صحت کارڈپلس پروگرام کادائرہ کار اب صوبے کے تمام اضلاع تک بڑھادیاگیاہے ،تیمورجھگڑا

صوبے کے وہ تمام افراد جن کانادراریکارڈکے مطابق مستقل پتہ صوبے کا ہے ،کوشامل کیاگیاہے اب تک اس پروگرام کے تحت پورے صوبے میں 74لاکھ69ہزار658لوگ رجسٹرڈہیں اس سکیم کے تحت تمام چھوٹے بڑے امراض کاعلاج بالکل مفت ہوگا ،وزیر صحت خیبرپختونخوا کا اسمبلی میں جواب

بدھ 4 اگست 2021 00:23

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 03 اگست2021ء) خیبرپختونخوااسمبلی کوبتایاگیاکہ صحت کارڈپلس پروگرام کادائرہ کار اب صوبے کے تمام اضلاع تک بڑھادیاگیاہے اس پروگرام میں صوبے کے وہ تمام افراد جن کانادراریکارڈکے مطابق مستقل پتہ صوبے کا ہے ،کوشامل کیاگیاہے اب تک اس پروگرام کے تحت پورے صوبے میں 74لاکھ69ہزار658لوگ رجسٹرڈہیں اس سکیم کے تحت تمام چھوٹے بڑے امراض کاعلاج بالکل مفت ہوگا جس سے غریب خاندان کو معاشی تحفظ فراہم ہوچکاہے۔

یہ بات وزیرصحت تیمواسلیم جھگڑا نے ایم ایم اے کی رکن حمیراخاتون کے سوا ل کاجواب دیتے ہوئے کہی ۔

(جاری ہے)

تیمورجھگڑا نے مزید کہاکہ یہ پہلی سکیم ہے جس میں سلیکشن نہیں ہوئی جسکابھی شناختی کارڈ خیبرپختونخواکاہے اور وہ فیملی کاسربراہ ہے ان کو صحت انصاف کارڈکی سہولت ملی ہے چاہے وہ کسی بھی جماعت کا ووٹرہوسب اس پروگرام میں شامل ہیں جہاں پر فیملی کاسربراہ صوبے سے باہرکاہواس کوسہولت نہیں ملتی یہ تقریباًچالیس پچاس ہزار خاندان بنتے ہیں تاہم ایسے خاندان کو بھی سکیم میں شامل کررہے ہیں اسی طرح قبائلی اضلاع کوسب سے پہلے شامل کیاگیاتھا تاہم ان کاپیکیج تھوڑامختلف ہے ہم نے پیکیج یکساں کرنے کیلئے بجٹ میں رقم مختص کی ہے ہم چاہتے ہیں کہ غریب لوگ بھی نجی ہسپتالوں میں اپناعلاج کرائیں انصاف کارڈکے تحت بالترتیب فوجی فائونڈیشن، پشاورانسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی اورایچ ایم سی نے سب سے زیادہ سہولیات دیں ایک ہی دن ہم صوبے کے ڈیڑھ سوہسپتال نیٹ پر لیکرآئے ہیں یہ فلیگ شپ منصوبہ ہے اس پر کسی قسم کا داغ لگنے نہیں دینگے دوردرازعلاقوں میں پشاورطرزکے ہسپتال تو نہیں تاہم صوبے کے پسماندہ علاقوں میں بھی اس کارڈکی وجہ سے بہترہسپتال ضروربنیں گے چارریجنزپشاور،ہزارہ،ملاکنڈ اور سائوتھ کیلئے پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ کے تحت چاربڑے ہسپتال منظورکرائے ہیں آپریشنل بجٹ پر کسی نے پہلے توجہ نہیں دی ہے آپریشنل بجٹ ہسپتال کو نہیں ملتے رہے ہیں ڈی ایچ کیوسے لیکراوپرتک اب آپریشنل بجٹ دیاجائیگاہرچھ مہینے بعد ہسپتالوں کو کارڈمیں شامل کیاجائے گا۔

پشاور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments