صوبائی حکومت نے نامساعدحالات میں متوازن بجٹ پیش کیا، شوکت یوسفزئی

11سوارب کا بجٹ جس میں371ارب کا ترقیاتی فنڈشامل ہے،ایک تاریخی اقدام ہے ، صوبائی وزیرمحنت پوزیشن جماعتوں نے صوبائی بجٹ کوخسارے کابجٹ قراردیدیا

منگل جون 00:10

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 21 جون2021ء) خیبرپختونخوااسمبلی میں کرونامیں اگرچہ ایک طرف پوری دنیا کی معیشت سکڑی اس صورتحال صوبائی حکومت نے نامساعدحالات میں متوازن بجٹ پیش کیاہے، 11سوارب کا بجٹ جس میں371ارب کا ترقیاتی فنڈشامل ہے،ایک تاریخی اقدام ہے جبکہ خیبرپختونخواکی اپوزیشن جماعتوں نے صوبائی بجٹ کوخسارے کابجٹ قراردیدیا۔

ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیرمحنت شوکت یوسفزئی نے اسمبلی اجلاس سے خطاب کررتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ نے پرامن اندازمیں بجٹ پیش ہونے پر تمام اراکین کومبارکبادپیش کرتے ہوئے کہاہے کہ کرونامیں اگرچہ ایک طرف پوری دنیا کی معیشت سکڑی اس صورتحال میں صوبائی بجٹ متوازن بجٹ ہے 11سوارب کا بجٹ جس میں371ارب کا ترقیاتی فنڈشامل ہے،ایک تاریخی اقدام ہے اسمبلی اجلاس میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے کہاکہ اگریہ بجٹ آئی ایم ایف کے کنٹرول میں ہوتا توکیاوزیراعظم اڈوں سے متعلق امریکہ کو کراراجواب دے سکتے تھے یہ ہمارابجٹ ہے وفاقی محاصل کومدنظررکھ کر بجٹ بنایاجاتاہے اوریہ سابقہ ادوارمیں بھی ہوتارہاہے ابھی تک کسی حکومت کومرکز سے مکمل شیئرنہیں ملے تو بجلی منافع،ٹیکسزمیں شیئرسے کیاہم دستبردارہوجائیں این ایچ پی سے ہرمہینے صوبے کوتین ارب مل رہاہے اے جی این فارمولے پربارباربات ہورہی ہے اپنے حق سے پیچھے نہیں ہٹ رہے انہوں نے کہاکہ ایس ڈی جیزمیں تمام محروم وپسماندہ علاقوں کوشامل کیاجائے گاصوبائی محصوالات54ارب تک پہنچ چکے ہیں آئندہ سال کا74ارب کاہدف رکھاہے صحت کارڈکے تحت ایک لاکھ65ہزارلوگ استفادہ کرچکے ہیں بجٹ میں اس کیلئی23بلین رکھے ہیں اس دفعہ جگرکی پیوندکاری شامل کیاہے تمام بی ایچ یوزاورآرایچ یوزکواپگریڈکیاجارہاہے دوسوکے قریب ان مراکزکو24/7سہولت سے آراستہ کرینگے 24بلین تعلیم اور22بلین صحت کے بجٹ میں اضافہ کیاہے پولیس کیلئی12بلین،ٹورازم کیلئی11بلین رکھے ہیں جس سے سب سے زیادہ فائدہ ہزارہ ڈویژن کاہوگاآئی ٹی کے بجٹ میں چھ فیصداضافہ کیاہے وسائل کے لحاظ سے ہم کمزورہیں اس کے باوجود صوبہ33فیصد ترقیاتی بجٹ کے لحاظ سے لیڈکررہاہے شوکت یوسفزئی نے کہاکہ ٹیکسزریفارمزکے ذریعے سات لاکھ کسانوں کوفائدہ ہوگاپیشہ ورانہ ٹیکس ختم کردیاگیاہے گاڑیوں کی رجسٹریشن ایک روپے کردیاگیاہے یہ گڈگورننس کی طرف قدم ہے حکومتی امورجلدای سسٹم پرچلے جائیں گی21ہزارسکولوں کی تعمیر،بحالی اوراپگریڈیشن ہوگی ایک لاکھ20ہزاربچوں کی گنجائش ہوگی بیس ہزاراساتذة اور تین ہزار سکول لیڈرزکی تقرری ہوگی تعلیمی اصلاحات میں سائنس لیبارٹری آئی ٹی لیبارٹری دس ہزارماڈل کلاس رومزفرنیچرکی فراہمی سے بہتری آئیے گی ضم اضلاع میں 230 ملین روپے تعلیمی وظائف کیلئے مقرر کئے ہیں1122سروس تحصیل کی سطح پربڑھائی جارہی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہاکہ ایم ایم اے کی حکومت پانچ سال رہی لیکن آج بیس ہزارمساجدکے خطباء کیلئے وظائف موجودہ حکومت رکھ رہی ہے سینئرسٹیزن کیلئے پیسے رکھے گئے ہیں ہسپتالوں میںانکے لئے الگ وارڈزاوردوائیوں میں رعایت دی جائے گی۔جبکہ اپوزیشن اراکین نے خیبر پختونخوا اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مالی سال2021-22کے صوبائی بجٹ کو300ارب سے زائد خسارے کابجٹ ہے انہوں نے کہاکہ آئندہ مالی سال کا بجٹ مفروضوں پرمبنی ہے حکومت نے ترقیاتی بجٹ زیادہ نہیں بلکہ پچھلے سال کی نسبت68ارب کم پیش کیاہے بجٹ پرمکمل کنٹرول آئی ایم ایف کا ہے جسمیں اپوزیشن حلقو ںکویکسرنظراندازکیاگیاہے ملازمین کی تنخواہوں میں حالیہ اضافہ سمجھ سے بالاترہے کم ازکم ماہانہ اجرت30ہزارتک بڑھائی جائے صوبہ مالی بحران سے گزررہاہے اپنے حق کیلئے وفاق سے دوٹوک الفاظ میں بات کی جائے اپوزیشن لیڈراکرم درانی نے آئندہ بجٹ پر عمومی بحث کاآغازکرتے ہوئے کہاکہ سالانہ بجٹ آمدن وخسارے کاتخمینہ ہوتاہے آمدن زیادہ ہو تو بجٹ سرپلس اورکم ہو تو خسارے کاہوتاہے اگرآمدن اورخسارہ برابرہوتو یہ متوازن بجٹ کہلاتاہے موجودہ بجٹ نہ سرپلس اورنہ ہی متوازن ہے بلکہ یہ خسارے کابجٹ ہے اہم اجلاس کے موقع پر نہ ہی وزیراعلیٰ ہے نہ ہی وزیرخزانہ انکی ایوان میں عدم دلچسپی ظاہرہورہی ہے آئندہ بجٹ فارن پراجیکٹ اسسمنٹ میں43ارب شوکئے گئے ہیں این ایف سی کے تحت34ارب ایڈیشنل فنڈرکھاگیاہے فیڈرل فکسڈریونیو میں23ارب رکھے ہیں یہ سب کچھ مفروضے ہیں ڈومیسٹک لون44ارب رکھے ہیں حالانکہ حکومت کو ابھی تک قرضہ نہیں ملایہ اعدادوشمارغلط ہے جوکہ اس ایوان کی بے توقیری ہے رواں بجٹ میںفارن پراجیکٹ اسسٹمنٹ میں61ارب کم ملی2020-21کے بجٹ میں ترقیاتی بجٹ 317ارب تھانظرثانی شدہ بجٹ کی روسے آئندہ سال ترقیاتی بجٹ زیادہ نہیں بلکہ 68ارب کم ہواہے اپوزیشن حلقوں کی سکیموں کیلئے بجٹ میں کچھ نہیں ضم شدہ اضلاع کے فنڈلیپس ہورہے ہیں جسکا فنڈبندوبستی اضلاع پرخرچ ہوجاتاہے حکومت واقعی قبائلی اضلاع کوترقی دیناچاہتی ہے تو اس کیلئے ایسا سسٹم متعارف کرایاجائے کہ اسکافنڈلیپس نہ ہوانہوں نے تجویز دی کہ وفاقی وپنجاب کی طرز پر سرکاری ملازمین کی ہائوس ریکوزیشن کااعلان کیاجائے اور کلاس فورملازمین کی تنخواہیں مہنگائی کے تناسب سے بڑھائی جائے ہرمحکمے پرکٹوتی کی تحاریک پیش کرینگے سپیکرصاحب امیدہے آپ اس کوبلڈوزنہیں کرینگے پی پی کے پارلیمانی لیڈرشیراعظم وزیر نے کہاکہ اپوزیشن اراکین کیلئے ان کے حلقوں میں ایک دھیلاتک نہیں رکھاآیایہ لوگ انسان نہیں یہ امرناقابل برداشت ہے جنوبی اضلاع میں ایریگیشن اورپبلک ہیلتھ انجینئرنگ سکیموں پر توجہ دینی چاہئے تھی جنوبی اضلاع میں سڑکیں کھنڈرات کامنظرپیش کررہی ہیں بجٹ پرنظرثانی کرکے اپوزیشن حلقوں کوترقیاتی فنڈمیں حصہ دیاجائے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ سمجھ سے بالاترہے کم سے کم اجرت21ہزارماہانہ ہے لیکن افسوس یہ اجرت کسی کونہیں ملتی اس اعلان پرعملدرآمدکرایاجائے پنشن کی حدبھی مقررکی جائے کرک سے گیس پیداہورہی لیکن قریبی ضلع بنوں اس سہولت سے محروم ہے جے یوآئی کے پارلیمانی لیڈرلطف الرحمن نے کہاکہ صوبائی بجٹ جھوٹے کرداروں کی کہانی ہے بجٹ پرمکمل کنٹرول آئی ایم ایف کاہے وفاقی سے منتقل محصولات کاتخمینہ559 ارب لگایاگیاہے جوکہ غیرمنطقی ہے ترقیاتی بجٹ بھی اضافے کادعویٰ بھی بے بنیاداورگمراہ کن ہے رواں سال کے ترقیاتی فنڈکاصرف53فیصدہی خرچ ہوسکا یہ حکومت کی مجرمانہ غلط ہے ملک میں مہنگائی سوسے تین سوفیصدبڑھی ہے ملازمین کیلئے دس فیصدایڈہاک اضافہ لالی پاپ دینے کے مترادف ہے،صوبے کے محصولات جمودکاشکار ہے ترقیاتی فنڈزمیں64فیصداضافہ قوم کیساتھ غلط بیانی ہے حکومت کی جانب سے خوشنماباتیں محض دعوے ثابت ہوئے ہیں ہسپتالوں میں خطرناک بیماریوں کا علاج ممکن نہیں ہیلتھ کارڈمیں علاج کی سہولت نہیں یونیورسٹیاں قرضوں پرچل رہی ہیں ن لیگ کے پارلیمانی لیڈر سرداریوسف نے کہاکہ یہ بجٹ الفاظ کے ہیرپھیرپرمشتمل ہے مزدورکی اجرت30ہزارمقررکرنی چاہئے تھی مہنگائی کے تناسب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھائی جائیں عوام کوریلیف دینے میں حکومت ناکام ہوچکی ہے ترقیاتی فنڈزذاتی پسندناپسندکی بنیاد پر تقسیم ہوا ہے حلقہ نیابت میں عوام کو رابطہ سڑکیں میسرنہیں اے این پی کے رکن خوشدل خان نے کہاکہ موجودہ بجٹ سیاسی بنیادوں پر تقسیم پرمبنی ہے یہ زیادہ ترتخمینوں پرمشتمل ہے پی کی71,72میں بجٹ میں کچھ بھی نہیں کیاہم منتخب لوگ نہیں رواں مالی سال کابجٹ923بلین تھا ضمنی بجٹ کی109ارب ملاکرکل1032ارب بنتاہے جس سے ظاہرہوتاہے کہ ہمیں مکمل محصولات نہیں ملے رواں بجٹ کے 332ارب کاخسارہ کیسے پوراکریں گے بجٹ میں زیادہ تر امبریلاسکیمیں ہیں اس کیخلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ آچکاہے قبائلی اضلاع کوتین سال بعدبھی تین فیصدحصہ نہیں دیاگیا ضم شدہ اضلاع میں تعلیم وصحت کاکوئی میگاپراجیکٹ نہیں خیبرپختونخواکوبجلی خالص منافع کے بقایاجات نہیں مل پارہاہے این ایف سی ایوارڈکے اجراء سے حکومت کو نقصان ہے کیونکہ اس سے وفاق کاحصہ کم ہورہاہے اس لئے اسکاانعقادنہیں کیاجارہاہے این ایچ پی کے تحت ہمیں گزشتہ تین سالوں میں124.3ارب کم ملے یہ صوبائی حکومت کی ناکامی کامنہ بولتاثبوت ہے صوبے کے حقوق کیلئے وفاق سے دوٹوک الفاظ میں بات کی جائے اپوزیشن اس میں حکومت کابھرپورساتھ دیگی ایم ایم اے کے رکن عنایت اللہ نے کہاکہ دیر موٹروے کیلئے بجٹ میں کوئی رقم مختص نہیں ہوئی یہ3سوپلس ارب کے خسارے کابجٹ ہے ترقیاتی سکیموں کا تھروفارورڈ974ارب تک بڑھ چکاہے حلقہ نیابت میںآٹھ سال بعدبھی تعلیمی ادارے اور سڑکیں مکمل نہیں ہوچکی ہیں نئی سکیموں کی بجائے پرانی سکیموں مکمل کی جاتیں توزیادہ بہترہوتا ہیلتھ اورایجوکیشن پربمشکل مکمل فنڈلگتاہے ہیلتھ مراکز میں ہیومن ریسورس نہیں این ایف سی ایوارڈ کیلئے سی سی آئی کااجلاس طلب کیاجائے لیٹریسی شرح میں اضافہ نہیں ہورہااساتذہ کی بھرتی کرکے بھی نتیجہ نہیں نکل رہا تو یہ ہماری ناکامی ہے صوبائی قرضہ چھ سوارب تک بڑھ جائے گاجس سے بچہ بچہ مقروض ہوجائے گاایم پی اے عصام الدین نے کہاکہ وفاق اورموجودہ صوبائی حکومتوں نے سابقہ فاٹاکابراحال کیاہے وہاں کسی شعبے میں بہتری نہیں ایم پی اے بادشاہ صالح نے کہاکہ حلقہ نیابت میں لڑکیوں کاکوئی سکول نہیں علاقے میں نااہل لوگوں کورشوت لیکربھرتی کیاجارہاہے ایم پی اے نعیمہ شکور نے کہاکہ پچھلابجٹ 70فیصدبھی خرچ نہیں ہواپچھلے سترسالوں میںسودکی واجب الادارقم 15ہزارتھی موجودہ حکومت میں یہ سودکی رقم30ہزار ارب تک پہنچ چکی ہے سودی نظام پرچلیں گے تو کیسے ترقی کرسکیں گے افسوس کی بات ہے کہ خطباء کاوظیفہ مزدوروں سے کم رکھاگیاہے ٹیکس غریبوں کی بجائے امیروں سے لی جائے قبائلی اضلاع کی احساس محرومیاں بڑھی ہیں اس لئے سابقہ فاٹا کوالگ صوبے کا درجہ دیاجائے،سرداورنگزیب نے کہاکہ ایوان میں حکومتی اراکین کی عدم دلچسپی سے لگتاہے کہ وہ عوام کوریلیف دینے میں ذرابھی سنجیدہ نہیں انہوں نے سیاحتی مقامات پرسڑکیں بنانے پرزوردیاایم پی اے اختیارولی نے کہاکہ صوبے پر268ارب کا قرضہ چڑھ چکاہے جبکہ مزیدتین سوسے زائد قرضے پائپ لائن میں ہیں معلم جبہ اوربلین ٹری سونامی پرکرپشن کے الزامات لگ چکے ہیں بی آرٹی کے علاوہ کوئی نیاپراجیکٹ آٹھ سالوں میں شروع نہ ہوسکا حکومت ہیلتھ اینڈایجوکیشن میں ایمرجنسی کے دعوے بھول چکی ہے صوبائی بجٹ آئی ایم ایس کاکاپی پیسٹ پروگرام ہے مزدور،تاجران اورکارخانہ دار بھوکے ہیں اپنے حلقے کے حق کیلئے ہرفورم پر لڑونگا

پشاور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments