وزیراعلیٰ جام کمال کے استعفے کی خبر میں کوئی صداقت نہیں، ترجمان بلوچستان حکومت

مجھے ابھی تک جام کمال کا استعفا نہیں موصول نہیں ہوا، گورنر بلوچستان نے بھی خبر کو بےبنیاد قرار دے دیا

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ 23 اکتوبر 2021 16:50

وزیراعلیٰ جام کمال کے استعفے کی خبر میں کوئی صداقت نہیں، ترجمان بلوچستان حکومت
کوئٹہ (اُردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 23 اکتوبر2021ء) ترجمان بلوچستان حکومت نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ جام کمال کے استعفے کی خبر میں کوئی صداقت نہیں، گورنر بلوچستان نے بھی خبر کو بےبنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ مجھے ابھی تک جام کمال کا استعفا نہیں موصول نہیں ہوا۔ تفصیلات کے مطابق ترجمان بلوچستان حکومت نے وزیراعلیٰ جام کمال کے استعفے کی خبر کی تردید کردی انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے مستعفی ہونے کی خبر میں کوئی صداقت نہیں، اس سے پہلے خبر تھی کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے تحریک عدم اعتماد آنے پر اپنا استعفا گورنر بلوچستان کو بھجوا دیا ہے۔

بتایا گیا کہ استعفے کی اطلاعات سے کچھ دیر قبل وزیراعلیٰ جام کمال سے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور وزیردفاع پرویز خٹک کی ملاقات بھی ہوئی، وزیراعلیٰ ہاؤس بلوچستان میں ہونے والی ملاقات میں جام کمال کے اتحادی اورچند ساتھی بھی موجود تھے۔

(جاری ہے)

ملاقات میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، وزیردفاع پرویز خٹک اور وزیراعلیٰ جام کمال کے درمیان موجودہ سیاسی بحران پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یاد رہے 20 اکتوبر کو اسپیکرعبدالقدوس بزنجو کی زیرصدارت ایوان کا اجلاس ہوا تھا، اجلاس میں رکن اسمبلی عبدالرحمان کھیتران نے وزیراعلیٰ جام کمال کے خلاف قرارداد پیش کی، قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ وزیراعلیٰ خود کو عقل کل سمجھتے ہیں اور تمام معاملات کو بغیر مشاورت چلا رہے ہیں، جام کمال کو خراب کارکردگی کی بناء پر عہدے سے ہٹایا جائے، بیورو کریٹس، طلباء، کسان سب سراپا احتجاج ہیں، ہمارے لیے ہر ادارہ قابل احترام ہے، کارکنان کو لاپتا کرنے سے ایوان نہیں چلے گا۔

تحریک کے حق میں 33 ارکان نے کھڑے ہوکر عدم اعتماد قرارداد کی حمایت کی۔ عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ ہمارے پانچ ارکان پارلیمنٹ لاپتا ہیں، تحریک پیش کر نے کی اجازت کیلئے 65 ارکان میں 20 کی حمایت ضروری ہے، لیکن تحریک کے حق میں33 ارکان اسمبلی نے کھڑے ہوکر حمایت کردی ہے۔ فیصلہ تو ہوگیا ہے تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی اجازت کو 33 ارکان کی حمایت مل گئی ہے، اس لیے وزیراعلیٰ جام کمال کو عہدے سے ہٹایا جائے۔

جام کمال کو وزارت اعلیٰ سے ہٹا کر اکثریت رکھنے والے امیدوار کو وزیراعلیٰ بنایا جائے۔ اجلاس میں بحث کے بعد اسپیکرعبدالقدوس بزنجو نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ 33 ارکان نے تحریک پیش کرنے کی حمایت کردی، تحریک کے حق میں مطلوبہ ارکان کی حمایت حاصل ہوگئی۔ لیکن تحریک عدم اعتماد کیلئے33 ارکان کی مطلوبہ تعداد کے باوجود وزیراعلیٰ جام کمال ڈٹ گئے، ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے کہا کہ آئینی طور پر ووٹنگ تین سے چار روز بعد ہوتی ہے، تین چار روز میں اپنے تمام ناراض ارکان کو منالیں گے، وزیراعلیٰ کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیں ہوگی۔

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments