پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی آئندہ ماہ فعال ہو جائے گا، تیمور جھگڑا

پشاور میں پی ڈی ایم جلسے کے بعد کورونا کیسز کی شرح 20 فیصد ہو گئی ،صوبائی وزیر صحت

ہفتہ نومبر 20:57

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 نومبر2020ء) خیبرپختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا نے کہا ہے کہ نو تعمیر شدہ پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو آئندہ ماہ کے وسط میں فعال کر دیا جائے گا۔ ہسپتال میں دل کے علاج کے لیے اسٹیٹ آف دی آرٹ سہولیات مہیا کی گئی ہیں۔ پشاور میں پی ڈی ایم کے جلسے کے بعد کورونا کیسز کی شرح 20 فیصد ہو گئی ہے جو کہ تشویش ناک ہے۔

صوبائی وزیر نے ان خیالات کا اظہار پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ پی آئی سی 250 بستروں پر مشتمل ہے جس میں کارڈیو وسکولر سرجری اور علاج کی اسٹیٹ آف دی آرٹ سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ امراض دل کے ہسپتال میں کل 6 جدید لیبارٹریاں ہیں اور 6 ہی آپریشن تھیٹرز بنائے گئے ہیں۔

(جاری ہے)

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ہسپتال کے مکمل فعال ہونے کے بعد سالانہ 2500 سے 3000 ہارٹ سرجریز کی جا سکیں گی۔ ابتدائی طور پر ہسپتال 140 بستروں، 3 لیبارٹریوں اور 2 آپریشن تھیٹرز کے ساتھ آئندہ ماہ کے وسط میں آپریشنلائز ہو جائے گا۔ تیمور جھگڑا نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے یہ امر خوش آئند ہے کہ ہسپتال میں صحت کارڈ سے بھی مستفید ہوا جا سکے گا۔

اس مقصد کے لیے آئندہ چند دنوں میں اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے ساتھ ہسپتال کا معاہدہ طے پا جائے گا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ہسپتال میں ماہرین قلب بیرون ملک سے تربیت یافتہ ہیں اور زیادہ تر کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے جن میں 7 کارڈیالوجسٹس اور 3 کنسلٹنٹ سرجنز نے ابھی جوائننگ کر لی جبکہ مزید ماہرین بھی آنے والے ہیں۔ تیمور جھگڑا کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کے پشاور میں جلسے کے بعد صوبائی دارالحکومت میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 20 فیصد ہو گئی ہے جو کہ ہم سب کے لیے تشویش ناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم جلسوں کے بعد 2 اپوزیشن رہنما بھی کورونا کا شکار ہوئے ہیں جن کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔ تیمور جھگڑا نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے پی ڈی ایم کے خلاف کارروائی پر مشاورت کریں گے۔

پشاور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments