بلوچستان حکومت کا کوئٹہ میں موبائل فون سروس بند کرنے کا فیصلہ

سیکورٹی خدشات کے باعث کل صبح 8 بجے سے رات 9 بجے تک موبائل فون سروس بند رہے گی

muhammad ali محمد علی ہفتہ اکتوبر 22:34

بلوچستان حکومت کا کوئٹہ میں موبائل فون سروس بند کرنے کا فیصلہ
کوئٹہ (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اکتوبر2020ء) بلوچستان حکومت کا کوئٹہ میں موبائل فون سروس بند کرنے کا فیصلہ، سیکورٹی خدشات کے باعث کل صبح 8 بجے سے رات 9 بجے تک موبائل فون سروس بند رہے گی۔ تفصیلات کے مطابق سیکورٹی خدشات کی وجہ سے بلوچستان حکومت کی جانب سے کل بروز اتوار کو صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں موبائل فون سروس بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حوالے سے صوبائی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ کوئٹہ میں موبائل فون سروس صبح 8 بجے بند کی جائے گی، سروس رات 9 بجے تک بند رہے گی۔ موبائل فون سروس سیکورٹی خدشات کے باعث بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب سیکورٹی خدشات کے باعث بلوچستان حکومت نے اپوزیشن قائدین کے ہوٹل کی سکیورٹی بھی سخت کردی ہے، ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے کہا کہ پی ڈی ایم قائدین کو بلٹ پروف گاڑیاں بھی فراہم کی گئی ہیں، فول پروف سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں میں ایمرجنسی بھی نافذ کی جارہی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ کوئٹہ میں دفعہ 144عائد کی جا رہی ہے۔ ڈبل سواری پر پابندی عائد ہوگی۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی جارہی ہے۔ جلسے کیلئے فول پروف سیکیورٹی کے انتظامات کرلیے گئے ہیں۔ پی ڈی ایم کے قائدین کو بلٹ پروف گاڑیاں اور سیکیورٹی فراہم کردی گئی ہے۔ قائدین جس ہوٹل میں مقیم ہیں اسے مکمل کارڈن آف کردیا گیا ہے۔ اسی طرح چیف سیکرٹری کی زیرصدارت اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا، جس میں اپوزیشن کے جلسے سے متعلق انتظامات اور سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان نے دفعہ 144نافذ کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ دہشتگردوں کے کوئٹہ میں دہشتگردی کے امکانات ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں دہشتگردی تھریٹ کو سنجیدگی سے لے، جلسے کے باعث کورونا وائرس پھیلنے کے بھی خدشات ہیں۔ جلسے میں آنے والے قائدین اور شرکاء کو چاہیے کہ کورونا ایس اوپیز پر سختی سے عمل درآمد کریں۔ حکومت شرکاء کو ماسک بھی فراہم کرے گی۔ چیف سیکرٹری نے اپیل کی ہے کہ سکیورٹی خدشات ہیں اس لیے پی ڈی ایم کو چاہیے کہ جلسہ منسوخ کردیں۔

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments