خیبرپختونخواہ کے سینئیر جج پر زیادتی کا الزام غلط ثابت ہو گیا

الزام لگانے والی خاتون کے خلاف پنجاب میں آٹھ ایف آئی آرز درج ہیں۔ تحقیقات میں‌ ہوشربا انکشاف

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر 6 دسمبر 2021 11:56

خیبرپختونخواہ کے سینئیر جج پر زیادتی کا الزام غلط ثابت ہو گیا
پشاور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 06 دسمبر 2021ء) : خیبرپختونخواہ کے سینئیر جج پر زیادتی کا الزام غلط ثابت ہو گیا جبکہ زیادتی کا الزام عائد کرنے والی خاتون سے متعلق بھی اہم انکشافات سامنے آ گئے۔ تفصیلات کے مطابق تفتیشی ٹیم نے تیمر گرہ سے تعلق رکھنے والے سینئیر جج پر عائد کیے گئے الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے رپورٹ عدالت میں جمع کروا دی۔

مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کی تحقیقات میں خاتون کا کرمنل ریکارڈ بھی سامنے آیا جب کہ یہ انکشاف بھی ہوا کہ سینئیر جج پر زیادتی کا الزام عائد کرنے والی خاتون کے خلاف پنجاب میں آٹھ ایف آئی آرز درج ہیں۔ پنجاب پولیس نے مذکورہ خاتون کا کرمنل ریکارڈ خیبرپختونخواہ حکام کے حوالے کردیا۔ تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا کہ مذکورہ خاتون نے پولیس کو اپنا نام غلط دعا اختر بتایا جبکہ اُس کا اصل نام عظمٰی شہزادی ہے۔

(جاری ہے)

تفتیشی ٹیم کا کہنا ہے کہ الزام ثابت کرنے کے لیے خاتون کا میڈیکل کروایا گیا لیکن میڈیکل رپورٹ میں بھی خاتون زیادتی ثابت نہیں ہوئی ۔ خاتون اپنے حق میں کوئی ثبوت بھی پولیس کو فراہم نہیں کر سکی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق متعلقہ جج کی درخواست ضمانت منظور ہونے پر عدالت نے جج کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ یاد رہے کہ گذشتہ ماہ خیبرپختونخواہ کے ضلع لوئر دیر میں سینئر سول جج نے ڈینٹل سرجری کی طالبہ کے کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا جس پر سول جج کو گرفتار کر لیا گیا جب کہ پولیس نے ایف آئی آر درج کرکے لڑکی کو میڈیکل کے لیے مقامی اسپتال منتقل کردیا۔

اس حوالے سے ڈی پی او عرفان اللہ نے بتایا کہ متاثرہ لڑکی چترال کی رہائشی اور پشاور میں بی ڈی ایس کی طالبہ ہے۔ متاثرہ لڑکی نے پولیس کو دئے گئے بیان میں بتایا کہ مقامی جج نے 15 لاکھ روپے رشوت لے کر نوکری دینے کا وعدہ کیا تھا، تاہم نوکری دینے کے بہانے جج نے طالبہ کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنایا۔ اس حوالے سے ڈی پی او عرفان اللہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ لڑکی کے بیان پر مقامی جج کے خلاف کے خلاف 376 پی پی سی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

پشاور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments