کوئٹہ میں دل اور شوگر کی بڑھتی ہوئی بیماریوں کی روک تھام کیلئے ضروری اقدامات اور آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے،مقیم ماہر کارڈیولوجسٹ ڈاکٹر سہیل خان

منگل جون 23:54

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 11 جون2019ء) کوئٹہ میں دل اور شوگر کی بڑھتی ہوئی بیماریوں کی روک تھام کیلئے ضروری اقدامات اور آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے دل کے مریضوں کی زیادہ تعداد30سی35سال کے درمیان ہے جبکہ شوگر کے مریضوں کی ٹانگوں میں خون کی رکاوٹوں کو دور کرکے مریض کی ٹانگ کٹنے سے بچائی جاسکتی ہے حکومت اگر لوکل سطح پر امداد اور اقدامات کرے تو بڑی تبدیلی لائی جاسکتی ہے ان خیالات کا اظہار امریکہ میں مقیم ماہر کارڈیولوجسٹ ڈاکٹر سہیل خان نے منگل کو سول ہسپتال میں ڈاکٹرز کی تربیتی نشست سے خطاب کے دوران کیا اس موقع پر انہوں نے اپنی جانب سے سول ہسپتال کے شعبہ امراض قلب کیلئے ایک کروڑ روپے مالیت کے طبی آلات بھی متعلقہ حکام کے حوالے کئے جن سے استفادہ کرکی70مریض جلد صحت یاب ہوسکیں گے جبکہ ڈاکٹرز کی تربیت کیلئے اگلے سال تربیتی ورکشاپ بھی منعقد کی جائے گی تربیتی پروگرام میں ڈاکٹرز کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر سہیل خان کا کہنا تھا کہ شوگر پاں میں ہو تو اس کا اثر جسم ، ٹانگوں پر بھی چلا جاتا ہے دل اور ٹانگوں کی شریانیں آپس میں ملتی ہیں اگر ٹانگوں کے خون میں رکاوٹ ہوگی تو دل کی بیماری کا احتمال بڑھ جاتا ہے اس لئے اس کے ٹیسٹ کرانا ضروری ہیں انہوں نے کہا کہ اس لیکچر کا مقصد یہ تھا کہ ٹانگ کو کاٹنے سے پہلے چیک کیا جائے کیونکہ ٹانگ کٹ جائے تو انسان بے وقعت ہو کر رہ جاتا ہے اسی طرح دل کے مریض جو زیادہ تر 30سی35سال کے درمیان ہیں کو آگاہی کی بھی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ مریضوں کیلئے طبی آلات عطیہ کئے ہیں حکومت اگر اس جانب توجہ دے تو دل اور شوگر کے مریضوں کی حالت بدل جائے گی اور انہیں30سے 40ہزار روپے خرچہ جو ماہانہ گھریلو اخراجات ہیں طبی آلات کے حوالے سے بچ جائیں گے سول ہسپتال کوئٹہ کے کارڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر پروفیسر مجیب اللہ ترین نے کہا کہ ٹیسٹ کراکے ٹانگوں کی بیماری سے لاکھوں لووگوں کو بچایا جاسکتا ہے اس کیلئے آگاہم مہم چلائی جائے انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر پروفیسر سہیل خان نے جو طبی آلات دیئے ہیں وہ دل کے شعبے کی70مریضوں کے زیر استعمال ہیں جس پر ہم ان کے مشکور ہیں۔

متعلقہ عنوان :

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments