صوبائی حکومت قبائلی اضلاع کے انضمام سے پہلے قبائلی عوام کیساتھ کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنار ہی ہے،اقبال وزیر

پیر 18 اکتوبر 2021 20:38

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 اکتوبر2021ء) خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی، صوبائی وزیر زکوةوعشرانورزیب خان اور صوبائی وزیر برائے ریلیف بحالی و آبادکاری اقبال وزیر نے کہا کہ صوبائی حکومت قبائلی اضلاع کے انضمام سے پہلے قبائلی عوام کیساتھ کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنار ہی ہے۔ 72 سالوں سے حکمرانوں نے قبائلی اضلاع کو نظرانداز کیا تھا جس کی وجہ سے قبائلی علاقے ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔

فاٹا انضمام کے بعد نئے ضم شدہ اضلاع میں ترقی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔صوبائی وزراء کا کہنا تھا کہ وفاقی و صوبائی قائدین کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں صوبائی کابینہ کے اراکین وقتاً فوقتاً ضم شدہ قبائلی اضلاع کے دورے کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

تاکہ وہاں کے عوام کیساتھ مل بیٹھ کر ان کے مسائل سنے جاسکے اور حل کیلئے باہمی مشاورت کی روشنی میں اقدامات بھی اٹھائی جاسکے۔

ان خیالات کااظہار صوبائی وزراء نے وزیراعلی محمودخان کی ہدایت کی روشنی میں سب ڈویژن حسن خیل پشاور کے قبائلی مشران کے ساتھ مشاوراتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر پشاور، اسسٹنٹ کمشنر حسن خیل، لائن ڈیپارٹمنٹس کے نمائندے اور علاقہ عمائدین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر علاقائی عمائدین نے بھی اپنے مسائل و ضروریات بارے صوبائی وزراء کو تفصیلات سے آگاہ کیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر امجد علی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلٰی محمود خان کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں ضم قبائلی اضلاع کے دورے کئے جا رہے ہیں تاکہ وہاں کے عوام کیساتھ مل بیٹھ کر ترقی میں حائل روکاوٹوں کو دور کرنے سمیت تیز تر ترقی یقینی و عملی بنائی بنائی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی سالمیت و امن و امان کی خاطر قبائلی عوام نے پے پناہ قربانیاں دی ہیں۔

ڈاکٹرامجد علی کا کہنا تھا کہ ضم اضلاع کی پسماندگی کا دور ہمیشہ کیلئے ختم ہورہا ہے کیونکہ اب قبائلی علاقوں میں ترقی و خوشحالی کے آثار نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ اس موقع پرصوبائی وزیر زکوة وعشرانورزیب خان نے کہا کہ نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں ترقی وحوشخالی کا نیادور شروع ہونے والا ہے۔ قبائلی عوام کو تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر، پینے کی صاف پانی سمیت دوسرے ضروریات زندگی کی تمام سہولیات مہیا کرینگے۔

انہوں نے کہا کہ وہ دور ختم ہوگیا جب فاٹا سے ایم این اے الیکشن جیتنے کے بعد حلقہ نیابت کو بھول جاتا اور اپنے عوام سے کئے وعدوں کو ایفا نہیں کرتے۔ انضمام کے بعد قبائلی عوام کو صوبائی اسمبلی اور کابینہ میں نمائندگی ملی ہے اور تمام نمائندے اپنے حلقوں کا باقاعدہ دورے کررہے ہیں تاکہ قبائلیوں کے مسائل سے باخبر ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ زکوٰة فنڈ کی منصفانہ اور شفاف تقسیم کے لئے محکمہ میں انقلابی اصلاحات لارہے ہیں زکوٰة فنڈ کی غلظ تقسیم کرنے والوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائیگی۔

تقریب کے موقع پر صوبائی وزراء نے علاقائی مشران و نوجوانوں سے قبائلی علاقوں کی ترقی و خوشحالی کے لئے ہر فورم پر بات کرنے بارے وعدہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت قبائلی اضلاع کی تیز تر ترقی اور انکی 72 سالہ محرومیوں کا ازالہ کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت قبائلی اضلاع کو ملک کے دیگر علاقوں کے برابر لانے کے لئے تین سالہ تیز تر ترقیاتی منصوبوں کیساتھ ساتھ دس سالہ ترقیاتی پروگرام پر بھی عمل پیرا ہے۔

پشاور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments