ڈینگی کی صورتحال تشویشناک ہے ، قیمتی جانیں حکومتی تساہل کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں، سردار حسین بابک

عوام بے یارومددگار پڑے ہیں ،زیر علاج مریضوں کی داد رسی کیلئے کوئی حکومتی نمائندہ موجود نہیں ہے،وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے جو از خود حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ،عوامی نیشنل پارٹی صوبائی جنرل سیکرٹری

اتوار ستمبر 19:05

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 ستمبر2019ء) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے ڈینگی مریضوں کی تعداد میں آئے روز اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت خاموشی اختیار کرنے کی بجائے قیمتی انسانی جانوں کو بچانے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے ،اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کوئی بھی دوسری چیز انسانی جانوں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، جبکہ آئے روز درجنوں افراد میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہو رہی ہے، انہوں نے کہا کہ صورتحال انتہائی سنگین ہے اور اس موقع پر پوائنٹ سکورنگ کی بجائے معاملے پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے تاہم حکومت کی مجرمانہ خاموشی از خود ایک سوالیہ نشان ہے، انہوں نے کہا کہ کسی بھی قسم کا تساہل انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتا ہے ، صوبے کے عوام بے یارومددگار پڑے ہیں اور ہسپتالوں میں زیر علاج مریضوں کی داد رسی کیلئے کوئی حکومتی نمائندہ موجود نہیں ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے ،سردار حسین بابک نے کہا کہ پی ٹی آئی ڈینگی پر قابو پانے میں مکمل ناکام ہے،صوبائی حکومت غیر سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کرتی تو بیشتر قیمتی انسانی جانیں بچائی جا سکتی تھیں، انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں قابل ڈاکٹروں کی کمی نہیں تاہم انہیں زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹریننگ نہیں دی گئی ، انہوں نے کہا سوشل میڈیا پر سب اچھا کی رپورٹ دینے سے حقیقت چھپ نہیں سکتی ،صوبے میں صورتحال واقعی سنگین ہے اور اس وائرس کو مزید پھیلنے سے روکنے کیلئے انسانی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا ، انہوں نے کہا کہ حکومت کی تمام پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں اور ڈینگی کی وجہ سے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع صحت کا انصاف پر سوالیہ نشان ہے، انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو اس صورتحال سے سبق سیکھنا چاہئے اور فوری طور پر احتیاطی تدابیر، مرض کی روک تھام اور فوری علاج معالجے کے طریقہ کار کے حوالے سے آگاہی مہم کا آغاز کیا جائے تاکہ لوگوں میں اس موذی مرض سے بچاؤ کیلئے شعور اجاگر کیا جا سکے ۔

پشاور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments