جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال کے زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کا انعقاد

جمعہ فروری 19:57

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 فروری2018ء) جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال کے زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں جامعہ کے رجسٹرار محمد طارق جوگیزئی، کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر عبدالمالک ترین، ڈی جی انجینئرنگ محمد فاروق بادینی، ڈاکٹر وحید نور، ڈاکٹر کلیم اللہ مندوخیل اور دیگر متعلقہ افیسران بھی موجود تھے۔

اجلاس میں صوبے کے مختلف علاقوں میں یونیورسٹی سب کیمپسز کے قیام، تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز، بی ایس ڈگری پروگرام، قلعہ سیف اللہ میں یونیورسٹی سب کیمپس کا آغاز، انفراسٹکچر کے اصول اور دیگر معاملات کا جائزہ لیا گیا۔ وائس چانسلر نے اس موقع پر کہا کہ یونیورسٹی سب کیمپس قلعہ سیف اللہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے چیف جسٹس بلوچستان، گورنر بلوچستان کی مرون منت ہے۔

(جاری ہے)

جن کی کاوشوں اور تعاون سے قلعہ سیف اللہ میں یونیورسٹی سب کیمپس میں ڈگری پروگرام کا انعقاد کیا جائے گا۔ جو کہ اپریل، مئی2018میں باقاعدہ طور پر تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور صوبے کے مختلف علاقوں میں یونیورسٹی سب کیمپسز کے قیام کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مختلف منصوبوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جارہا ہے تاکہ صوبے کے طلبہ کو اپنے اپنے علاقوں میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع مہیا کی جاسکیں۔

انہوں نے کہا کہ جامعہ کے پہلے مرحلے میں خاران، پشین اور مستونگ کے سب کیمپسز کامیابی سے اپنے تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کیونکہ جامعہ ایک مادر علمی درسگاہ ہے اور وہ اپنی زمہ داریوں کو نباتے ہوئے صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے لئے کوشاں ہے۔ کیونکہ گلوبلائزیشن دور کے تقاضوںکا تعین ہے کہ ترقی اور دنیا کے ساتھ چلنے کے لئے تعلیم اور تحقیق کو اپنا نصب العین بنانا چائیے۔

اور جامعہ اپنے حصولوں پر کاربند رہتے ہوئے اپنے محدود وسائل میں صوبے میں اپنا مثبت کردار ادا کررہی ہے اور انشاء اللہ مستقبل میں ان تعلیمی منصوبوں کے دور رس نتائج برآمد ہونگے۔بعدازاں وائس چانسلر نے یونیورسٹی میں نئے کیفیٹریا کا افتتاح کیا اور ان کے انظامات ، صفائی، سھترائی کو سراہا اور تلقین کی کہ معیارپر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اشیاء خوردنوش اور صفائی و ستھرائی کا وقتاًً بوقتاًً جائزہ لیا جائے گا۔

متعلقہ عنوان :

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments