قومی شناختی کارڈ کے حصول اور رجسٹریشن سے متعلق امور کو سہل بنانے کے لیے نادرا ڈیجیٹلائزیشن کی جانب گامزن ہے ،قاسم خان سوری

ہفتہ 16 اکتوبر 2021 17:01

قومی شناختی کارڈ کے حصول اور رجسٹریشن سے متعلق امور کو سہل بنانے کے لیے نادرا ڈیجیٹلائزیشن کی جانب گامزن ہے ،قاسم خان سوری
کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 16 اکتوبر2021ء) ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ قومی شناختی کارڈ کے حصول اور رجسٹریشن سے متعلق امور کو سہل بنانے کے لیے نادرا ڈیجیٹلائزیشن کی جانب گامزن ہے بلوچستان میں خواتین کو قومی شناختی کارڈ کے حصول سے متعلق مشکلات کا ازالہ کیا جاررہا ہے اور خواتین اسٹاف پر مشتمل خصوصی موبائل ٹیموں کے ساتھ ساتھ مقامی دفاتر میں بھی  خواتین اسٹاف کی تعیناتی کو یقینی بنایا جاررہا ہے یہ بات انہوں ہفتہ کو یہاں نادرا ڈبل روڑ آفس میں خواتین اسٹاف پر مشتمل پہلی موبائل رجسٹریشن وہیکل کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل نادرا بلوچستان میر عالم خان ہلال احمر بلوچستان کے چئیرمین عبدالباری بڑیچ ، پی ٹی آئی بلوچستان خواتین ونگ کی صدر زلیخہ مندوخیل ، پی ٹی آئی بلوچستان کے سیکرٹری اطلاعات آصف ترین و دیگر پارٹی عہدیدار اور نادرا حکام موجود تھے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ احساس پروگرام سمیت مصدقہ ڈیٹا مینجمنٹ میں نادرا کی خدمات کا اعتراف عالمی سطح پر کیا گیا ہے نادرا وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق عوام کو جدید سہولیات کی فراہمی کے لئے کوشاں ہے انہوں نے کہا کہ بہت جلد بلوچستان میں نادرا کا "میگا سینٹر " قائم کیا جائیگا ، جس سے عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی ممکن ہوگی انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں خواتین کو قومی شناختی کارڈ کے اجراء کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات قابل ستائش ہیں جس پر چئیرمین نادرا اور ڈی جی بلو چستان کی دلچسپی کو سراہتے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی خواتین کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرکے انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کررہے ہیں اور یہ بات واضح ہے کہ بلوچستان کی بہادر و پرعزم خواتین کی صلاحیتیں کسی بھی طور پر دیگر صوبوں کی خواتین سے کم نہیں،  قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ نادرا نے بلوچستان میں خوا تین کی سہولت کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں اور توقع ہے کہ سہولتوں پر مبنی ان اقدامات کا تسلسل بتدریج جاری رہے گا۔


کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments