بلوچستان میں فیس بک اور وٹس ایپ کے ذریعے اخبار کی اشاعت سے بے روزگاری میں اضافہ ، ہاکر برادری کو بھی سخت پریشانی کا سامنا

منگل فروری 00:12

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 17 فروری2020ء) بلوچستان میں فیس بک اور وٹس ایپ کے ذریعے اخبار شائع ہونے کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ، ہاکر برادری بھی سخت پریشانی کا سامنا کرر ہے ہیںاور ان کے گھروں چولہے بجھ گئے ہیں انہوںنے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک زمانہ ہوتا تھا کہ جب لو گ فیس بک اور وٹس ایپ کے ذریعے اخبارات شائع نہیں کرتے تھے تو اخبارات میں بھی زیادہ تر فروخت ہوتے تھے جبکہ اب یہ سلسلہ پسماندہ علاقوںمیں بھی غیر فعال ہوگیا ہے اس سلسلے میں محکمہ تعلقات عامہ بلوچستان نے بھی اخبارات کی پی ڈی ایف کو ضروری بنانے اور بھیجنے کے عمل کو ضروری قرار دیدیا ہے جس کے بعد اخباری مالکان نے ویب سائٹ اور فیس بک پر اخبارات شائع کرنا شروع کردیا جسکی وجہ سے ہاکر برادری کو سخت پریشانی کا سامنا ہے اور انہوںنے ڈی جی پی آر سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ اخباری مالکان کو ہدایت کریں کہ وہ اخبار کو سوشل میڈیا پر شائع نہ کریں اور سوشل میڈیا کی بڑھی رجحان کے باعث پاکستان سمیت بلوچستان بھر کے بڑے بڑے اخبارات کے سر کولیشن نہ ہونے کے برابر ہے جسکی بڑی وجہ انکے اپنے اخبارات سوشل میڈیا پر شائع کرنا ہے اسلسلے میں ہاکر برادری نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر جام کمال عالیانی سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ متعلقہ محکمہ کو ہدایت دیں کہ وہ اخبار کو بذریعہ سوشل میڈیا وصول نہ کریں اور اخبارات کو دفاتر طلب کریں۔

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments