سرکاری ہسپتال میں مریضوں سے لاکھوں روپے بٹورنے کا انکشاف

بلوچستان حکومت نے صوبائی بجٹ میں او پی ڈی سلپ پر پانچ روپے کی فیس کی وصولی ختم کردی تھی بی ایم سی میں او پی ڈی فیس کی وصولی کے معاملے کی انکوائری کرواؤں گا، سیکرٹری صحت بلوچستان کا اعلان

بدھ 26 جنوری 2022 22:15

کوئٹہ /اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 جنوری2022ء) بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے بولان میڈیکل کمپلیکس (بی ایم سی) اسپتال میں مریضوں سے او پی ڈی سلپ کے نام پر لاکھوں روپے کی رقم بٹورنے کا انکشاف ہوا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق بلوچستان حکومت نے صوبائی بجٹ میں او پی ڈی سلپ پر فیس ختم کردی تھی تاہم بی ایم سی میں مریضوں سے رقم وصول کی جا رہی ہے۔

اس حوالے سے سیکرٹری صحت بلوچستان نے انکوائری کرنے کا اعلان کردیا۔

(جاری ہے)

ہسپتال کے عملے کا کہنا ہے کہ ہمیں او پی ڈی سلپ پر پانچ، پانچ روپے وصول کرنے کا کہا گیا ہے۔بلوچستان حکومت نے صوبائی بجٹ میں او پی ڈی سلپ پر پانچ روپے کی فیس کی وصولی ختم کردی تھی، تاہم او پی ڈی فیس ختم کئے جانے کے باوجود بی ایم سی میں پچھلے چھ ماہ سے رقم وصول کی جارہی ہے۔بی ایم سی کا عملہ او پی ڈی فیس کے نام پر پچھلے سات ماہ کے دوران لاکھوں روپے وصول کرچکا ہے۔اس حوالے سے سیکرٹری صحت بلوچستان نور الحق بلوچ کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت تمام اسپتالوں میں او پی ڈی فیس ختم کرچکا ہے، میں بی ایم سی میں او پی ڈی فیس کی وصولی کے معاملے کی انکوائری کرواؤں گا۔

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments