موجودہ دور میں کوئی بھی شخص تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کرسکتا‘ بلوچستان میں معیاری تعلیم اور روزگار کی فراہمی صوبائی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہیں، صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی

اتوار ستمبر 23:30

کوئٹہ۔27ستمبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 27 ستمبر2020ء) ۔ صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں معیاری تعلیم اور روزگار کی فراہمی صوبائی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع کیچ کے 2014ء میں زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کولواہ،ڈنڈار اور بالگتر کے 184 طلباء کو انٹرنشپ اسکیم کے تحت آرڈر تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اپنے رواں سالہ بجٹ میں صرف تعلیم کے شعبے کیلئے 75 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کئے ہیں جس میں صرف ضلع کیچ میں تنخواؤں اور دیگر تعلیمی سہولیات کی فراہمی کیلئے ماہانہ تقریباً 2 ارب روپے کی لاگت آرہی ہے۔ جسمیں گورنمنٹ عطاء شاد ڈگری کالج تربت میں تعلیمی سہولیات کی فراہمی اور ہاسٹل کی تعمیر ومرمت کیلئے ایک کروڑ 60 لاکھ کی اضافی اسکیمیں شامل نہیں ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا ہماری حکومت تعلیم کے شعبے میں کسی بھی طرح سے سمجھوتا نہیں کریگی لہذا محکمہ تعلیم کے اساتذہ سکولوں میں اپنے فرائض کو ایمانداری کے ساتھ نبھاتے ہوئے اپنی حاضری کو ہر صورت یقینی بنالیں اور ضلعی انتظامیہ بھی انکی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدگی کے ساتھ سکولوں کا دورہ کیا کریں تاکہ تعلیم کے شعبے میں خاطر خواہ مطلوبہ نتائج حاصل کیے جاسکیں۔

اس دوران انہوں نے والدین پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں کوئی بھی شخص تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کرسکتا لہذا انہیں چاہیے کہ اپنے بچوں کا مستقبل سنوارنے کے لیے انہیں سکولوں میں داخل کریں تاکہ انکا مستقبل سنوار سکے۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنشپ اسکیم ایک پائیلٹ پروگرام ہے جو ضلع آواران کی2014 کے زلزلہ زدگان کیلئے پنجاب حکومت کے تعاون سے شروع کیا گیا تھا مگر صوبائی حکومت نے اسکا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ضلع کیچ کے زلزلہ متاثرہ علاقے کولواہ،ڈنڈار اور بالگتر کو بھی اس میں شامل کرلیا ہے۔

جسمیں ضلع کیچ کے 2014 کے زلزلہ متاثرہ علاقوں کے 184 طلباء کو ماہانہ 20 ہزار روپے کا اعزازیہ دیا جائے گا۔ جسکی ٹوٹل لاگت 37 لاکھ روپے کے قریب آئیگی۔ انہوں نے کہا پہلے مرحلے میں انکو ایک سال کے عرصے میں محکمہ تعلیم میں انٹرنشپ پر رکھا جائے گا جس کو بعد ازاں مزید ایک سال کی توسیع دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اس پروگرام کا دائرہ بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی پھیلایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت پسماندہ علاقوں کو مواصلات اور دیگر سہولیات کی فراہمی کیلئے خصوصی اقدامات کررہی ہے اور اس حوالے سے آواران ہوشاب روڈ پر جلد کام کا آغاز کیا جارہا ہے جبکہ تربت بلیدہ روڑ پر کام زور وشور سے جاری ہے انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کے مکمل ہونے کے بعد ڈنڈار کے طلباء کو ڈگری کالج ہوشاب اور بلیدہ کے طلباء کو تربت یونیورسٹی میں آنے جانے کے لئے حکومت کی جانب سے بس کے ذریعے ٹرانسپورٹ کی سہولیات فراہم کی جائینگی۔

دریں اثناء انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے نئے لیکچرر کی بھرتیاں جلد شروع کی جائینگی اور محکمہ تعلیم کے کلسٹر بجٹ میں اصلاحات لاکر ان کے استعمال کے طریقہ کار کو مزید آسان کیا جائیگا۔ اس دوران کمشنر مکران ڈویژن طارق قمر بلوچ نے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان اور وزیر خزانہ ظہور احمد بلیدی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ انکی کوششوں سے جنوبی بلوچستان پیکج کا آغاز کیا جارہا ہے جسکے شروع ہونے کے بعد بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کے لیے ترقی کی رائیں کھل جائیں گی۔

انہوں نے انٹرنشپ حاصل کرنے والے نوجوانوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ اب دو سال دل لگا کر بلوچستان کے طالب علموں کو پڑھائیں تاکہ وہ مستقبل میں بلوچستان کا نام ہر جگہ روشن کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے صرف عمارت کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ انسانی وسائل اور سکولوں میں تربیت کے نظام میں ہی درستگی لانے سے تعلیمی معیار میں صحیح معنوں میں بہتری لائی جاسکے گی۔

اس دوران ایڈیشنل ڈائریکٹر مانیٹرنگ ایولوشن سکولز منیر احمد نودزی اور ضلعی ایجوکیشن آفیسر عبدالغفور دشتی نے بھی صوبائی وزیر خزانہ ظہور احمد بلیدی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے تعلیم کے شعبے میں انکی گران قدر خدمات کو خراج تحسین پیش کیں۔ پروگرام کے آخر میں صوبائی وزیر خزانہ ظہوراحمد بلیدی، کمشنر مکران طارق قمر بلوچ،ڈی سی کیچ الیاس کبزء، ایڈیشنل ڈائریکٹر مانیٹرنگ ایولوشن سکولز منیر احمد نودزی اور ضلعی ایجوکیشن آفیسر عبدالغفور دشتی کی جانب سے مستحق طلباء میں انٹرنشپ آرڈرز تقسیم کیے گئے۔

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments