کوئی بھی وزیر اعلی بلوچستان بنے قبول ہے لیکن جام کمال قبول نہیں، حکمران جماعت کے ارکان پھٹ پڑے

کسی صورت جام کمال کی حمایت نہیں کر سکتے، وزیراعلیٰ بلوچستان کیخلاف تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے کیلئے صادق سنجرانی کی سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں بے سود ہو گئی، ذرائع

Danish Ahmad Ansari دانش احمد انصاری جمعرات 16 ستمبر 2021 22:58

کوئی بھی وزیر اعلی بلوچستان بنے قبول ہے لیکن جام کمال قبول نہیں، حکمران ..
کوئٹہ (اُردو پوائنٹ، اخبار تازہ ترین، 16ستمبر 2021) کوئی بھی وزیر اعلی بلوچستان بنے قبول ہے لیکن جام کمال قبول نہیں، وزیراعلیٰ بلوچستان کیخلاف تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے کیلئے صادق سنجرانی کی سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں بے سود ، حکمران جماعت کے ارکان پھٹ پڑے ۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے کے لیے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی متحرک ہوگئے۔

صادق سنجرانی نے بلوچستان عوامی پارٹی کےرہنماؤں سےملاقات کی ہے، ملاقات میں وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے پر مشاورت کی گئی۔چیئرمین سینیٹ نے ناراض ارکان سے ذاتی حیثیت میں ملنے کا بھی فیصلہ کیا ۔ملاقات میں خالد مگسی،منظورکاکڑ، سرفرازبگٹی، عبدالقادر، احمدخان، نصیب اللہ بازئی سمیت دیگر اراکین شامل تھے۔

(جاری ہے)

تاہم چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کاوشیں اُس وقت ناکام ہو گئیں، جب حکمراں جماعت کے اراکین نے سخت الفاظ میں کہہ دیا کہ کوئی بھی وزیر اعلی بلوچستان بنے قبول ہے لیکن جام کمال قبول نہیں۔تاہم دوسری جانب کچھ اور ہی کہانی سامنے آئی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان سے حکومتی و اتحادی ارکان اسمبلی نے ملاقات کی اور وزیر اعلیٰ پر بھر پور اعتماد کا اظہار کیا۔

ملاقات میں ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی سردار بابر خان موسیٰ خیل ، صوبائی وزرا اور اتحادی جماعتوں کے اراکین شامل تھے۔ اراکین اسمبلی کا کہنا تھا کہ سیاست میں ناراضگی ہوتی رہتی ہے، ہم دوستوں کو منا لیں گے، وہ ہمارے ساتھ ہیں، اپوزیشن کو مایوسی ہوگی۔ خیال رہے کہ گزشتہ دنوں حزب اختلاف کے 16 ارکان نے وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی تھی۔

گزشتہ روز وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے اپنے خلاف جمع کروائی گئی تحریک عدم اعتماد کو یکسر نظر انداز کر دیا تھا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے اپنےخلاف تحریک عدم اعتماد پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ میری جماعت اوراتحادی میرے ساتھ ہیں تواپوزیشن سےفرق نہیں پڑتا۔ انہوں نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ الحمدللہ مجھے عدم اعتماد کی تحریک کی پرواہ نہیں ہے۔پارٹی اور اتحادیوں کے ساتھ نہ ہونے پر مجھے ایوان کا سربراہ ہونے کا حق نہیں ہوگا، جس دن میری جماعت اور اتحادیوں کی اکثریت نے عدم اعتماد کیا تو چلا جاوٴں گا۔

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments