بلوچستان کے 33 اضلاع میں تین روزہ انسداد پولیو مہم (آج) سے شروع ہوگی،مہم کے دوران پانچ سال تک کی عمر کے 24 لاکھ 69 ہزار143بچوں کو پولیو سے بچاؤکے قطرے پلانے کا ہدف مقرر، اس مہم میں 10 ہزار977 ٹیمیں حصہ لیںگی،کوآرڈینیٹر ایمرجنسی آپریشن سینٹر بلوچستان راشدرزاق کی اے پی پی سے گفتگو

اتوار اپریل 13:30

کوئٹہ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 21 اپریل2019ء) کوآرڈینیٹر ایمرجنسی آپریشن سینٹر بلوچستان راشدرزاق نے ہے کہ بلوچستان کے 33اضلاع میں تین روزہ انسداد پولیو (آج) پیر سے شروع ہوگی، جس کے لئے تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ سہ روزہ انسداد پولیو مہم کے دوران پانچ سال تک کی عمر کے 24 لاکھ 69 ہزار143بچوں کو پولیو سے بچاؤکے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ مہم کے دوران بچوںکو وٹامن اے کے قطرے بھی پلائے جائیں گے۔

اس مہم کے دوران10 ہزار977کے قریب ٹیمیں حصہ لیںگی،جن میں 8 ہزار886 موبائل ٹیمیں، 952 فکسڈسائٹ اور951 ٹرانزٹ پوائنٹس شامل ہیں۔ ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہاکہ 2019ء کے دوران6 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں 4 کے پی کے، 1 پنجاب جبکہ 1 سندھ میں رپورٹ ہواہے۔

(جاری ہے)

کوارڈینیٹر ایمرجنسی آپریشن سینٹر راشد رزاق کا کہنا ہے کہ پیر سے شروع ہونے والی پولیو مہم انتہائی اہمیت کی حامل ہے، خصوصا گرم علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگ بلوچستان کے مختلف علاقوں کی طرف سفر کر رہے ہیں، اس ضمن میں ٹرانزٹ پوائنٹس پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے تاکہ پولیو وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔

ہم نے عزم کررکھا ہے کہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک پورے صوبے سے پولیو کا خاتمہ نہیں ہوجاتا لہذا پولیو کے خاتمہ کے لیے انسداد پولیو کی ہر مہم میں پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین پلانا لازمی ہے اور ساتھ ہی ساتھ بچوں کوحفاظتی ٹیکہ جات کا کورس مکمل کرانا بھی لازمی ہے تاکہ بچوں میں پولیو سمیت دیگر خطرناک اور جان لیوا بیماریوں سے بچنے کے لیے قوت مدافعت پیدا ہو۔

راشد رزاق نے کہا ہے کہ انسداد پولیو مہم کو کامیاب اور ہر بچے کو قطرے پلانے کیلئے کمیونٹی ہیلتھ رضاکاروں کی بھی خدمات لی جارہی ہیں جو ان ہائی رسک علاقوں میں کام کریںگے جہاں بچوں تک رسائی مشکل ہے ،اس عمل کوبہتر بنانے کیلئے علماء کرام، قبائلی رہنماؤں اور معتبرین کی بھی مدد لی جارہی ہے۔ہماری میڈیااور عوام سے اپیل ہے کہ وہ اس مہم کو کامیاب بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں تاکہ ہمارے بچے مستقل معذوری سے بچ سکیں۔

انہوں نے کہاکہ پولیو لا علاج مرض ہے اور پولیو ویکسین پلا کر ہی بچوں کو اس سے محفوظ کیا جا سکتا ہے۔انسداد پولیو مہم کے لئے سکیورٹی کے انتظامات بھی مکمل کرلئے گئے ہیں جس میں ضرورت کے مطابق بلوچستان لیویز اور پولیس کے عملے تعینات ہونگے اور فرنٹیئر کور(ایف سی) بلوچستان بھی اضافی سکیورٹی فراہم کرے گی۔ والدین سے اپیل کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤکے قطرے پلائیں اور بار بار پلائیں کیونکہ وائرس یہاں موجود ہے جو کسی بھی وقت ان بچوں پر حملہ آور ہوسکتا ہے۔

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments