بلوچستان کو خودمختار اکائی کی حیثیت نہ دینے والے صوبے کو تقسیم کرنے کی سازش کررہے ہیں، نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی

ریاست صوبے کے سیاسی امور میںمداخلت بند کرکے بلوچستان کے وسائل صوبے کی دسترس میں دے صوبہ خود ترقی کرے گا ، مرکزی رہنماء بلوچستان نیشنل پارٹی

ہفتہ ستمبر 00:02

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 18 ستمبر2020ء) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کو خودمختار اکائی کی حیثیت نہ دینے والے صوبے کو تقسیم کرنے کی سازش کررہے ہیں ۔ریاست صوبے کے سیاسی امور میںمداخلت بند کرکے بلوچستان کے وسائل صوبے کی دسترس میں دے صوبہ خود ترقی کرے گا ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز بین الاقوامی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے وزیراعظم کے حالیہ دورہ کوئٹہ سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے دورہ کوئٹہ کے موقع پر بلوچستان کے تمام وسائل صوبے پر خرچ کرنے کے روایتی جملے دوہراتے ہوئے زبانی جمع خرچ کیا پارلیمنٹ کے بنائی اٹھارویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد نہ کرکے صوبے کے وسائل غصب کرکے باہر سے وسائل لانے کے دعوئے کئے جارہے ہیں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر اسد عمر نے مکران کا فضائی دورہ کرکے جنوبی بلوچستان کی ترقی کے دعوئے کئے جو اس بات کی عکاسی ہے کہ ایک خاص ذہنیت بلوچستان کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی بہت بڑی سازش کررہی ہے ۔ سات دہائیوں سے بلوچستان کو باقاعدہ طور پر خودمختارر اکائی کی حیثیت نہ دینے والوں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ یہاں ایک کنٹرول جمہوریت ہو جس کیلئے حقیقی سیاسی قیادت کا راستہ د ھاندلی کے ذریعے روکا جاتا ہے ۔

ریاست نے کبھی بلوچستان کے تمام وسائل صوبے پر خرچ نہیں کئے البتہ صوبے کے وسائل معدنیات پر قبضے کو دوام دینے کیلئے صوبے کے سیاسی امور میں مداخلت کی ہے اور آج بھی مداخلت ہورہی ہے جس کی واضح مثال حلقہ این ای265 کے انتخابات ہیں نادرا کی رپورٹ اور الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے باجود ڈھائی سال گزرنے کو ہیں کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا ہونا تو چائیے تھا کہ حلقہ میں دوبارہ انتخابات کرائے جاتے مگر افسوس کہ 2018ء کے انتخابات کے نتائج آنے پر سیکورٹی اہلکاروں نے جعلی طریقے سے جیتنے والے شخص کے گھر کے باہر ہوائی فائرنگ کرکے خوشی کا اظہار کیا جس کا مطلب ہے کہ ریاست بلوچستان کے سیاسی امور میں فریق ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں نوابزادہ لشکری رئیسانی نے کہا کہ صوبائی حکومت سلیکٹڈ لوگوں کا گروہ ہے جنہیں خاص مقصد کیلئے لایا گیا ہے حیات بلوچ کی شہادت کے بعد صوبائی حکومت میں شامل کسی ایک سیاسی جماعت نے بہیمانہ قتل پر آواز نہیں اٹھائی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ عوام کے نہیں ایک خاص ذہنیت اور پالیسی کی نمائندگی کررہے ہیں

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments