بلاول کا تمسخر قابل مذمت، بڑے عہدوں پر چھوٹے لوگوں سے یہی توقع کی جا سکتی ہے،ایمل ولی خان

قوم اورماڑو سانحہ پر احتجاج کے انتظار میں تھی ، کپتان نے اپنے ملک کو دہشت گرد قرار دے دیا مسلط وزیر اعظم کو لانے والوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے،عمران ملک توڑنے کا سبب بنے گا قبائلی علاقوں سے مائنز کی صفائی اور بے گناہ لاپتہ افراد رہا کر کے عدالتی نظام رائج کیا جائے

جمعہ اپریل 00:05

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 اپریل2019ء) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ دورہ ایران میں وزیر اعظم کے غیر سنجیدہ بیان نے ملک کی ساکھ داؤ پر لگا دی ہے اور عمران خان جیسے غیر ذمہ دار انسان کے اقتدار میں رہنے سے ملک دو لخت ہو سکتا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز پشاور میں اے این پی سٹی ڈسٹرکٹ کابینہ کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر انہوں نے سٹی ڈسٹرکت کابینہ کے ممبران سے حلف لیا اور انہیں مبارکباد پیش کی ، ایمل ولی خان نے کہا کہ قوم اس انتظار میں تھی کہ اورماڑو سانحہ پر وزیر اعظم ایران سے احتجاج کریں گے لیکن بدقسمتی سے ہمارے مسلط وزیر اعظم نے قوم کے ارمانوں کا خون کرتے ہوئے اپنے ہی ملک کو دہشت گرد قرار دے دیا، انہوں نے کہا کہ کپتان کو 22کروڑ عوام پر مسلط کرنے والوں کیلئے بھی لمحہ فکریہ ہے،ایسا شخص مزید اقتدار میں رہا تو ملک ایک بار پھر دو لخت ہو سکتا ہے ،انہوں نے کہا کہ نئے انتخابات کرا کے اقتدار عوامی نمائندوں کے حوالے کیا جائے تاکہ بے چینی کی فضا ختم ہو سکے،انہوں نے مزید کہا کہ قبائلی دورے کے دوران کپتان نے بلاول کے خلاف جو الفاظ استعمال کئے وہ وزیراعظم کے عہدے کے شایان شان نہیں ، انہوں نے کہا کہ عمران پاکستان کی سیاست میں بدقسمت اضافہ ہے اور اسے لانے والوں کو سوچنا چاہئے کہ جب چھوٹے لوگوں کو بڑے عہدے دیئے جائیں گے تو یہی کچھ ہو گا، صوبائی صدر نے کہا کہ کپتان نے سیاست سے شائستگی ختم کر کے گالم گلوچ کو فروغ دیا اور اس پر ان کی نا اہل ٹیم ان کا دفاع کر رہی ہے،انہوں نے کہا کہ فاٹا انضمام کے بعد سے اب تک مزید کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی اور انسانی حقوق کے اہم معاملے کو غیر ضروری طور پر طول دیا جا رہا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ اور گورنر میں اختیارات کی جنگ جاری ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ قبائلی علاقوں سے مائنز کی صفائی کر کے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع روکا جائے،سابق ایم این اے شہاب الدین کے بیٹے کے اغواء پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایف سی آر خاتمے کے باوجود قبائلی شہری محفوظ نہیں اور لاپتہ افراد کی فہرست مزید لمبی ہوتی جا رہی ہے،ایمل ولی خان نے کہا کہ جب تک قبائلی علاقوں کو عدالتی نظام تک رسائی نہیں دی جاتی ،شہریوں کی جان و مال کا تحفظ نہیں کیا جا سکتا، انہوں نے خبردار کیا کہ تمام لاپتہ افراد فوری طور پر رہا کئے جائیں ، ایمل خان نے کہا کہ ہم باچا خان کے سپاہی ہیں اور جان ہتھیلی پر رکھ کر عوامی خدمت کی سیاست کرتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم خود قبائلی علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں لیکن سیاسی مخالفین کیلئے دفعہ144نافذ کر دی جاتی ہے ، انہوں نے کہا کہ جس میں دم ہے ہمیں باجوڑ کا جلسہ کرنے سے روک کر دکھائے ،انہوں نے کہا کہ حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے اور اس بار ننھے بچے بھی اس نا اہلی کی زد میں آ گئے ہیں،پولیو ویکسینیشن کے معاملے پر حکومت نے غفلت کا مظاہرہ کیا اور اس نا اہلی کے نتیجے میں پولیو ورکرز کی جانوں کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں، انہوں نے پشاور،بونیر اور چمن میں پولیو ٹیموں پر حملے کی مذمت کی اور کارکنوں کو ہدایت کی پولیو کے خلاف مہم کو کامیاب بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں، ایمل ولی خان نے کہا کہ عوام پر زبردستی مسلط کئے جانے والے حکمران عوامی مسائل پس پشت ڈال کر ذاتی مفادات کی جنگ میں مصروف ہیں ،2018تک ماضی کی حکومتیں عوام کو ریلیف دیتی رہیں،موجودہ حکومت عوام کی کھال اتارکر اپنے آقاؤں کی جیبیں بھررہی ہے،انہوں نے کہا کہ پشاور میں بی آر ٹی اور خیبر بنک سکینڈل پی ٹی آئی کے دامن پر لگے ایسے داغ ہیں جو صدیوں تک مٹ نہیں سکتے ،نیب نے اپنی آنکھیںخیبر پختونخوا کی جانب سے بند کر کے توپوں کا رخ صرف عمران نیازی کے سیاسی مخالفین کی طرف کر رکھا ہے اور نیب چیئرمین عمران کے باڈی گارڈ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

پشاور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments