صوبے میں تبدیلی کیلئے اختر مینگل سے رابطہ کرسکتے ہیں،مولانا عبدالواسع

حکومت مخالف ملین مارچ 28جولائی کو کوئٹہ میں ہوگا جس سے مولانا فضل الرحمان خطاب کرینگے، رکن قومی اسمبلی

بدھ جولائی 23:13

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 17 جولائی2019ء) جمعیت علما ء اسلام کے صوبائی امیر اور رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ حکومت مخالف ملین مارچ 28جولائی کو کوئٹہ میں ہوگا جس میں جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان خطاب کرینگے ، ملین مارچ کی تیاریاں عروج پر ہیں یہ ملک کی تاریخ میں سب سے بڑا تاریخی ملین مارچ ہوگاصوبے میں تبدیلی کے لیے اختر مینگل سے رابطہ ممکن ہے ریکوڈک معاہدہ منسوخی پر جرمانے کے وہ لوگ ذمہ دار ہیں جنہوں نے معاہدہ کیا بلوچستان میں حکومت دینے کے لیے راتوں رات سیاسی جماعت بنائی گئی ریکوڈک معاہدہ منسوخ کرنے پر چھ ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا جس کو ہم کسی بھی صورت ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں معاہدہ منسوخی کا مقدمہ پاکستان کے حق میں جارہا تھا جمعیت علماء اسلام اور رئیسانی حکومت کو ہزارہ برادری پرٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں کے باعث ختم نہیں کیا بلکہ ہماری حکومت کو ریکوڈک کے معاہدے کی بنیاد پر ختم کر دیا گیا سی پیک منصوبے سے پاکستان مستفید ہورہا ہے سی پیک کے تحت بلوچستان میں ایک اینٹ تک نہیں لگائی جا سکی ان خیالات کا اظہار انہوں نے بروری روڈ پر واقع مدرسہ دارالعلوم میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا آغا محمود شاہ ،ضلع کوئٹہ کے امیرمولانا عبدالرحمان،مولوی کمال الدین،سید مطیع اللہ آغا،حاجی نواز کاکڑ بھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت میں بلوچستان پر چھ ارب جرمانہ ملی بھگت سے لوٹٹے کے مترارف ہے سی پیک منصوبہ گوادر کی وجہ سے آیا وزیر اعظم کے ساتھ طے ہوا تھا کہ مغربی روٹ پہلے بنے گا سی پیک کا کوئی منصوبہ تاحال بلوچستان میں شروع نہیں ہوا ریکوڈک منصوبے کو صوبائی کابینہ نے مسترد کیا تھا جے یو آئی نے تجویز دی تھی کہ بلوچستان کو 25 فیصد حصہ دیا جائے رئیسانی حکومت میں ریکوڈک کا کیس عدالت میں ہمارے حق میں تھا قوم پرستوں کو حکومت اسلئے دی گئی کہ جے یو آئی ریکوڈک کا دفاع کر رہی تھی قوم پرستوں کی حکومت اور عالمی مافیا نے ملکر ریکوڈک کیس کو جان بوجھ کر ہارے عالمی عدالت کی جانب سے جرمانے کو جے یو آئی نہیں مانے گی ریکوڈک پرانی کمپنی کو دینے کی سازش ہورہی ہے انہوں نے کہاکہ ریکوڈک اور بلوچستان کے وسائل لوٹنے کی کسی کو اجازت نہیں دینگے موجودہ حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے 28 جولائی کو تاریخی ملین مارچ ہوگا ملین مارچ میں بلوچستان کے ساتھ مظالم پر بھی آواز بلند کی جائے گی 25 جولائی کو آل پارٹیز کے یوم سیاہ میں بھر پور شرکت کرینگے ریکوڈک کا مقدمہ بلوچستان جیت رہا تھا یہ کیسے ہوا تحقیقات ہونی چاہیے چیئر مین سینیٹ کے خلاف تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوگی ریکوڈک کیس ہارنے کے زمہ دار وہی قوتیں ہیں جنہوں نے معاہدہ کیا تھا مولانا فضل الرحمن کے خلاف نیب کی کاروائی محض دھمکی ہے مولانا عبدالواسع نے کہا کہ گودار ہے تو سی پیک ہے سی پیک سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے سی پیک کے تحت بلوچستان میں ایک اینٹ تک نہیں لگائی جا سکی گزشتہ حکومت نے سی پیک کے مغربی روٹ کو ترجیح دی ریکوڈک معاہدہ منسوخ کرنے کا سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا معاہدہ منسوخی کا مقدمہ پاکستان کے حق میں جا رہا تھا ہماری حکومت ختم ہی ریکوڈک معاہدے کی وجہ سے کی گئی ریکوڈک معاہدہ منسوخ کرنے کے مقدمے میں عالمی مافیا کو فائدہ پہنچایا گیا مقدمہ ہارنے میں ہمارے حکمرانوں کا ہاتھ ہے اب مزاکرات کا کہا جا رہا یہ ملی بھگت ہے ہم 6 ارب ڈالر ہرجانہ مانتے ہیں نہ مذاکرات کرینگے ہم دنیا کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں اپنی زمین فروخت کی اجازت نہیں دینگے انہوں نے کہا کہ ملین مارچ میں ہر طبقے کے لوگ شرکت کریں گے ملین مارچ کے بعد بلوچستان میں بڑی تبدیلی ممکن ہے صوبے میں تبدیلی کے لیے اختر مینگل سے رابطہ ممکن ہے جمہوریت کے لیے جدوجہد میں چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی شامل ہے انہوں نے کہا کہ پارٹی قائد مولانا فضل الرحمن پر دباو ڈالنے کی کوشش ناکام ہوگی مولانا فضل الرحمن واحد لیڈر ہیں جو نیب کو کہتے ہیں آو مجھے گرفتار کرو۔

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments