اُردو پوائنٹ پاکستان کوئٹہکوئٹہ کی خبریںفرقہ پرست تنظیمیں علماء کو کمزور کرنے کیلئے بنائی گئی ہیں، مولانا فضل ..

فرقہ پرست تنظیمیں علماء کو کمزور کرنے کیلئے بنائی گئی ہیں، مولانا فضل الرحمن

, جولائی کے انتخابات کو میوزیم میں رکھنا چاہیے ،الیکشن کمیشن ڈھٹائی کیساتھ کہتی ہے الیکشن شفاف تھے، موجودہ حکومت عوام کیساتھ مذاق ہے، ملک کیساتھ مذاق برداشت نہیں کرینگے ،آج کے حا لات میں علما ء کو اعتماد میں لینا ضروری ہے ، علما ء سے زیادہ آزادی کی قدر کوئی نہیں جانتا ، ہمارے اکابرین نے آزادی کیلئے 200 سًال تک قربانیاں دیں ،مولانا عبدالغفوری حیدری ودیگر کا علماء کنونشن سے خطاب

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اکتوبر2018ء)جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ فرقہ پرست تنظیمیں علماء کو کمزور کرنے کیلئے بنائی گئی ہیں، 25 جولائی کے انتخابات کو میوزیم میں رکھنا چاہیے الیکشن کمیشن ڈٹائی کیساتھ کہتی ہے الیکشن شفاف تھے موجودہ حکومت عوام کیساتھ مذاق ہے ملک کیساتھ مذاق برداشت نہیں کرینگے آج کے حا لات میں علما ء کو اعتماد میں لینا ضروری ہے ، علما ء سے زیادہ آزادی کی قدر کوئی نہیں جانتا ہے ،ہمارے اکابرین نے آزادی کیلئے 200 سًال تک قربانیاں دیں ۔

یہ بات انہوںنے جمعرات کے روز کوئٹہ کے ہاکی گراونڈ میں علماء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔کانفرنس سے جمعیت علماء اسلام کے مرکزی جنرل سیکرٹری و سینیٹرمولانا عبدالغفور حیدری، صوبائی امیر مولانا فیض محمد،مرکزی کنونیئر مولانا راشد محمو د سومرو،صوبائی جنرل سیکرٹری ملک سکندر خان ایڈووکیٹ، رکن قومی اسمبلی مولانا صلاح الدین ایوبی،ضلعی امیر حافظ حمد اللہ، مولوی محمد حنیف،حاجی عبدالصادق،مولوی امیر زمان اور دیگر نے بھی خطاب کیا،قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ علماء کرام کے اجتماع میں شرکت میرے لئے فخر کی بات ہے علماء کرام کو مسائل کے حوالے سے اعتماد میں لینا وقت کی ضرورت ہے علماء سے زیادہ آزادی کی قیمت کوئی نہیں جانتاعلماء نے اپنے خون سے ملک کی آبیاری کی ،انہوں نے کہاکہ تاثر بنانے میں ریاست اور ریاستی اداروں کا اہم کردار ہوتا ہے دینی مدرسوں کے بارے میں مغربی ممالک میں دہشتگردی جیسے تاثرات پیدا کی جارہی ہے جے یو آئی ملکی سیاست میں اہم مقام رکھتی ہے علماء کے صفوں میں تقسیم پیدا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ فرقہ پرست تنظیمیں علماء کو کمزور کرنے کیلئے بنائے گئے ہیں25 جولائی کے انتخابات کو میوزیم میں رکھنا چاہیے الیکشن کمیشن ڈٹائی کیساتھ کہتی ہے الیکشن شفاف تھے موجودہ حکومت عوام کیساتھ مذاق ہے ملک کیساتھ مذاق برداشت نہیں کرینگے آج کے حا لات میں علما کو اعتماد میں لینا ضروری ہے کوئٹہ علما سے زیادہ آزادی کی قدر کوئی نہیں جانتا ہے ہمارے اکابرین نے آزادی کیلئے 200 سًال قربانیاں دیں انہوں نے کہاکہ آزدی کے بعد تحریک آزادی کے متوالوں کو اسی نظر سے دیکھا گیا جیسے انگریز دیکھتے تھے ہمارے اکابر ین کے بنائے مدارس نے قران کادفاع کیا مد دارس کے طالب علم اور استادکوِِحقیر ِحیثیت دی گئی ،قائد جمعیت مولانافضل الرحمن نے کہاکہ امریکہ اور مغربی طاقتوں کے پروپیگنڈہ کو ملک میں تقویت دی جارہی ہے قیام پاکستان کے بعد بیوروکریسی نے رویہ تبدیل نہیں کیا علما کے مقابلے میں نئے نئے لوگ لائے جارہے ہیں زد خرید ملاوں کو استعمال کیا جاتا ہے فرقہ پرست تنظیموں بھی جے یو آئی کو کمزور کرنے کیلئے تخلیق کی گئی دنیا کو بتانا ہوگا کہ اسلامی نظام کو سبوتاژ نہیں کیا جاسکتا ،ان کا کہنا تھا کہ حالیہ عام انتخابات مذاق تھے آج جو لوگ حکومت میں آئے ہیں عہدوں کی توہین ہے عمران خان کو غلط جگہ بٹھا دیا گیا ہے پاکستان کے ساتھ اس قسم کا مذاق برداشت نہیں کرینگے ،انہوں نے کہاکہ پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ موجودہ حکمران پاکستانی مزآج کے نہیںہے موجودہ حکمران مغربی فکر کے نمائندے ہیں امریکہ سی پیک سے ناراض ہے سیاسی بحران پیدا کیا گیا موجودہ حکومت سی پیک کس سبوتاژ کرنے کے وعدے کے ساتھ آئی ہے حکومت نے آتے ہی سی پیک کو ایک سال کیلئے موخر کرنے کا اعلان کیا انہوں نے کہاکہ موجودہ حکمرانوں میں حکومت کرنے کا سلیقہ ہی نہیں ہے سی پیک کے ساڑھے چار سو منصوبے نکال دئے گئے ہیں مدارس کی رجسٹریشن نیکٹا کے سپرد کی جارہی ہے نیکٹا کو دہشتگردی کنٹرول کرنے کیلئے بنایا گیا ہے توہین رسالت قانون میں جو ترمیم جیسی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی مدعی کو مجرم کی سزا دینا انصاف نہیں ہے انہوں نے کہاکہ جے یو آئی نے توہین رسالت قانون میں ترمیم کی کوششوں کو ناکام بنایا ختم نبوت اور توہین رسالت میں ترمیم کی حکومت نے باربار کوشش کی لیکن ہم نے اسے کامیاب نہیں ہونے دیا ان کا کہنا تھا کہ اسلام دشمنی کے ایجنڈے کامیاب نہیں ہونگے مشکل آئی تو بزدلی دلانے والے نہیں ہے بلکہ ڈٹ کر مقابلہ کرینگے حکومت کی صفائیاں دینے والے علما اپنی آخرت خراب نہ کرے انہوں نے کہاکہ علما کو بھی امریکا کی غلامی تسلیم کرنے کا پیغام دیا جارہا ہے علما کی اپنی تاریخ ہے غلامی کا درس نہیں سیکھاہے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ میڈیا کو بھی کنٹرول کرنا مارشلا کے مترادف ہے ہم کو تسلیم کرنا ہوگا کہ سیاسی اور اقتصادی لحاذ سے امریکی پالیسیوں کے تابع ہے پاکستان میں پیدا کردہ حالات بین الاقوامی آیجنڈے کا ِحصہ ہے آج چین کو مغرب کیلئے ناراض کیا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم ہاوس،ایوان صدر قومی اثاثے ہیں ا ن کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دینگے ِحکمران ساری دنیا کو چور ڈاکو کہہ رہی ہے چوری کا میڈینٹ تسلیم نہیں کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ ضمنی الیکشن نے حکومت کی مقبولیت کا پول میں کھول دیا ہے اپوزیش متحد ہوکر ملک کو ڈاکووں سے نجات دلائیں مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ مفتی محمود نے اسلام اوراسلامی نظریات ہمیں امانت میں سونپے‘ جسے آگے بڑھانا ہم سب کا فرض ہے اور اس ملک میں فکری انقلاب کو برپاء کر دم لینگے مفتی محمود نے اپنا نظریہ ملک کے کونے کونے اور عام عوام تک پہنچایا آج ہمارا فرض بنتا ہے کہ ان کے اس ویژن کو آگے لے جائیں اور عوام کو اعتدال کا راستہ اختیار کرنے کی ترغیب دیں انسانیت کا دفاع کرنے کیلئے ہمارے قائد مفتی محمود نے پوری دنیا پر یہ واضح کیا کہ ہم انسانیت کی بقاء چاہتے ہیں اور انسانیت کی بقاء کیلئے جدوجہد کررہے ہیں‘ ہم نے کبھی بھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ ہی اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کی انہوں نے کہاکہ مفتی محمود نے مغربی تہذیب کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کیا آج ایک بار پھر ملک پر وہ وقت آیاہے جہاں بعض جماعتیں مغربی تہذیب مسلط کرنے اور ملک میں عریانی اور فحاشی کے کلچر کو عام کرنے کی کوششیں کی جارہی ہے لیکن ہم اپنے قائد مفتی محمود کے نظریہ پر قائم رہتے ہوئے مغربی تہذیب کیخلاف جدوجہد جاری رکھیں گے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام کی سربلندی کیلئے جدوجہد جاری رہے گی۔

(خبر جاری ہے)

کانفرنس میں مولانا عبدالغفور حیدری نے قرارداد یں منظور کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کے آئین بنانے میں علما کا کردار تھا عمران خان نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کی بجائے خود کشی کا کہا تھا پاکستان جس مقصد کیلئے بنایا تھا اس پر عمل کیا جائے مدراس کے خلاف کاروائی ختم کی جائے مہنگائی کا تدارک کیا جائے فراد الیکشن کومسترد کرتے ہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

کوئٹہ شہر کی مزید خبریں