اے این پی کا جنوری میں پشاور میں عظیم الشان جلسہ کا اعلان

اے این پی پشاور میں عظیم الشان جلسہ کر کے یہ بات ثابت کرے گی کہ خدائی خدمتگار تحریک کے وارث زندہ ہیں، ایمل ولی خان پی ڈی ایم کے ضلعی رہنماؤں پر جھوٹے حکومتی مقدموں کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں،پشاور پریس کلب کے سامنے پی ڈی ایم رہنماؤں پر جھوٹی ایف آئی آرز کے خلاف احتجاج سے خطاب

منگل دسمبر 23:30

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 01 دسمبر2020ء) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ جنوری کے مہینے میں خدائی خدمتگار تحریک کے صد سالہ تقریبات کے موقع پر اے این پی پشاور میں عظیم الشان جلسہ کر کے یہ بات ثابت کرے گی کہ خدائی خدمتگار تحریک کے وارث ،باچا خان اور ولی خان کے پیروکار زندہ ہیں، پشاور پریس کلب کے سامنے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ پشاور جلسے کی پاداش میں پی ڈی ایم کے ضلعی رہنماؤں پر حکومت کی جانب سے ایف آئی آرز درج کرانے کے خلاف عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام عظیم الشان احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ ایسے مقدمے اور ایف آئی آرز عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنان کے لئے کوئی نئی بات نہیں ،سلیکٹڈ حکومت اے این پی کو جھوٹے مقدموں اور جیلوں سے نہیں ڈرا سکتی،اے این پی کی سو سالہ تاریخ گواہ ہے کہ ایسی کوئی جیل نہیں جس میں اے این پی کے اکابرین نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت نہ کی ہو، سلیکٹڈ حکومت کو چیلنج کرتے ہیں کہ اے این پی کے ایک بھی کارکن کو گرفتار کر کے دکھادیں۔

(جاری ہے)

حکومت کی جانب سے پی ڈی ایم کے ضلعی رہنماؤں پر جھوٹے مقدموں کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں، عوامی نیشنل پارٹی کے ایک بھی کارکن پر اس نالائق، بزدل اور سلیکٹڈ حکومت کی جانب سے سیاسی ایف آئی آر کا مطلب ایمل ولی خان پر ایف آئی آر تصور ہوگا اور اس کا جواب میں خود دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ باچا خان اور خدائی خدمتگاروں کو اس مٹی کی خاطر تکالیف برداشت کرنی پڑی، جیلیں کاٹنی پڑی، گولیاں کھانی پڑی لیکن ان کے جذبے پست نہیں ہوئے اور اپنے عقیدوں سے پیچھے نہیں ہٹیں، اے این پی کے کارکنان ان عقائد اور نظریات کی وارث ہے جن کی وجہ سے انگریزوں کو یہ سرزمین چھوڑنی پڑی تو یہ موجودہ جعلی حکومت کیا چیز ہے۔

بابڑہ سے لے کر موجودہ ہشت گردی کا مقابلہ کرنے تک خدائی خدمتگار تحریک کے وارث اے این پی کے کارکنان اپنی جانیں قربان کرنے سے پیچھے نہیں ہٹیں تو سلیکٹڈ حکومت کی جیلیں ان کے سامنے کیا ہی اے این پی کو پارلیمان سے باہر کرانے کی کوششیں تو کامیاب ہوسکتی ہیں لیکن اس مٹی کے حقوق کے لئے سیاست سے اے این پی کو کوئی نہیں روک سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پشتونوں کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیا جارہا ہے، ان کو جان بوجھ کر معاشی طور پر کمزور کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، ہندوستان کے ساتھ امن کے نام پر تجارتی راہداریاں کھولی جارہی ہیں لیکن پشتونوں سیکیورٹی اور خراب حالات کے نام پر تجارت اور کاروبار کرنے سے روکا جارہا ہے، چمن میں گزشتہ روز نہتے لوگوں پر جو ظلم کیا گیا وہ شرمناک ہے، اے این پی مطالبہ کرتی ہے کہ افغانستان کے ساتھ جتنے بھی تجارتی راستے ہیں ان کو فورا کھولا جائے اور پشتونوں کو باعزت روزگار کمانے کا موقع دیا جائے، طور خم کو این ایل سی کے حوالے کرنے کی اے این پی بھرپور مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ این ایل سی سے یہ ذمہ داری لے کر طورخم کو متعلقہ اداروں کے حوالے کیا جائے، انہوں نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان میں امن ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہے، افغانستان میں امن خطے میں امن کی ضمانت ہے، پاکستانی ریاست کو افغان امن مذاکرات میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے مختلف حصوں میں دہشت گرد دوبارہ منظم ہو رہے ہیں، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے واقعات رونما ہو رہے ہیں، ریاست سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان دہشت گردوں اور شدت پسندوں کے خلاف بلاتفریق کاروائیاں کی جائیں۔ احتجاجی مظاہرے سے اس این پی کے مرکزی سیکرٹری مالیات حاجی ہدایت اللہ خان، صوبائی جنرل سیکرٹری سردارحسین بابک، نائب صدر شازیہ اورنگزیب، نائب صدر شاہی خان شیرانی ، ایڈیشنل جنرل سیکرٹری رحمت علی خان، سیکرٹری ثقافت خادم حسین اور دانیال بلور نے بھی خطاب کیا، مظاہرے میں اے این پی کی ذیلی تنظیموں این وائے اور، پی ایس ایف، ملگری استاذان، ملگری وکیلان، ملگری لیکوالان اور کثیر تعداد میں پارٹی کارکنان اور عہدیداران نے شرکت کی۔

پشاور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments