلی مرتبہ ہاکی کی اوپننگ بغیر میچ کے عمل میں لائی گئی جس میں پہلی مرتبہ ہم نے دیکھا کہ ہاکی ٹرف پر سٹیج بنایا گیا اور آتش بازی اور گانوں کا اہتمام کیا گیا تھا.جو کہ عمومی طور پر اولمپکس کے مقابلوں میں ہوتا ہی.سید ظاہر شاہ کے مطابق مختلف مقامات پرآرگنائزیشن کا ذکر انتہائی ضرور ی ہے بنوں میں انتظامات نہایت ہی ناقص رہے ‘ گرائونڈ پر پانی تو چھوڑیں پینے کیلئے بھی پانی دستیاب نہیں تھا ایسوسی ایشن کو اس بات کا ڈر تھا کہ اس میں کہیں انجریز نہ ہو جائے کیونکہ ایک ماہ بعد جونیئر ٹیم نے ورلڈ کپ کیلئے جانا ہے بہر حال ہم نے بڑی مشکل سے بنوں میں دو میچز کرائے صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ کو اس کا نوٹس لینا چاہئیی.چارسدہ اور ڈی آئی خان میں اعلی ترین انتظامات تھی. انہوں نے کہاکہ اسلامیہ کالج پر ایک ہی میچ ہو سکا جس کے انتظامات بھی ناکافی تھے۔

(جاری ہے)

سید ظاہر کے مطابق ہاکی لیگ ایف آئی ایچ اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کے رولز ‘ ریگولیشن کے مطابق کھلایا گیا اور جتنی بھی تادیبی بھی کاروائی کی گئی وہ ایف آئی ایچ او ر پاکستان ہاکی فیڈریشن کے قواعد و ضوابط کے مطابق تھی..سید ظاہر شاہ کے مطابق بین الاقوامی قوانین کے مطابق سنگل لیگ کے مقابلوں میں سیمی فائنل نہیں ہوتا لیکن چیئرمین آرگنائزنگ کمیٹی کے کہنے کے مطابق وزیراعلی نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ سیمی فائنل ہونی چاہئیے چونکہ یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی تھی اس لئے چیئرمین آرگنائزنگ کمیٹی سے باقاعدہ منظوری لی گئی .

لیکن بعد میں پتہ چلا کہ ایک خاص ٹیم کیلئے یہ سب کچھ کروایا گیا.ان کے مطابق اختتامی تقریب میں کھلاڑیوں کو انعامات کا اعلان کیا گیا جسے جیو سپر نے لائیو ٹیلی کاسٹ بھی کیا پہلے آنیوالی ٹیم کیلئے دس لاکھ تھے جس کے بورڈ زاہداور ابوبکر پاکستان کے بین الاقوامی ہاکی کھلاڑی نے وصول کئے قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑی ابوبکر کو بہترین کارکردگی پر ایک لاکھ جبکہ زاہد کو پچاس ہزار دینے کا اعلان کیا گیا.. لیکن آج تک یہ انعامات ان کھلاڑیوں ک نہیں مل سکی.اب سننے میں آرہا ہے کہ دس لاکھ روپے کا انعام عمیر ٹھیکیدار کو دیا جائیگا .

اسی عمیر ٹھیکیدار نے ٹورنامنٹ ختم ہونے کے بعد سپورٹس ڈائریکٹریٹ کو دس لاکھ روپے کا چیک دیا جو کہ بائونس ہوگیا جس کا مطلب ہے کہ دس لاکھ روپے جمع ہی نہیں کرائے گئے پشاور ٹیم کاسارا خرچہ ہاکی ایسوسی ایشن نے ادا کیا کیونکہ عمیر بھاگ گیا تھا اور لیگ کیلئے یہ بڑی بدنامی کا باعث بن رہا تھا .اسی ٹھیکیدار نے انڈر 21 کیلئے چیف کوچ شفقت اللہ کیساتھ مل کر ہاکی سٹک خریدے جو پلاسٹک پائپ کے بنے ہوئے تھے اور پانچ سو روپے کے ہاکی سٹک پر ہزاروں روپے کی کمپنی والے سٹکر لگا دئیے گئے یہ سٹک آپ لوگوں کے سامنے ہیں.سید ظاہر شاہ کے مطابق تقریب میں جو رقم آتش بازی اور گانوں وغیرہ پرلگائی گئی اور جتنا خرچہ اس پر آیا اگر یہ کھلاڑیوں میں تقسیم ہوتا جو کہ ہاکی کے بہت غریب کھلاڑی ہیں تو میرے خیال میں بہت بہتر ہوتا.انہوں نے کہاکہ اگر دس لاکھ ‘ ایک لاکھ ‘ پچاس ہزار پشاور کی ٹیم کیلئے اور باقی انعام دوسری پوزیشن والے تیسری انعام نہیں دئیے گئے تو یہ دس لاکھ پانچ تین لاکھ کے کارڈ اور ایک لاکھ ‘ پچاس ہزار کے کارڈ احتجاج کے ساتھ سپورٹس ڈائریکٹریٹ کو واپس کردئیے جائینگے کیونکہ یہ انعامات کھلاڑیوں کیلئے ہیں نہ کے ٹھیکیداروں کیلئی.‘ سید ظاہر شاہ کے مطابق لیگ کے دوران پاکستان کے سینئر اور جونیئر کھلاڑی بار بارچینجنگ رومز کی شکایت کرتے رہے کہ ہمارا چینجنگ روم نہیں ہے پشاور کے لالہ ایوب ہاکی سٹیڈیم میں جنرل عزیز سے کے پی ہاکی ایسوسی ایشن نے ٹیموں کیلئے چینجنگ رومز بنائے تھے لیکن چینجنگ روم ہونے کے باوجود کھلاڑی اس سے محروم رہے سید ظاہر شاہ نے بتایا کہ وزیراعلی ہائوس میں منعقدہ ہاکی کے پروگرام میں سکواش کے کھلاڑیوں کو نمایاں رکھا گیا ‘ حالانکہ ٹرافی کی رونمائی میں ہاکی کے کھلاڑیوں کو ہونا چاہئیے تھا لیکن نہ تو ہاکی کے اولمپین ‘ چیئرمین کے پی ہاکی ایسوسی ایشن ‘ نہ صدر اور نہ جنرل سیکرٹری کو رونمائی کے موقع پر نہیں بلایا گیا جو قابل افسوس ہے اس ے اگلے روز انفرادی حیثیت میں کام کرنے والے چند افراد نے لیگ کی کوریج کے بائیکاٹ کا اعلان کیا .

بائیکاٹ کے اعلان پر کوئی اثر نہیں پڑا کیونکہ ہمیں کسی سے لینا دینا نہیں . ہاں میں ان تمام صحافی برادری کا مشکور ہوں جنہوں نے مثبت سوچ رکھی اور اپنی صحافتی ذمہ داری پوری ایمانداری سے ادا کی جس پر کے پی ہاکی ایسوسی ایشن ان کی خدما ت کو سراہتی ہے۔

پشاور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments