بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا

پیر اکتوبر 23:36

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 26 اکتوبر2020ء) بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے سپیکر میر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت شروع ہوا ۔ اجلاس میں بی این پی کے اختر حسین لانگو نے اپنا توجہ دلائو نوٹس پیش کرتے ہوئے وزیر محکمہ مال کی توجہ گوادر کی اراضیات کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ صدر الدین ہاشوانی کو گوادر میںساڑھے تین سو ایکڑ اراضی الا ٹ کی گئی ہے جبکہ مذکورہ الاٹ کردہ اراضی گوادر ماسٹر پلان کا حصہ ہے اس کے باوجود مذکورہ زمین کسی شخص کو الاٹ کرنے کی کیا وجوہات ہیں ۔

وزیر مال میر سلیم کھوسہ نے کہا کہ مذکورہ اراضی کی الاٹمنٹ کینسل کردی گئی ہے یہ اراضی اب بلوچستان حکومت کی ملکیت ہے ۔ جس پر صوبائی وزیر مال سلیم کھوسہ نے کہا کہ 2005ء میں صدر الدین ہاشوانی کو ایک ہزار ایکڑ کے قریب زمین الاٹ ہوئی تھی انہوںنے 600ایکڑ اراضی کی رقم جمع کرائی جبکہ 2012ء میں وہ باقی اراضی کی رقم جمع کرانے آئے تو اس وقت تک معیاد ختم ہوچکی تھی انہوںنے کہا کہ ابھی عدالت کے فیصلے کے مطابق یہ الاٹمنٹ کینسل ہوگئی ہے یہ اہم زمین تھی جو گوادر ماسٹر پلان کا حصہ ہے اس اس پر اب نئے منصوبے شروع کئے جائیں گے ۔

(جاری ہے)

صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی نے کہا کہ ایس ایم بی آر کو عدالت کی حیثیت حاصل ہے ابھی اگر زمین کی الاٹمنٹ کینسل ہوئی ہے تویہ بھی حکومت ہی کے کہنے پر کینسل ہوئی ہے جب سے گوادر میں پورٹ بننے کا اعلان ہوا تب سے ملک بھر سے اسٹیٹ ایجنٹس نے گوادرکا رخ کیا اور اونے پونے داموں مقامی لوگوں سے زمینیں حاصل کرکے آگے فروخت کیں انہوںنے کہا کہ گوادر کے اصل مالک ماہی گیر ہیںجن کے پاس اپنے گھر کے علاوہ ایک فٹ زمین بھی نہیں ان کی گزر بسر مچھلیاں پکڑ کر انہیں فروخت کرنے پر ہے انہوںنے کہا کہ گوادر میں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے جا کر پٹواریوں کے ساتھ مل کر یا دیگر ذرائع سے زمینیں الاٹ کی ہیں صوبائی وزیر تعلیم سردار یار محمد رند نے زمینوں کی الاٹمنٹ کو اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے موجودہ حکومت پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں وزیراعلیٰ اور وزیر ریونیو سے استدعا ہے کہ وہ اس مسئلے کو اسمبلی میں زیر بحث لائیں اور جو سفارشات آئیں ان پر عمل کیا جائے گوادر کی اراضی کسی ایک شخص کی ملکیت نہیں وہاں کے مقامی لوگ اورصوبے کے عوام کی ملکیت ہے ۔

اختر حسین لانگو نے کہا کہ مذکورہ اراضی گوادر ماسٹر پلان کا حصہ ہے جس کی قیمت پانچ کروڑ روپے سے 20کروڑ روپے فی ایکڑ ہے تاہم ا350ایکڑ اراضی پرانے ریٹ پر فی ایکڑ ایک لاکھ بیس ہزار روپے میں حکومت نے دی ہے اس میں حکومت کی بد نیتی شامل ہے اور ہمارے سننے میں آیا ہے کہ مذکورہ اراضی حکومت کی اہم شخصیت کی ہدایت پر الاٹ کی گئی ہے کیونکہ اس کے رشتہ دار کے مذکورہ گروپ میںشیئرز ہیں حکومت نے گوادر ماسٹر پلان کو نظر انداز کرکے الاٹ کی گئی ہے ۔

بی این پی کے حمل کلمتی نے کہ گوادر میں ایک انچ بھی سرکار کی زمین نہیں یہ زمین مقامی زمینداروں اور غریب لوگوں کی ہے جو آج بھی پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کے لوگوں کو کوئی پوچھتا تک نہیں اب جب گوادر پورٹ بنا ہے تو گوادر کو سب پوچھنے لگے ہیں ۔ قائد حزب اختلاف ملک سکندر ایڈووکیٹ نے کہا کہ ان سیٹل اراضیات کی الاٹمنٹ نہیں کرسکتی نہ ہی اس پر کوئی فیصلہ ہوسکتا ہے زمینوں کی الاٹمنٹ سے متعلق کمیٹی بنائی جائے تاکہ اس مسئلے کو ہمیشہ کے لئے حل کیا جائے

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments