افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سمگلنگ کیلئے استعمال ہو رہا ہے، سرفراز احمد وڑائچ

ٹرانزٹ ٹریڈ کے کنٹینرز اندرون ملک ہی میں کھولے جا نے کی اطلاعات ہیں جس کی حتمی تحقیقات کیا جانا ضروری ہیں،ڈی جی ٹرانزٹ ٹریڈ کراچی

بدھ جولائی 23:43

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 جولائی2019ء) وزیراعظم عمران خان کی ہدائت پر افغان ٹرانزٹ ٹرید کے غلط یا درست استعمال کا جائزہ لینے کیلئے ایف بی آر کی اعلی سطحی حکومتی ٹیم چمن پہنچ گئی۔ تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹرجنرل ٹرانزٹ ٹریڈ کراچی سرفراز احمد وڑائچ ڈائریکٹر ٹرانزٹ ٹریڈ کوئٹہ عرفان الرحمان خان ایڈیشنل ڈائریکٹر محمداسماعیل اور دیگر اعلی سطحی وفد نے گزشتہ روز افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سے متعلق چمن کا دورہ کیا ۔

وفد افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی سرگرمیوں سے متعلق چمن کسٹم ہاوس اور باب دوستی بھی گئے ان کے ہمراہ تاجر برادری بھی تھے بعد میں چمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر عمران خان کاکڑ کی زیر صدارت ایک اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا ۔اجلاس میں ٹرانزٹ ٹریڈ سے منسلک تمام کلیرینگ ایجنٹس بھی شرکت کی اس موقع پر ڈی جی ٹرانزٹ ٹریڈ سرفراز احمد وڑائچ نے چمن میں کسٹم اسٹاف اور اور کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس کو افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سے متعلق تجارتی حجم بڑھانے پر داد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی معیشت میں ٹریڈرز اور کسٹم لازم وملزوم ہے ۔

(جاری ہے)

اجلاس میں ڈی جی نے وزیراعظم عمران خان اور ایف بی آر کی جانب سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے غلط استعمال اور اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اسمگلنگ کیلئے استعمال ہو رہا ہے ڈی جی نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا کہ ٹرانزٹ ٹریڈ کے کنٹینرز اندرون ملک ہی کھولیجا نے کی اطلاعات ہے جس کی حتمی تحقیقات کیا جانا ضروری ہے جس پر چمن چیمبر آف کامرس اور کلیرنگ ایجنٹس نے موقف اختیار کیا کہ پہلے تو تمام ٹرانزٹ کنٹینرز پر ٹریکرز سسٹم نصب کیا جا چکا ہوتا ہے جس کے بناء پر کراچی پورٹ سے افغان کسٹم ہاوس تک ان تمام کنٹینرز کی مانیٹرینگ کی جاتی ہے جس سے ہر ایک کنٹینر کا لوکیشن معلوم ہوتا ہے جبکہ کہیں بھی کنٹینر کو حادثہ ہوتو بھی کراچی پورٹ پر پتہ چل جاتا ہے جس کی وجہ سے کنٹینرز کے پاکستان میں کھولے جانے کی خدشات غلط ہے تاجروں نے اجلاس میں موقف اختیار کیا کہ چونکہ افغانستان میں کسی قسم کی صنعت نہیں ہے اور نہ ہی کپڑے کا کوئی کارخانہ ہے جس کی وجہ سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں جس ملک کا بھی کپڑا جاتا ہے وہ واپس پاکستان نہیں آتا کیونکہ افغانستان میں خود بھی کپڑے کی اشد ضرورت ہوتا ہے اجلاس میں تاجر گروپ نے انکشاف کیا کہ چالیہ پر پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک میں پابندی ہے اور چالیہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا حصہ بھی نہیں ہے تو پھر کراچی کا جوڑیا بازار چالیہ سے بھرا پڑا ہے یہ کہا سے آرہا ہے حکومت جو بھی فیصلہ کرے پہلے زمینی حقائق کا جائزہ لے جس پر ایف بی آر وفد حیرت ذدہ رہ گیا کی حکومتی وفد نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ایران پر امریکی پابندیوں کے بعد افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پاکستان منتقل ہو چکا ہے جو کہ کراچی پورٹ سے افغانستان کو اپریٹ کرتا ہے ٹرانزٹ ٹریڈ سے خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں روزگار کے وسیع پیمانے پر مواقع فراہم ہو چکے ہیں جو کہ خوش آیند بات ہے اس موقع پر تاجروں کا کہنا تھا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سے پاکستانی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہورہے ہیں مستقبل میں وسط ایشیاء کیلئے گوادر اور کراچی پورٹس ٹریڈ کے بنیادی مرکز بنے گے تاجروں کا کہنا تھا کہ بھارت اور ایران کی کوشش رہی ہے کہ چابہار پورٹ کو فوری طور پر سنٹرل ایشیاء کیلئے اپریٹ کریں اگر افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں رکاوٹیں ڈالی گئی تو ٹریڈ ایک بار پھر سے چاہ بہار پورٹ منتقل ہو جائے گا جو پاکستانی معشیت اور روزگار پر منفی اثر پڑے گا اجلاس میں ٹرانزٹ ٹریڈ کے متعلق تمام پہلووں کو جائزہ لیا گیا جس میں کسی بھی قسم کی اسمگلنگ یا کرپشن کے آثار نہیں پائے گئے ٹرانزٹ ٹریڈ کی مد میں حکومت پاکستان کو ماہانہ اور سالانہ سروسیز ، سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کے مد میں کروڑوں روپے جمع ہوتے ہے تاجروں کیمطابق جائزہ اجلاس میں ٹرانزٹ ٹریڈ سے متعلق خدشات غلط ثابت ہوئے جبکہ جائزہ ٹیم نے تمام معلومات اور رپورٹ مرتب کرکے جلد ہی وزیر اعظم کو پیش کیا جائے گا۔

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments