صوبائی حکومت جرگہ تشکیل دے کر وزیراعظم کیساتھ صوبے کامقدمہ لیکرجائیں اپوزیشن ساتھ دیگی، اراکین

خیبرپختونخوااسمبلی نے ہفتہ اور اتوارکی تعطیلات کے دوران اسمبلی سیشن جاری رکھنے سے متعلق تحریک کی منظوری دیدی وزیرخزانہ نے این ایف سی ایوارڈکے تحت 55ارب کی اضافی رقم ظاہرکی ہے حالانکہ ابھی تک ایوارڈکاابھی اجرانہیں ہوا، ثمرہارون بلور

بدھ 23 جون 2021 00:03

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 جون2021ء) خیبرپختونخوااسمبلی اجلاس میں حزب اختلاف کے اراکین نے بجٹ پرتنقیدکرتے ہوئے کہاکہ صوبائی حکومت اپنے حقوق کے حصول کیلئے جرگہ تشکیل دے کر وزیراعظم کیساتھ صوبے کامقدمہ لیکرجائیں اس میں اپوزیشن بھرپورساتھ دیگی فنانس بل کے تحت ٹیکسزمیں اضافہ اورردوبدل سے کمرشل سرگرمیاں متاثرہونگی بندکمروں میں بننے والے بجٹ کی ترجیحات ومنصوبہ بندی واضح نہیں ہوتی حکومت نے واضح کیاکہ صوبائی حکومت صحیح سمت چل رہی ہے تمام شعبوں کا ترقیاتی بجٹ سینکڑوں گنابڑھایابیروزگاری کے خاتمے کیلئے نئے مواقع پیداکئے جارہے ہیں بجلی خالص منافع سے دستبردارنہیں ہوئے ضرورت پڑی تو اسلام آباد جائیں گے ۔

بجٹ پربحث کاآغازکرتے ہوئے کہاکہ عوامی نیشنل پارٹی کی رکن ثمرہارون بلور نے کہاکہ وزیرخزانہ نے این ایف سی ایوارڈکے تحت 55ارب کی اضافی رقم ظاہرکی ہے حالانکہ ابھی تک ایوارڈکاابھی اجرانہیں ہوا افسوس کامقام ہے کہ وفاق سے ہمیں بجلی خالص منافع نہیں مل رہانہ ہی صوبے کی عوام کو بجلی میسرہے بجلی خاصل منافع کی مد میں وفاق کے ذمی650ارب بقایاہیں یہ کوئی معمولی رقم نہیں امسال مزیددوسوارب کااضافہ ہوجائے گااگریہ حکومت اپنامقدمہ لڑنہیں سکتی توہم اپنے تئیں صوبے کے حقوق کیلئے جدوجہدکرینگے کروناکی وجہ سے ہرطبقہ متاثرہواہے سی این جی پمپس پرنیاٹیکس لاگوہواہے اس قسم کے ظالم فیصلے قابل قبول نہیں ہاسنگ سوسائٹیزپرڈیوٹی میں سوفیصداضافہ کردیاگیاہے اس سے کمرشل سرگرمیاں متاثرہوگی سیاحتی مقامات پرپانچ فیصدلیوی کیوں نافذکی گئی ہے ٹورازم انڈسٹریزکوکرش نہ کیاجائے سرکاری ملازمین کی بیسک تنخواہ پردس فیصدایڈہاک لگاہے یہ انتہائی ناکافی ہے چشمہ رائٹ کنال،مردان ہسپتال،پشاورمیں ایک ہسپتال کیلئے رقم مختص نہیں کی گئی ہے آگے دوڑ پیچھے چھوڑوالی پالیسی سے کوئی منصوبہ مکمل نہیں ہوگا راج کپور اوردلیپ کمارحویلی کی بحالی کیلئے اقدامات ناکافی ہے پی ٹی آئی رکن اجمل خان نے کہاکہ قبائلی اضلاع کیلئی103ارب ترقیاتی فنڈتاریخی اقدام ہے اس سے قبائلی عوام کی زندگی میں نمایاں تبدیلی آئے گی قبائلی علاقوں میں جاری منصوبوںکوبروقت پایہ تکمیل تک پہنچایاجائے اے این پی کے پارلیمانی لیڈرسرداربابک نے کہاکہ بجٹ سے متعلقہ لوازمات کی آسانی پروزیرخزانہ کوخراج تحسین پیش کرتاہوں سرکاری ملازمین دو سال تک سڑکوں پر سراپااحتجاج رہے انکااحتجاج نہ ہوتا توحکومت کبھی تنخواہ میں اضافہ نہیں کرتی یہ کریڈیٹ سرکاری ملازمین کوجاتاہے ،پی ٹی آئی نوسال سے برسراقتدارہے جسکادعوی کہ آئندہ بجٹ تاریخی ہے حالانکہ ایسانہیں 1118 میں975ارب تھروفارورڈہے یہ صوبے کا سب سے بڑاتھروفارورڈہے بجٹ تقریر میں ترقیاتی فنڈ371،اے ڈی پی میں316اوروایٹ پیپر میں351ارب ظاہر کیاگیاہے کیافائدہ یہاں صوبے میں تو ایک سکول تک مکمل نہیں ہوتا حکومت اپنی ترجیحات اورمشکلات سے ایوان کو آگاہ کرے طالبان دورمیں اے ا ین پی حکومت اچھاڈیلیورکررہی تھی پیداواری صوبہ ہونے کے باوجود خیبرپختونخوامحرومی کاشکارکیوں ہے بجلی خالص منافع سے حکومت کیوں دستبردارہورہی ہے پارلیمانی جرگہ تشکیل دیکروزیراعظم کے پاس صوبے کا مقدمہ لیکرجاناہوگا صوبائی خودمختاری بارے کسی وزیرنے درپیش مسائل پربریفنگ نہیں دی ریونیوجنریشن کیلئے متعلقہ افسران کوجرمانے لگانیکی ہدایات جاری کی جاتی ہیں بندکمروں میں بننے والے بجٹ کی ترجیحات ومنصوبہ بندی واضح نہیں ہوتی 22مرتبہ اس صوبے میں وزرااورمشیران تبدیل ہوئے سیکرٹریزٹرانسفارمرہورہے ہیں یہ کیسی گورننس ہے اپوزیشن حلقوں کونظراندازکرناعوام کیساتھ زیادتی ہے ضم اضلاع کواسکاحصہ دیاجائے ۔

(جاری ہے)

پی پی رکن نگہت اورکزئی نے کہاکہ آئندہ بجٹ مفروضوں اورخسارے کابجٹ ہے بجٹ کاانحصارٹیکس آمدنی اوروفاقی محصولات پرمشتمل ہے ہسپتالوں میں سہولیات کافقدان ہے کروناویکسین ناپیدہوچکی ہے پولیوتیزی سے پھیل رہاہے برن سنٹرپرکام مکمل نہیں سابق دورمیں خواجہ سراں کیلئے بیس کروڑکی رقم کاکیابنااقلیتی برادری کے سرکاری کوٹے میں اضافے کیلئے نوٹس لیاجائے خواتین کوبااختیاربنانے کیلئے معمولی رقم رکھی گئی ہے وزیربلدیات اکبرایوب نے کہاکہ تنقیداپوزیشن کاحق ہے طالبان میں80فیصدکریمینل لوگ تھے اس دورکی حکومت کی کچھ ذمہ داریاں بنتی تھیں اس حکومت کی گورننس کے بل بوتے پر اے این پی کو2013الیکشن میں صرف پانچ سیٹیں ہی مل سکی وزیراعظم کے ویژن اوروزیراعلی کی ہدایات کے مطابق صوبائی حکومت چل رہی ہے آئی ٹی شعبہ میں 137فیصدکے بجٹ میں اضافہ کیاسپورٹس میں160فیصد،ایگری کلچرمیں65فیصد،توانائی کے بجٹ میں49فیصد،ہائرایجوکیشن کا46فیصداوورآل بجٹ بڑھایاگیاہے اسی طرح تمام شعبوں میں سینکڑوں فیصدترقیاتی بجٹ میں اضافہ کیا منرل میں پچھلے تین سالوں میں2221نئی مائنزکی لائسنس دئیے آئندہ سال تک چارہزارتک لائسنس کااجراکرینگے بیروزگاری کلاس فورنوکری سے ختم نہیں ہوگی صوبے میں16سی20لاکھ تک سب انجینئرکی پوسٹ بیچی جاتی تھی میں سات سال وزیررہالیکن ایک انجینئرکوبھرتی نہ کرسکا سوات موٹروے پی پی موڈہے ہمیں پرائیویٹ سیکٹرسے بزنس لانی پڑے گی بنوں،ڈی آئی خان اکنامک زون پر کام شروع ہوچکاہے پشاور،جلوزئی،رسالپور،نوشہرہ،حطار،رشکئی،غازی اورمہمندماربل سٹی میں لاکھوں کی تعدادمیں فیکٹریاں لگے گی جس میں روزگارکے مواقع پیداہونگے ڈیجیٹل سکیم کے تحت نوجوان گھربیٹھے کماسکے گا اے جی این قاضی فارمولے کوتیس سال ہوگئے ہیں ضرورت پڑے گی تواپنے حق کیلئے اسلام آباد چلیں گے فی الحال حالات انڈرکنٹرول ہیں۔

جے یوآرکن محمودبیٹنی نے کہاکہ حلقہ نیابت میں پلوں کی عدم تعمیرکی وجہ سے لوگ پولیوبائیکاٹ پرمجبورہیں مطالبہ ہے کہ جاری سکیموں میں پلوں کی تعمیراورٹانک میں پانی کے مسائل حل کئے جائیں ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پروگرام میں ٹانک نظرانداز ہے نیازعلی ٹواکرام روڈ مانجی کی طرف ڈالاجائے جنڈولہ متاثرین کے نقصانات کاازالہ کیاجائے ۔اے این پی کے رکن وقارخان نے کہاکہ انکاحلقہ دہشتگردی اورسیلاب سے متاثرہ علاقہ ہے تعلیم وصحت کے شعبوں میں ایمرجنسی کی بنیادوں پرکام کیاجائے حلقہ میں ہیلتھ ڈسپنری اورسکولزدستیاب نہیںیہاں سڑکوں کاجال بچھایاجائے تاکہ سیاحت کوفروغ دیاجائے پانی کے مسائل حل کئے جائیں ن لیگ کے رکن جمشیدمہمندنے کہاکہ فنڈکاغیرمنصفانہ تقسیم ہوا ہے ضلع مردان میں حکومتی اراکین کوتوفنڈملالیکن واحد میراحلقہ مکمل نظراندازرہاجوکہ ٹوبیکوکی مد میں40کروڑروپے رائلٹی دے رہاہے حلقے میں سکولوں اورصحت کے مراکزپرتوجہ دی جائے بلین ٹری پراجیکٹ کیلئے نرسریوں سے پودے لئے جائیں روزگارکے مواقع پیداکئے جائیں باپ پارٹی کے پارلیمانی لیڈربلاول آفریدی نے بہترین بجٹ پیش کرنے پر صوبائی حکومت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ دیگرصوبوں کی گاڑیوں کی رجسٹریشن کاطریقہ کارآسان بنایا جائے ریونیوبڑھانے کیلئے اقدامات قابل ستائش ہیں ریونیومزیدبڑھانے کیلئے تجارتی راستے کھولے جائیں 25ویں آئینی ترمیم کے تحت قبائلی علاقوں کوترقی وخوشحالی دی جائے نیزوعدوں کوپوراکیاجائے ضم شدہ اضلاع کیلئے فنڈرکھنے پر شکریہ اداکرتاہوںجنوبی اضلاع کے ایم پی ایز میاں نثارگل اورظفراعظم نے گیس وتیل رائلٹی کی مد میں بقایاجات کی فراہمی کاذکر کرتے ہوئے بنیادی سہولیات پرمبنی سکیموں بجٹ میں شامل کرنیکامطالبہ کیاآزادرکن میرکلام نے کہاکہ ضم اضلاع کیلئے رواں بجٹ میں96ارب رکھے گئے تھے جس میں صرف42ارب ریلیز ہوئے اور25ارب خرچ ہوسکے قبائلی اضلاع کیساتھ صرف وعدے ہوتے ہیں عملی کام نہیں ہوتامرجڈاضلاع میں جوڈیشل کمپلیکس پرکام شروع نہ ہوسکاصرف لفظوں کی جادوگری ہورہی ہے آئی ڈی پیزکو خاطرخواہ رقم دی جائے اساتذہ کوتنخواہیں نہیں مل رہیں پولیٹیکل محررکواپناسٹیٹس تک معلوم نہیں قبائلی لوگ انٹرنیٹ سہولت سے محروم ہی ،ایم پی اے فضل الہی نے کہاکہ ہرکوئی سرکاری افسرپشاورتبادلہ چاہتاہے طالبعلم پشاورآناچاہتاہے مریض پشاورکے ہسپتالوں کوآرہے ہیںہمارے کالجوں اورہسپتالوں پر لوڈ ہے یہاں بیس کالجوں اورہسپتالوں میں نئے وارڈزکی ضرورت ہے ایم پی اے شگفتہ ملک نے کہاکہ صحت کارڈمیں70فیصدعلاج ممکن نہیں سرکاری سکولوں میں بنیادی سہولیات میسرنہیں یہی وجہ ہے کہ لڑکیاں آگے تعلیم جاری نہیں رکھ سکتیں بجلی خالص منافع ہماراآئینی وقانونی حق ہے مرکز سے حصول کیلئے دوٹوک بات کی جائے بجٹ میں خواتین نظراندازہوئی ہیں

پشاور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments