ماحولیاتی آلودگی سے پاک قدرتی ماحول برقراررکنے کیلئے ماحولیاتی تحفظ ایکٹ 2012پر عمل درآمد یقینی بنایا جا ئے،احمد علی احمدزئی

سرکاری دفاترمیں میںخطوط کتابت کے بجائے جدید آئی ٹی نیٹ ورکینگ سٹم سے منسلک کرنے لیئے منصوبندی کی جائے ،صوبائی وزیر ماحولیات

منگل جنوری 22:07

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جنوری2018ء)صوبائی وزیر ماحولیات ،انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سائنسزپرنس احمد علی احمدزئی نے کہا ہے ماحولیاتی آلودگی سے پاک قدرتی ماحول برقراررکنے کیلئے ماحولیاتی تحفظ ایکٹ 2012پر عمل درآمد یقینی بنایا جا ئے اور سرکاری دفاترمیں میںخطوط کتابت کے بجائے جدید آئی ٹی نیٹ ورکینگ سٹم سے منسلک کرنے لیئے منصوبندی کی جائے ان خیالات کا اظہار انہوں نظامت ماحولیات کے ڈاریکٹریٹ میں سیکرٹری ماحولیات غلام محمد صابر اور ڈی جی ماحولیات کیپٹن (ر) محمد طارق،دائریکٹر محمد علی باطر،ڈائریکٹر غلام رسول جمالی،اورگرین فورس کے سربراہ حاجی رضوان علی نے بریفنگ دی ، بریفنگ میں صوبائی وزیر کو محکمہ ماحولیات کی جانب سے صنعتی ایریا میں ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام اور انوارمینٹل فرینڈلی سٹم کے حوالے سے اقدامات کیئے جا ئیں گے لسبیلہ میں آر سی شارع پر ایک لاکھ اور حب ڈیم کے قریب بھی ایک لاکھ درخت لگانے کی منصوبی بندی کر لی گئی ہے یہ ڈی جی خان سمینٹ فیکٹری کی معاونت سے ہے اس پراجیکٹ پر عنقریب کام شروع ہوگا گرین فورس کے حوالے سے ڈائریکٹر جنرل ماحولیات نے صوبائی بتایا کہ گرین فورس ہم نے صوبے نئی متحرک کروائی ہے اس سے محکمے کو بہت سے کامیابیاں بھی ملی ہیں اور جدیدسہولیات فراہم کرنے کے لیئے پی سی ون تیار کر لی گئی ہے اور ضروریات کے مطابق موٹر سائیکلیں ،گاڑیاں ،اور یونیفام بھی شامل ہیں ،ماحولیاتی قوانین کے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلا ف کا روائیاں کی گئی ان دو سالوں میں بہت کامیابیاں ملی 70 سے زائدسبزل روڑ کے گوداموں کوشہر سے نکالنے کیلئے ہائی کورٹ کے حکم پر سیل کیا گیا ،شہر کو صاف رکھنے کے لیئے پلاسٹک بیگ ایک بڑا مسئلہ تھا جو اب ہم نے بائیو ڈٖی گریبل متعارف کروایا جو کوئٹہ شہرمیں لیگل طریقے شاپینگ بیگز تیار کر رہی ہیں اس پر آگے بھی کام جارہی رہے گا پانی کو اوبال کر پینے کے لیئے ہم نے عوام الناس کی آگاہی دینے کے لیئے خصوصی مہم چلائیں گئیں ہیںہم نے محکمہ ماحولیات اور منیسٹری آف کلائمنٹ چینج کے تعائون سے سمینار بھی کر وائے گے ہیںتاکہ آنے والے وقت میں ماحولیاتی تبدیلی کا سامنا کر سکیں اس موقع پر صوبائی وزیر پرنس احمد علی نے ہدایت جار ی کی ماحولیات تحفظ ہر طرح سے بر قرار رکھا جا گا 2012کے ایکٹ کے تہت قوانین کا اطلاق یقینی بنایاجا ئے وند میں آسی ڈی شارع کے اطراف میں واقع فش کیچپ ملز کو آبادی سے دور منتقل کیا جا ئے پولٹری فارم اور پولٹری فیڈ تیار فیکٹر یوں چیکنگ کی جا ئے ،گڈانی شپ بریکنگ یادڑ کی بہتری کے لیئے ناکارہ بحری جہازوں کی کٹائی سے قبل گیس فری سرٹیفکیٹ پر علمدآمد کو یقینی بنا یا جا ئے شپ بریکنگ یارڈ کی صنعت ملک میں ایک اچھی صنعت مانی جائی گزشتہ سال سانحہ گڈانی کے واقعات میں المناک حادثے کی اس صنعت کو کافی نقصان پہنچا ئے تیل والے بحری جہازوں کو گڈانی لانے پہلے دبئی میں سروس کے بعد گڈانی میںمیں کٹائی عمل کیا جا ئے،لیبر کے لیئے برن سینٹر ایک ہسپتال بھی لازمی ہے موسمیاتی تبدیلی سے آنے والے وقتوں کا سامنا کر سیکیں اسپرے بنانے والی فیکٹریوں میں الکول سے پاک رکھا جا ئے جواس انسانی صحت کے لیئے نقصان دہ ہے ان اسپرے بنانے والی فیکٹریوں میں فری( سی ایف سی )بنا یا جا ئے شہر میں گندے پانی سے کاشت ہو نے والی سبزیوں کی روک تھام بھی لازمی جو انسانی جسم تحقیق کے مطابق میں مختلف خطرناک بیماریاں پیدا کر رہی ہیں

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments