اُردو پوائنٹ پاکستان کوئٹہکوئٹہ کی خبریںسنجدی میں گیس دھماکے کے بعد کان بیٹھ جانے کے حادثے کے پانچ روز بعد ریسکیو ..

سنجدی میں گیس دھماکے کے بعد کان بیٹھ جانے کے حادثے کے پانچ روز بعد ریسکیو آپریشن مکمل کرلیا گیا، حادثے میں جان بحق تمام 18 کان کنوں کی لاشیں بھی نکال لی گئیں،چیف مائنز انسپکٹر بلوچستان افتخار احمد

کوئٹہ۔17 اگست(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اگست2018ء)کوئٹہ کے نواحی علاقے سنجدی میں گیس دھماکے کے بعد کان بیٹھ جانے کے حادثے کے پانچ روز بعد ریسکیوآپریشن مکمل کرلیا گیا۔ حادثے میں جاں بحق تمام 18 کان کنوں کی لاشیں بھی نکال لی گئیں۔ محکمہ معدنیات نے متاثرہ کان کو سیل کرکے تحقیقات کاحکم دیدیا ہے۔

(خبر جاری ہے)

چیف مائنزانسپکٹر بلوچستان افتخاراحمد نے بتایا کہ کوئٹہ کے نواحی علاقے سنجدی میں میتھین گیس بھرنے سے دھماکے اور اس کے باعث کان بیٹھ جانے سی13 کانکن کان میں پھنس گئے تھے بعد میں 21کانکن انہیں بچانے کے لئے گئے تو وہ بھی کان حادثہ کاشکار ہوگئے تاہم ان میں سے 16 کانکنوں کو بیہوشی کی حالت میں نکال لیاگیا جبکہ پانچ کانکن کان کے اندر ہی پھنس گئے جو اندر زہریلی گیس کی وجہ سے دم گھٹنے کے باعث دم توڑ گئے جان بحق کان کنوں کی لاشیں نکالنے کا ریسکیوآپریشن پانچ روز بعد مکمل کرلیا گیا اور کان میں ہلاک ہو جانے والے تمام 18افراد کی لاشیں نکال لی گئیں ۔

چیف مائنز انسپکٹر افتخار احمد نے بتایا کہ سنجدی میں حادثے کا شکار متاثرہ کان کو سیل کرکے تحقیقات کاحکم دے دیاگیاہے،جس سے سنجدی کان حادثہ کی وجوہات اورزمہ داروں کاتعین کیاجائیگادوسری جانب جان بحق کانکنوں کی لاشیں ان کے آبائی علاقوں میں روانہ کردی گئیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

کوئٹہ شہر کی مزید خبریں