بلوچستان اسمبلی ، فرانس میں گستاخانہ خاکوں کیخلاف متفقہ مذمتی قرارداد منظور

پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ کی شان میں گستاخی عالمی سطح پر تعصب اور نسل پرستی کو ہوا دینے کی سازش ہے،عالمی برادری اور ذمہ دار اداروں کونوٹس لیناچاہیے،صوبائی وزیرداخلہ

پیر اکتوبر 23:36

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 26 اکتوبر2020ء) بلوچستان اسمبلی میں فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف متفقہ مذمتی قرارداد منظور کرلی گئی ۔پیر کے روز بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں صوبائی وزراء و حکومتی اراکین میرضیاء اللہ لانگو،میرعارف محمدحسنی ،میرظہوراحمدبلیدی ،نورمحمددمڑ،عبدالخالق ہزارہ ،مبین خلجی اور قادر علی نائل مشترکہ مذمتی قرار داد ایوان میں پیش کرتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ میرضیاء اللہ لانگو نے کہاکہ گزشتہ دنوں فرانس کے دارالخلافہ پیرس کے نواحی علاقے میں پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ کی شان میں گستاخانہ خاکے رکھایاجانا نہ صرف قابل مذمت بلکہ فرانس میں باربار گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور ترویج مسلم امہ کیلئے ناقابل برداشت عمل ہے علاوہ ازیں افسوسناک اور قابل حیرت کردار فرانس کے صدر کی جانب سے آیاہے جو انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے گستاخانہ کو اظہار رائے کی آزادی کانام دے کر اس کا دفاع کیا گیا جس کی وجہ سے مسلم دنیا کی نہ صرف دل آزاری ہوئی ہے بلکہ مسلم امہ میں شدید تشویش پائی جاتی ہے یہ کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں توہین مذہب کے لئے اظہار رائے کی آزادی کاسہارا لے کر طویل عرصے سے مسلمانوں کی دل آزاری کا سلسلہ جاری ہے ،پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ اور مذہب کی شان میں گستاخانہ عمل عالمی سطح پر تعصب اور نسل پرستی کو ہوا دینے کی سازش ہے جس کاعالمی برادری اور ذمہ دار اداروں کونوٹس لیناچاہیے یہ کہ دنیا میں آباد مسلمان کسی صورت اپنے آقا محمدﷺ کی شان میں توہین برداشت نہیں کرسکتے۔

(جاری ہے)

لہٰذا یہ ایوان فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی مسلسل ترویج اور فرانسیسی صدر کے غیر ذمہ دارانہ ریمارکس کانہ صرف شدید الفاظ میں مذمت کرتاہے کہ بلکہ وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتاہے کہ وہ او آئی سی اور اقوام متحدہ میں یہ معاملہ اٹھائیں تاکہ مستقبل میں اسلام دشمن طرز عمل کاراستہ روکاجاسکے اپوزیشن لیڈر ملک سکندرایڈووکیٹ نے تجویز دی کہ یہ ایک انتہائی اہم مسئلے پر مبنی قراردادہے اسے ایوان کی مشترکہ قرارداد کے طورپر منظور کیاجائے بعدازاں ایوان نے قرارداد کو متفقہ طورپرمنظورکرلیا

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments