غ*سٹی ٹریفک پولیس پشاور نے گزشتہ سال کی جانیوالی کارروائیوں کی رپورٹ جاری کردی

؁ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر 10,83041 افراد کیخلاف کارروائی، جرمانوں کی مد میں 23 کروڑ 3 لاکھ 15 ہزار 388 روپے قومی خزانے میں جمع سٹی ٹریفک پولیس پشاور کو جدید تقاضوں کے تحت چلانا اولین ترجیح ہے اور اس کو پورے صوبے کیلئے رول ماڈل کے طور پر پیش کرینگے، چیف ٹریفک آفیسر سٹی ٹریفک پولیس پشاور کی جانب سے کی جانیوالی کارروائیوں کے بعد 89 فیصد لوگوں نے ہیلمٹ استعمال شروع کردیا ہے‘چیف ٹریفک آفیسر عباس مجید خان مروت

اتوار 24 اکتوبر 2021 19:40

ؑ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 24 اکتوبر2021ء) آن لائن) سٹی ٹریفک پولیس پشاور نے گزشتہ سال کی جانیوالی کارروائیوں کی رپورٹ جاری کردی جس کے تحت ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں کرنے پر 1083041 افراد کیخلاف کارروائی عمل میں لائی گئی ہے جن سے جرمانوں کی مد میں 23 کروڑ 3 لاکھ 15 ہزار 388 روپے وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کر دیئے گئے ہیں۔ چیف ٹریفک آفیسر عباس مجید خان مروت نے کہا کہ سٹی ٹریفک پولیس پشاور ٹریفک قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لئے تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لا رہی ہے اس سلسلے میں شہر بھر میں ٹریفک قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لئے آگاہی مہمات کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کے تحت سٹی ٹریفک پولیس پشاور کی ایجوکیشن ٹیموں کی جانب سے اڈہ جات‘ سکولوں اور کالجز میں شہریوں کو ٹریفک قوانین بارے آگاہی دی جاتی ہے۔

(جاری ہے)

اس سلسلے میں سٹی ٹریفک پولیس پشاور کی جانب سے گزشتہ سال کے دوران ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر کی جانیوالی کارروائیوں کے دوران 10 لاکھ 83 ہزار 41 افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی ہے جن سے جرمانوں کی مد میں 23 کروڑ 3 لاکھ 15 ہزار رقم وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کردیا گیا ہے۔ چیف ٹریفک آفیسر عباس مجید خان مروت نے سٹی ٹریفک پولیس پشاور کی جانب سے کارروائی کے حوالے سے اعداد و شمار بارے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ہیلمٹ استعمال نہ کرنے پر 296211‘ دوسری گاڑیوں کو راستے کا حق نہ دینے پر 136593‘ نو پارکنگ زون کی خلاف ورزی پر 113744‘ بغیر ڈرائیونگ لائسنس کے ڈرائیونگ کرنے پر 18257‘ پرمٹ کے بغیر گاڑیوں کے چلانے پر 8820‘ کالے شیشوں کے استعمال پر 31314‘ کم عمری میں ڈرائیونگ کرنے پر 2700‘ ون ویلنگ کرنے پر 414‘ تجاوزات قائم کرنے پر 8821‘ کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزیوں پر 1 لاکھ 38 ہزار 877‘ سیٹ بلٹ استعمال نہ کرنے پر 23748، ڈرائیونگ لائسنس دکھانے سے انکار پر 18 ہزار 2 سو 57 اور پلازوں میں پارکنگ قائم نہ کرنے اور کمرشل مقاصد کے لئے استعمال کرنے پر 26 افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ سٹی ٹریفک پولیس پشاور کی جانب سے کی جانیوالی کارروائیوں کی بدولت 89 فیصد موٹر سائیکل سواروں نے ہیلمٹ کا استعمال شروع کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے احکامات کی روشنی میں سٹی ٹریفک پولیس پشاور نے رواں سال شجر کاری مہم میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جس کے تحت مختلف مقامات پر پودے لگانے سمیت شہریوں میں مختلف قسم کے پودے تقسیم کئے۔

انہوں نے کہا کہ وبائی صورتحال میں کورونا وباء سے بچنے کے لئے شہریوں کو آگاہی دینے سمیت ان میں 48 ہزار 612 سیفٹی ماسک اور 753 سینی ٹائزرز تقسیم کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سٹی ٹریفک پولیس پشاور میں آئی ٹی اصلاحات سے متعلق انقلابی تبدیلیاں لائی گئیں جس کے تحت سٹی ٹریفک پولیس پشاور کی گاڑیوں میں ٹریکر لگا دیئے گئے ہیں جبکہ ایف ایم ریڈیو 88.6 کو مکمل طور پر فعال کردیا گیا ہے جس کے ذریعے شہریوں کو ٹریفک نظام سے متعلق آگاہی دی جاتی ہے جہاں پر ٹریفک جام ہوتا ہے اس کے متبادل روٹس بارے شہریوں کو آگاہ کیا جاتا ہے اسی طرح کمپیوٹرائزڈ ڈیوٹی روسٹر بھی فعال کردیا گیا ہے جس کے ذریعے پوائنٹس پر ہر ماہ ٹریفک افسران کو تبدیل کیا جاتا ہے اور باقاعدہ انہیں میسج کے ذریعے آگاہ کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سٹی ٹریفک پولیس پشاور کے اہلکار پہلے 14 گھنٹے ڈیوٹی کرتے تھے جو اب مختلف شفٹوں میں 24 گھنٹے ڈیوٹی کرتے ہیں اور رات کے اوقات کار میں ہیوی گاڑیوں کیلئے باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی ہے اور مقررہ وقت سے پہلے انہیں شہر میں داخل ہونے نہیں دیا جاتا۔ سٹی ٹریفک پولیس پشاور کی جانب سے ای پٹرولنگ سسٹم کے تحت ٹریفک افسران کی گاڑیوں میں کیمرے لگائے گئے ہیں جس میں باقاعدہ ریکارڈنگ ہوتی ہے جس کا سارا ریکارڈ کمانڈ کنٹرول روم میں ہوتا ہے جس کی افسران از خود نگرانی کرتے ہیں اسی طرح آئی ٹی اصلاحات کے تحت ای چالان سسٹم کے ذریعے بار بار ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنیوالوں کے بارے میں با آسانی آگاہی حاصل ہو سکتی ہے جس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کر کے ڈرائیونگ لائسنس منسوخ کیا جاتا ہے۔

محکمے کی جانب سے سوشل میڈیا کے تمام ویب سائٹس کو فعال کیا گیا ہے جس کے ذریعے ٹریفک نظام سے متعلق ہر پندرہ منٹ بعد شہریوں کو آگاہی دی جاتی ہے تاکہ وہ کلیئر سڑکوں پر سفر کر سکیں اور انہیں کسی قسم کے مشکلات درپیش نہ ہوں۔ چیف ٹریفک آفیسر عباس مجید خان مروت نے اس حوالے سے کہا ہے کہ ٹریفک میں آئی ٹی اصلاحات وقت کی اشد ضرورت ہے کیونکہ آج کل انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے اور شہری کسی بھی وقت سوشل میڈیا کے ذریعے ٹریفک نظام سے استفادہ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ محکمے کی بہتری کیلئے تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائے جائیں گے اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی اور سستی برداشت نہیں کی جائیگی جبکہ مرتکب افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔اسی طرح شہریوں کو ٹریفک قوانین سے متعلق آگاہی دینے، ٹریفک نظام بارے سہولیات اور سڑکوں پر ٹریفک کی روانی بارے آگاہی دینے کیلئے باقاعدہ یوٹیوب پر لائیو ٹرانسمیشن کا آغاز کردیا ہے تاکہ شہریوں کو کسی قسم کے مشکلات نہ ہوں اور وہ سٹی ٹریفک پولیس پشاور کی جانب سے ہر وقت ٹریفک نظام سے متعلق آگاہ ہوں اور انکو یوٹیوب لائیو ٹرانسمیشن سے متعلق متبادل روٹ سے متعلق آگاہی دی جا رہی ہے تاکہ انکا قیمتی وقت ضائع نہ ہو اور ٹریفک کو با آسانی رواں دواں کیا جا سکے۔

یو ٹیوب لائیو ٹرانسمیشن آئی ٹی اصلاحات کی ایک کڑی ہے جس سے شہری بھر پور استفادہ کر سکتے ہیں شہری سٹی ٹریفک پولیس پشاور کے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کریں تاکہ وہ ہر قسم کی معلومات سے آگاہ ہوں کیونکہ یوٹیوب لائیو ٹرانسمیشن میں مختلف شعبہ جات کے ماہرین شرکت کر رہے ہیں جو صحت، ایجوکیشن، قانون روڈ سیفٹی و ٹریفک قوانین سے متعلق اپنے خیالات ویورز کیساتھ شیئر کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہریوں اور ٹریفک وارڈنز و اہلکاروں کی آسانی کیلئے پہلے ہی ای چالان، کیمروں کی تنصیب، ڈیوٹی روسٹر کا اجراء کیا گیا ہے چیف ٹریفک آفیسر عباس مجید خان مروت نے کہا کہ ٹریفک سے متعلق مسائل حل کرنے اور سٹی ٹریفک پولیس پشاور کو ڈیجٹلائز کرنے کے لئے تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سٹی ٹریفک پولیس پشاور کو جدید تقاضوں کے تحت چلانا اولین ترجیح ہے جس میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے اور سٹی ٹریفک پولیس پشاور کو پورے صوبے کیلئے رول ماڈل کے طور پر پیش کریں گے۔

پشاور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments