ہمیں اغوا نہیں کیا گیا، بلوچستان کے لاپتہ ہونے والے ایم پی ایز منظر عام پر آ گئے

ہم عبدالقدوس بزنجو گروپ کا حصہ ہیں اور ان کے ساتھ رہیں گے۔ ناراض ایم پی ایز

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ 23 اکتوبر 2021 13:39

ہمیں اغوا نہیں کیا گیا، بلوچستان کے لاپتہ ہونے والے ایم پی ایز منظر عام پر آ گئے
کوئٹہ (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 23 اکتوبر 2021ء) : بلوچستان کے لا پتہ ایم پی ایز منظر عام پر آ گئے اور کہا کہ ہمیں اغوا نہیں کیا گیا تھا۔ مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں ظہور بلیدی نے لا پتہ ایم پی ایز کی ویڈیوبھی شئیر کی۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ دو روز سے لاپتہ بلوچستان اسمبلی کے 4 ارکان نے کہا کہ وہ اسلام آباد میں ہیں اور آج کوئٹہ واپس جائیں گے۔

ویڈیو میں لا پتہ ایم پی ایز نے کہا کہ ہم عبدالقدوس بزنجو گروپ کا حصہ ہیں اور ان کے ساتھ رہیں گے۔ لا پتہ اراکین اسمبلی نے اغوا ہونے کی خبروں کی بھی تردید کی۔
واضح رہے کہ اراکین صوبائی اسمبلی اکبر اسکانی، بشریٰ رند، ماہ جبین شیران اور لیالا ترین کا تعلق بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے ناراض گروپ سے ہے۔

(جاری ہے)

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق متحدہ اپوزیشن اور حکمران بلوچستان عوامی پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی-عوامی کے اراکین نے ناراض گروپ کے 4 ایم پی ایز کی گمشدگی کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ آئین کے تحت ہر شہری کی زندگی اور جائیداد کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔

گزشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بلوچستان اسمبلی کے چار ارکان کی گمشدگی کی مذمت کی تھی اور چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی تھی کہ وہ صورتحال کا نوٹس لیں۔ بلوچستان اسمبلی کے ناراض اور اپوزیشن اراکین نے مطالبہ کیا ہے کہ 24 گھنٹے کے اندر اندر ان کے لوگ بازیاب کروائے جائیں۔ گذشتہ روز لاپتہ رکن بلوچستان اسمبلی ماہ جبین شیران نے بھی ایک ٹویٹ کے ذریعے بتایا تھا کہ وہ کچھ ذاتی مسائل کی وجہ سے کل اسمبلی نہیں پہنچ سکی تھیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ الحمدللہ میں ٹھیک ہوں اور محفوظ ہوں۔ واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی مشکلات میں مزید اضافہ کرتے ہوئے 3 روز قبل بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کردی گئی تھی۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری 25 اکتوبر کو ہو گی۔

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments