ہیلتھ فاونڈیشن نجی شعبہ کے ساتھ مل کر صوبے میں نئے ہسپتال قائم کرے،تیمور جھگڑا

عوام کو بہتر صحت سہولیات کی فراہمی کے لیے ہسپتالوں میں مختلف سروسز کو آؤٹ سورس کیا جائے،خیبرپختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ

منگل نومبر 23:31

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 نومبر2020ء) خیبرپختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا نے کہا ہے کہ ہیلتھ فاونڈیشن نجی شعبہ کے ساتھ مل کر صوبے میں نئے ہسپتال قائم کرے۔ عوام کو بہتر صحت سہولیات کی فراہمی کے لیے ہسپتالوں میں مختلف سروسز کو آؤٹ سورس کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہیلتھ فاؤنڈیشن خیبرپختونخوا کے بورڈ ممبران کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

صوبائی وزیر کی ہدایت پر ہیلتھ فاؤنڈیشن کے نئے بورڈ کی تشکیل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ فاؤنڈیشن کا صحت سہولیات اور ہیلتھ سسٹم کی بہتری میں اہم کردار ہے۔ اسی وجہ سے اسے مکمل طور پر فعال بنایا جا رہا ہے۔ تیمور جھگڑا نے ہیلتھ فاؤنڈیشن کے بورڈ کو نجی ہسپتالوں کے ساتھ مل کر صوبے میں نئے ہسپتال بنانے کے احکامات جاری کیے۔

(جاری ہے)

صوبائی وزیر نے کہا کہ نجی شعبہ کے لیے سرمایہ کاری کے لئے مواقع موجود ہیں۔

اجلاس کے دوران تیمور جھگڑا نے کہا کہ عوام کو بہتر صحت سہولیات کی فراہمی کے لیے ہسپتالوں میں مختلف سروسز کو جن میں کلینیکل اور نان کلینیکل خدمات شامل ہیں کو آوٹ سورس کرنے کے لیے پلان تیار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبہ کے تعاون سے ہیلتھ سسٹم مزید بہتر ہوگا۔ دریں اثنا صوبائی وزیر نے صوبے میں چھ (6) ہسپتالوں کو آوٹ سورس کرنے پر ہیلتھ فاونڈیشن کی کارکردگی کو خصوصی طورپر سراہا۔

یہ ہسپتال عمدہ طریقے سے فعال اور بہترین صحت سہولیات مہیا کر رہے ہیں۔ قبل ازیں صوبائی وزیر صحت و خزانہ سے ٹیلی نار پاکستان کے عہدیداران نے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران خان بنگش اور معاون خصوصی برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ضیاء اللہ خان بنگش بھی موجود تھے۔ تیمور جھگڑا نے وفد سے صوبے میں ٹیلی نار کی سروس (کوریج) کو بہتر کرنے اور اس میں مزید سرمایہ کاری کرنے کے حوالے بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی کام سیکٹر میں سرمایہ کاری سے صوبے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ا س موقع پر صوبائی وزیر نے آئی ٹی بورڈ کو صحت سہولت پروگرام کے تحتE-Cardپر کام کرنے کی ہدایت بھی کی۔

پشاور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments