پاکستان اور افغانستان تمام تجارتی راستے کھولنے کیلئے فوری اقدامات اٹھائیں، ایمل ولی خان

جمعرات اکتوبر 09:04

ج*پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 01 اکتوبر2020ء) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پاکستان اور حکومت افغانستان مل بیٹھ کر تمام تجارتی راستوں کے فوری کھولنے کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں تاکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت آزادانہ طور پر جاری رہے کیونکہ تجارت بند ہونے سے سب سے زیادہ نقصان پشتونوں کا ہورہا ہے۔

باچاخان مرکز پشاور میں مسلم لیگ (ق) کے صوبائی سینئر نائب صدر ڈاکٹر ملک شوکت علی کی اے این پی میں شمولیت کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ اگر پنجاب کے راستے بھارت کے ساتھ تجارتی و سیاحتی روابط ہوسکتے ہیں تو پاک افغان تجارتی راستوں کو کیوں بند کیا جارہا ہی دونوں ممالک بیٹھ کر ان تجارتی راستوں کے فوری کھولنے کیلئے مشترکہ کوششیں کریں۔

(جاری ہے)

باجوڑ، وزیرستان، طورخم ، مومند سمیت تمام تجارتی راستوں کو فوری طور پر کھول دیا جائے۔باڑ لگ گیا جسکے بعد سیکیورٹی کے مسائل ختم ہونے چاہیئے، اب سیکیورٹی کا بہانہ ہمیں منظور نہیں۔ انہوں نے ایک بار متنبہ کیا کہ دہشتگرد دوبارہ منظم ہورہے ہیں، مردان دھماکہ تازہ مثال ہے، اس آگ کو روکا جائے۔ریاست اور حکومت دہشتگردی کے خلاف سنجیدہ اور فوری اقدامات اٹھائے تاکہ عوام کی جان و مال محفوظ ہو۔

عوامی نیشنل پارٹی نے ہزار سے زائد رہنمائوں اور کارکنان کی قربانیاں دی ہیں، مزید قربانیوں کی تاب نہیں رکھتے۔اگر دہشتگردی نہیں روکی گئی تو یہ تاثر واضح ابھرے گا کہ سب کچھ اجازت سے ہورہا ہے۔ ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ پاکستان میں وسائل پراپنے حق کی جنگ جاری ہے، اسے نئی شکلیں دی جارہی ہیں۔ہم کسی کا حق نہیں مانگتے، صرف اپنے وسائل پر اپنے حق کی بات کرتے ہیں۔

سب سے زیادہ بجلی پیدا کرنیوالے صوبے میں کو انکی ضرورت کے مطابق بجلی بھی نہیں د ی جارہی۔ اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ مقتدر قوتیں ہمیں پارلیمنٹ سے باہر رکھ سکتے ہیں لیکن سیاسی میدان سے کوئی باہر نہیں کرسکتا۔پشتونوں سمیت ہر قومیت کو اپنے وسائل کی حفاظت کرنی ہوگی۔ اس موقع پر ضلع پشاور کے عہدیداران اور صوبائی کابینہ کے اراکین بھی موجود تھے۔ اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے ڈاکٹر ملک شوکت علی کو پارٹی ٹوپی پہناکر خوش آمدید کہا

پشاور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments