وزیراعلیٰ بلوچستان سے وومن ٹی 20 کرکٹ لیگ کی کوریج کیلئے لاہور سے آئے ہوئے اسپورٹس جرنلسٹس کی ملاقات

جمعرات 29 جولائی 2021 23:08

وزیراعلیٰ بلوچستان سے وومن ٹی 20 کرکٹ لیگ کی کوریج کیلئے لاہور سے آئے ..
کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 جولائی2021ء) وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان سے وومن ٹی 20 کرکٹ لیگ کی کوریج کیلئے لاہور سے آئے ہوئے اسپورٹس جرنلسٹس نے یہاں وزیراعلی ہاؤس میں ملاقات کی۔ملاقات میں پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات محترمہ بشریٰ رند اور ڈی جی کھیل درا بلوچ بھی موجود تھے۔وفد میں سپورٹس جرنلسٹس اعجاز وسیم، عبدالقادر بشیر خواجہ، مخدوم محمد ابوبکر بلال، صبا ناصر، ہادیہ فیاض، بلال عقیل اور ارسلان جاوید شامل تھے۔

وزیراعلی نے صحافیوں کو حکومت کی جانب سے اسپورٹس کے شعبے کی ترقی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔وفد سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار وومن ٹی 20 کرکٹ لیگ کا انعقاد کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

جس میں پاکستان کی ٹاپ لیول کی خواتین کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ مقامی خواتین کرکٹرز بھی ٹورنامنٹ میں حصہ لے رہی ہیں۔

صحافیوں کی جانب سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ یہ ایونٹ پی سی بی کو کروانا چاہیے تھا۔اتنے بڑے ایونٹ میں پی سی بی کی عدم دلچسپی پر افسوس ہے اور چیئرمین پی سی بی اور دیگر حکام کو وومن ٹی 20 کرکٹ لیگ میں آنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ سلیکٹرز کو وومن کرکٹ لیگ کو دیکھنا چاہیے۔ اس ایونٹ سے بہترین کھلاڑیوں کی سلیکشن کی جا سکتی ہے۔

ماضی میں پی سی بی زیادہ فعال تھی وہ اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرے اور چیئرمین پی سی بی سنجیدگی سے سوچیں۔ وزیراعلی نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے بلوچستان کو ہمیشہ سپورٹ کیا ہے، یہاں کرکٹ کے فروغ کیلئے ان سے بات کریں گے۔ملک کے ہر کونے میں ٹیلنٹ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور حکومت بلوچستان کے مابین ایم او یو پر دستخط کیے ہیں، جس سے اسپورٹس کو فروغ ملے گا۔

اسپورٹس پر انویسٹمنٹ بلوچستان اور پاکستان کے لیے کر رہے ہیں۔ وزیراعلی نے کہا کہ بلوچستان میں ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام شروع کرنے جا رہے ہیں۔ حکومت 33 اضلاع میں اسپورٹس کمپلیکس تعمیر کر رہی ہے۔ہر ٹاؤن کے اندر فٹسال گراؤنڈ تعمیر کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گوادر اسٹیڈیم کو اپنے فنڈز سے بین الاقوامی سطح کا بنائیں گے۔اس موقع پر وزیراعلی سے صحافیوں نے مختلف سوالات بھی کیے

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments