آفتاب شیر پائو کا آزادی مارچ مین شرکت کا اعلان

موجودہ حکومت عوام کی توقعات پر پورا اتر نے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے، گالم گلوچ اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے،چیرمین قو می طن پارٹی

پیر اکتوبر 23:54

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 21 اکتوبر2019ء) قو می طن پارٹی کے چیئر مین آفتاب احمد خان شیر پائو نے آزادی مارچ مین شرکت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت عوام کی توقعات پر پورا اتر نے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہو نے وطن کور پشاور میں پارٹی کی فیڈرل اور صوبائی کونسلز کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا۔

اجلاس میں پارٹی کے مرکزی اور صوبائی عہدیداروںکا الیکشن ہوا۔اس موقع پر آفتاب احمد خان شیر پائو کو پارٹی کا مر کزی چیئر مین منتخب کیا گیا،دیگر عہدیداروں میں حاجی محمد غفران سینئر وائس چیئر مین، انیسہ زیب طاہر خیلی جنرل سیکرٹری،احمد نواز جدون ڈپٹی جنرل سیکرٹری،خلیل مردانزئے،سردار احمد نوازاور ضرار بٹ نا ئب چیئر مین،شیر محمد درانی ایڈیشنل سیکرٹری،مسرور شاہ سیکرٹری اطلاعات اور ہاشم رضا ایڈوکیٹ جوائنٹ سیکرٹری منتخب ہوئے جبکہ صوبائی عہدیداروں میں سکندر حیات خان شیر پائو صو بائی چیئر مین،ہاشم بابر جنرل سیکرٹری،طارق احمد خان اور ارشد عمر زئے سینئر وائس چیئر مین،عدنان وزیر،پروفیسر حمید الرحمان،بیدار شاہ اور افضل پنیالہ وائس چیئر مین منتخب ہوئے۔

(جاری ہے)

اسد افریدی ایڈوکیٹ سیکرٹری اطلاعات،ڈاکٹر عالم یوسفزئے کلچر سیکرٹری،تانیہ گل، الحاج ہاشم خان اور مرزا باچا جائنٹ سیکرٹریز اور نسرین خٹک سوشل میڈیا سیکرٹری منتخب ہوئی۔آفتاب شیر پائو نے کہا کہ اپوزیشن نے حکومت کو چار مطالبات پیش کی ہے جس میں وزیر وزیر اعظم کا استعفیٰ،دوبارہ الیکشن کرانا،فوج کی عدم تعیناتی اور آئین کی اسلامی دفعات شامل ہیں۔

حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کے بارے میں انہوں نے کہا کہ گالم گلوچ اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت حزب اختلاف کے رہنمائوں کے لئے غیر شائستہ زبان استعمال کر رہی ہے جس سے ظاہر ہو تا ہے کہ حکومت کا رویہ سنجیدہ نہیں۔انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ حکومت کے ساتھ بات چیت نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ عام انتخابات میں پی ٹی آئی کو جتوانے کے لئے دھاندلی کا سہارا لیا گیا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت مولانا فضل الرحمان کو گرفتار نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لئے کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن حکومت نے اس مطالبہ کو نہیں مانا اور پارلیمانی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا جو ایک اجلاس بھی نہیں کر سکی۔انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کیلئے TORS نہیں ہو سکے،انہوں نے کہا کہ چھوٹے صوبوں کو اپنے حقوق سے محروم رکھے جا رہے ہیں اور CPECکے مغربی روٹ پر فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے کام روک دیا گیا ہے جس سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان متاثر ہو نگے۔

آفتاب شیر پائو نے کہا کہ حکومت نے ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب وفاقی وزیر کہتے ہیں کہ عوام کو روزگار کے لئے حکومت کی طرف نہیں دیکھنا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک سیکورٹی سٹیٹ بن گیا ہے اور ملک کو ایک فلاحی ریاست بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

پشاور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments