جنوبی اضلاع میں کسی چیز کی کمی نہیں، کمی حکمرانوں کے عقل و شعور میں ہے،مشتاق احمدخان

پی ٹی آئی حکومت میں جنوبی اضلاع کے عوام ہر قسم کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور پتھر کے زمانے میں زندگی گزار رہے ہیں، قدرتی دولت، بے انتہا معدنیات سے مالا مال جنوبی اضلاع کے عوام کو حکمرانوں نے دانستہ پسماندہ رکھا ہے ،،امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا

منگل نومبر 22:38

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 نومبر2020ء) امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ جنوبی اضلاع میں کسی چیز کی کمی نہیں، کمی حکمرانوں کے عقل و شعور میں ہے۔ پی ٹی آئی حکومت میں جنوبی اضلاع کے عوام ہر قسم کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور پتھر کے زمانے میں زندگی گزار رہے ہیں، قدرتی دولت، بے انتہا معدنیات سے مالا مال جنوبی اضلاع کے عوام کو حکمرانوں نے دانستہ پسماندہ رکھا ہے جنوبی اضلاع کوتمام سہولیات کے ساتھ سی پیک میں حصہ بشمول موٹروے، ریلوے، اسپیشل اکنامک زون، فور جی اور مستقبل میں فائیو جی کی فراہمی یقینی بنائی جائی۔

پشاور سے ڈیرہ اسماعیل خان تک سی پیک روٹ ہر قسم کے خطرات سے محفوظ ہوگا، اس لئے اس کی تعمیر کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں۔

(جاری ہے)

پینے کے پانی اورآبنوشی کے مسئلہ کے حل کے لئے چشمہ رائٹ بنک لیفٹ کنال کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ اس سے جنوبی اضلاع میں زرعی انقلاب آئے گا۔ تیل اور گیس کی رائلٹی اور قومی و صوبائی بجٹ میں جائز حصہ جنوبی اضلاع کا حق ہے۔

تیل کی صفائی کے آئل ریفائنریاں لگائی جائیں۔ ضم شدہ چار اضلاع کرم،اورکزئی اور شمالی و جنوبی وزیرستان اور سابقہ ایف آرز دہشت گردی اور فوجی آپریشنوں میں متاثر ہوئے ہیں، ان کو 100ارب روپے سالانہ کے پیکج میں اپنا جائز حصہ دیا جائے۔تمام اضلاع میں چھوٹے بارانی ڈیمز تعمیر کیے جائیں۔ ساتھ ساتھ ہونے والے نقصانات اور تباہی کی تلافی کی جائے۔

پاڑا چنار، غلام خان اور انگور اڈہ کو سرحدی تجارت کے لئے ترقی دی جائے اور انہیں 20سال تک ٹیکس سے مستثنیٰ کیا جائے۔ جنوبی اضلاع بشمول نئے ضم شدہ اضلاع میں میڈیکل کمپلیکس، لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے یونیورسٹیاں، کالجز، سکولز اور کھیل کے میدان بنائے جائیں اور تمام سہولیات سے آراستہ ہسپتال تعمیر کئے جائیں۔ درہ آدم خیل میں حکومتی سرپرستی میں اسلحہ سازی کا کار خانہ بنایا جائے۔

تاکہ یہاں کے محنت کش عالمی معیار کا اسلحہ تیار کرسکیں۔ بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان کے ائیرپورٹس کو اندرون و بیرون ملک فلائٹس آپریشن کے لئے بحال کیا جائے تاکہ ان علاقوں کے لوگوں کو عمرہ اور دیگر معاملات کے لئے بیرون ملک سفر کی سہولت گھر کی دہلیز پر میسر ہو۔مطالبات کے حصول کے لئے یکم دسمبر سے 11 اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کے دفاتر کے سامنے دھرنے دیں گے اور 27 دسمبر کو سرائے نورنگ میں جلسہ عام منعقد کریں گے جس میں سینیٹر سراج الحق خطاب کریں گے، 27 دسمبر تک حکومت نے ہمارے مطالبات پورے نہ کئے تو پشاور اور اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ اور وزیر اعلیٰ، گورنر ہاؤس، پارلیمنٹ ہاؤس اور وزیر اعظم ہاؤس کے سامنے دھرنے دیں گے۔

صرف جماعت اسلامی ہی جنوبی اضلاع کو حقوق دلاسکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے میلاد پارک بنوں شہر میں تحریک حقوق جنوبی اضلاع کونسل کے زیر اہتمام ممبرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا کے نائب امیر مولانا تسلیم اقبال، ضلع بنوں کے امیر پروفیسر اجمل خان، لکی مروت کے قائمقام امیر حاجی عبد الصمد خان، تحریک حقوق جنوبی اضلاع کونسل کے جنرل سیکرٹری حاجی اختر علی شاہ، سابق ایم پی اے فتح اللہ خان میاں خیل اور فرید اعظم ایڈووکیٹ نے خطاب کیا۔

کنونشن میں جنوبی اضلاع بشمول نئے ضم شدہ اضلاع کے امراء بھی موجود تھے۔ سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ سکولوں کی بندش کا فیصلہ غیر دانشمندانہ اور تعلیم دشمنی پر مبنی ہے۔ یورپ میں کورونا کی دوسری لہر ہم سے زیادہ شدید اور خطرناک ہے لیکن وہاں سکولوں کو بند نہیں کیا گیا۔ دوسری جنگ عظیم میں بھی تعلیمی ادارے بند نہیں کئے گئے۔ پاکستان میں پہلے ہی خواندگی کی شرح کم ہے، سکولوں کی بندش سے یہ شرح مزید بڑھ جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس فیصلے سے پہلے والدین، اساتذہ اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی منتخب ایسو سی ایشنز جو مین سٹیک ہولڈرز ہیں کو اعتماد میں نہیں لیا۔ حکومت کو ایس او پیز کے ساتھ شفٹس میں سکولوں کوکھلا رکھنا چاہیے۔ بچے گھروں، گلیوں اور محلوں کے بجائے اسکولز میں زیادہ محفوظ ہیں۔ وفاق کرونا کی آڑ میں اٹھارویں ترمیم کو بلڈوز کر کے صوبوں کے معاملات میں مداخلت اور صوبائی خود مختاری کو پامال کر رہی ہے۔

پرائیویٹ تعلیمی ادارے بالخصوص تباہی کے دہانے پر ہیں حکومت فوری طور پر ان کو بڑا مالیاتی پیکیج دے اور اسکولوں کی بندش کاغیر دانش مندانہ فیصلہ واپس لے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی خبریں آ رہی ہیں۔ اسرائیل کو تسلیم کرنا عالم اسلام، مسجد اقصیٰ اور فلسطین کے عوام سے غداری ہے۔

پاکستان کے عوام اس فیصلے کو تسلیم نہیں کریں گے۔ حکمران ہوش کے ناخن لیں اور دباؤ کو برداشت کریں۔ انہوں نے کہا کہ عرب حکمران میر جعفر اور میر صادق ہیں۔ یہ حکمران پوری امت کے غدار ہیں۔ محمد بن سلمان نے اسرائیل کو تسلیم کیا تو خادم الحرمین الشریفین نہیں بلکہ خادم امریکہ و اسرائیل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی اضلاع قدرتی دولت سے مالا مال ہیں اور یہ بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ لیکن ان کے وسائل اور سٹریٹیجک اہمیت سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جارہا۔ مردم شماری میں جنوبی اضلاع کی آبادی بہت کم بتائی گئی ہے۔ یہاں کی آبادی ایک کروڑ سے زائد ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی اضلاع کے حقوق کے لئے سینیٹ سمیت ہر محاذ پر لڑیں گے اور انہیں حقوق دلا کر رہیں گے۔

پشاور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments